ویب ڈیسک —
بیلاروس کی سپرنٹر کرسٹینا تسمانوسکایا نے گوگل ٹرانسلیٹر کی مدد سے زبردستی ملک بلائے جانے کی کوشش ناکام بنا دی۔
سپرنٹر کرسٹینا تسمانوسکایا نے کھیل میں ناکامی کے بعد سوشل میڈیا پر اپنے کوچ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اس مقابلے کا حصہ بنایا گیا جس کے لئے انہیں تیاری نہیں کروائی گئی تھی۔ کرسٹینا کے مطابق، پوسٹ کے بعد انہیں سپورٹس حکام نے فوری اپنا سامان باندھنے کا کہا اور ملک واپسی کے لئے زبردستی ایئرپورٹ لے گئے۔
کرسٹینا نے بیلاروس میں ایتھلیٹس کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک این جی او، سپورٹس سولیڈیریٹی فاؤنڈیشن سے رابطہ کیا، جس نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ ملک واپس لوٹیں تو ان کی مدد کی جاسکتی ہے۔
ملک واپسی کے لئے ایئرپورٹ پر ان کا اپنی دادی سے فون پر مختصر رابطہ ہوا۔ ان کی دادی نے انہیں بتایا کہ حکام ان سے خوش نہیں اور ملک واپس آنے سے خبردار کرتے ہوئے واپس نہ آنے کا کہا۔
کرسٹینا کے مطابق وہ سمجھ گئیں تھیں کہ ملک واپسی پر انہیں حکومت کی جانب سے ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور ممکن ہے کہ ان کی جان کو بھی خطرہ ہو۔
بقول ان کے انہوں نے فوری طور پر حاضر دماغی سے کام لیتے ہوئے اپنے فون پر گوگل ٹرانسلیشن کی مدد سے جاپانی زبان میں ترجمے کے ذریعے ایئرپورٹ پر تعینات پولیس سے مدد کی اپیل کی۔ پولیس نے کرسٹینا کو فوری طور پر اپنی حفاظت میں لے لیا۔
معاملے کی خبر پھیلنے پر یورپی ممالک کرسٹینا کی مدد کے لئے آگے بڑھے۔ جاپان میں پولینڈ کے سفارت خانے نے کرسٹینا کو انسانی حقوق کی بنیاد پر فوری ویزا فراہم کیا۔ کرسٹینا اپنے شوہر کے ہمراہ آسٹریا کے راستے پولینڈ کی جانب رواں ہیں۔
بیلاروس میں جاری شدید مظاہرے گزشتہ کئی ماہ سے خبروں کا حصہ بنے رہے ہیں۔ مظاہروں کا آغاز اس وقت ہوا جب صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے الیکشن میں جیت کے بعد چھٹی بار صدارت کا عہدہ سنبھالا۔


No media source currently available
انتخابات کو اپوزیشن پارٹی اور یورپی ممالک کی جانب سے غیر شفاف قراردیا گیا۔ حکومت نے اپوزیشن اور مظاہرہ کرنے والوں پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 35 ہزار افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جب کہ حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں کو بھی گرفتار کیا جا رہا ہے۔
بیلاروس کے صدر لوکاشینکو نے 25 سال تک بیلاروس اولمپکس کمیٹی کی خود سربراہی کی، جس کے بعد فروری میں یہ عہدہ انہوں نے اپنے بیٹے کے حوالے کر دیا۔
کرسٹینا نے میڈیا کو بتایا کہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں وہ صرف اولمپکس کا حصہ بننا چاہتی تھیں۔ بقول ان کے، ”میرا ایک ہی مقصد رہا ہے۔ میں کھیل جاری رکھنا چاہتی ہوں۔ میں دوڑنا چاہتی ہوں”۔
اس رپورٹ کے لے کچھ مواد ایسوسی ایٹڈ پریس سے لیا گیا۔

