English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

یونان کے جنگلات میں بھڑکتی آگ پر قابو پانے میں ناکامی، وزیر اعظم کی عوام سے معذرت

یونان کے وزیر اعظم نے حکومت کی طرف سے ملک میں لگی جنگل کی آگ کو بجھانے میں موثر اقدامات نہ کرنے پر قوم سے معذرت کی ہے۔

وزیر اعظم اتیاکوس متسوٹاکیس نے گرمی کی لہر اور طویل خشک سالی کے حوالے دیتے ہوئے کہا کہ ان دو عوامل نے آگ بجھانے کا کام دشوار کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ملک میں آگ لگنے کے 500 سے زائد واقعات ہوئے۔

ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ان ہم وطن شہریوں کی تکلیف سے پوری طرح آگاہ ہیں جنہوں نے آگ میں اپنے گھروں اور جائیداد کو جلتے دیکھا۔

انہوں نے یونانی عوام کو یقین دلایا کہ اس معاملے پر ناکامیوں کی چھان بین کی جائے گی اور ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔

یونان میں اس وقت ایویا نامی جزیرے میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک رہی ہے، جس نے عمارتوں اور جنگلات کو خاکستر کردیا ہے اور ہزاروں لوگوں کو جگہ خالی کرکے کہیں اور منتقل ہونے پر مجبور کیا ہے۔



یونان میں خشک موسم کے باعث ساحلی علاقے کے قریب جنگلات میں لگنے والی آگ کے دھوئیں نے ایک بڑے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ 7 اگست 2021

یہ بے قابو آتشزدگی ایک ہفتے سے جاری ہے جس کے بجھانے کی کوششوں میں ایتھنز کے ایک اہلکار اور رضاکار فائر فائٹرز کی جانیں جا چکی ہیں۔ اس وقت چھ سو سے زیادہ کا آگ بجھانے والا عملہ اس آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔

امریکہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک نے اس صورت حال پر قابو پانے کے لیےآگ بجھانے والے جہاز اور ہیلی کاپٹرز یونان بھیجے ہیں۔

یورپی یونین نے ایک ہزار فائر فائٹرز اور نو جہاز یونان بھیجے ہیں جبکہ اس بڑی آگ سے متاثرہ ممالک ترکی اور اٹلی کے لیے بھی امداد بھیجی جا رہی ہے۔

خطے میں شدید گرمی کے باعث جنگلات میں لگنے والی آگ نے ترکی، اٹلی، اسپین، شمالی میسیڈونیا، البانیا، روس، الجیریا اور لبنان کو متاثر کیا ہے۔ یونان میں درجہ حرارت 45 ڈگری سنٹی گریڈ تک جا پہنچا ہے۔



کاربن گیسوں کا بڑے پیمانے پر اخراج سے کرہ ارض تیزی سے گرم ہو رہا ہے اور آب و ہوا تبدیل ہو رہی ہے

یاد رہے کہ پیر کو اقوام متحدہ کی آب و ہوا میں رونما ہونے والے تغیرات پر ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ آئندہ برسوں میں گلوبل وارمنگ یعنی دنیا میں درجہ حرارت بڑھنے کی صورت حال مزید بگڑے گی۔ رپورٹ میں سائنسدانوں نے پیش گوئی کی ہے کہ صنعتی انقلاب سے قبل کے حالات کے مقابلے میں اس صدی کے اگلے عشرے میں درجہ حرارت میں اضافہ ایک اعشاریہ پانچ کی سطح تک بڑھ جائے گا۔

یاد رہے کہ سن2015 میں دنیا کے ممالک نے پیرس کلائمیٹ معاہدے کے تحت عہد کیا تھا کہ وہ درجہ حرارت کو بڑھنے سے روکنے کے لیے اقدامات کریں گے، لیکن انفرادی طور پر ممالک میں اس مقصد کے حصول کی جانب پیش رفت ممکن نہیں ہوئی۔

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے حال ہی میں اس عہد کا اظہار کیا تھا کہ وہ 2030 تک ماحول میں گیسوں کےاخراج کو 2005 کے مقابلے میں نصف حد تک کم کریں گے۔ یورپی یونین نے بھی گیسوں کے اخراج کے لیے منصوبوں کا اعلان کیا ہے جسے وہ قانونی طور پر لازم قرار دینے کا ارادہ رکھتےہیں۔ البتہ، امریکہ نے ابھی یہ اقدام نہیں کیا۔

اس رہورٹ میں شامل بعض معلومات اے پی، اے ایف پی اور رائٹرز خبر رساں اداروں سے لی گئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے