امریکا نے افغانستان میں مقیم امریکی شہریوں کو وہاں سے نکل جانے کا مشورہ دے دیا
اگست 11, 2021
القمر
واشنگٹن نے افغانستان میں مقیم امریکی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فوری طور پر وہاں سے نکل جائیں اور ایسے شہری جن کے پاس سفر کرنے کے وسائل نہیں ہیں انہیں ‘وطن واپس لوٹنے کے لیے قرض’ دینے کی پیشکش کی ہے۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ میں افغانستان میں موجود امریکی شہریوں کو جاری سیکیورٹی الرٹ کا حوالہ دیا گیا جس میں انہیں یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ سیکیورٹی حالات اور عملے کی کمی کے باعث امریکی سفارتخانے کے پاس ان کی مدد کے لیے صلاحیت ‘انتہائی محدود’ ہے۔
انتباہ میں امریکی شہریوں کو کمرشل پروازوں میں سفر کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور جو افراد وطن واپسی کی ٹکٹ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے انہیں ‘وطن واپسی کے لیے قرض’ دینے کی پیش کش بھی کی گئی ہے۔
رواں سال کے آغاز میں محکمہ خارجہ نے کابل میں واقع امریکی سفارتخانے کے سرکاری ملازمین کو حکم دیا تھا کہ اگر وہ کہیں اور کام کرسکتے ہیں تو سفارتخانہ چھوڑ دیں۔
ہفتے کو جاری بیان میں امریکی سفارتخانے نے کئی صوبائی دارالحکومتوں پر طالبان کے قبضے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ عسکریت پسندوں کی ‘افغان شہروں کے خلاف نئی پرتشدد کارروائیاں’ ناقابل قبول ہیں۔
امریکی سفارتخانے کا کہنا تھا کہ طالبان کی جانب زبردستی حکمرانی کے نفاذ کے لیے کارروائیاں ناقابل قبول ہیں اور دوحہ میں ہونے والے امن مذاکرات میں سیاسی تصفیے کی حمایت کے دعوے کے متضاد ہے۔
امریکی سفارتخانے نے طالبان پر زور دیا کہ وہ ‘جامع اور مستقل جنگ بندی قبول کریں اور افغان شہریوں کی مشکلات ختم کرنے کے لیے امن مذاکرات میں مکمل طور پر شریک ہوں’۔
سفارتخانے کا مزید کہنا تھا کہ ‘صرف بات چیت سے ہی جامع سیاسی تصفیے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے جو تمام افغان شہریوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو اور اس بات کو یقینی بنائے کہ افغانستان پھر کبھی دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال نہ ہو’۔
تمام امریکیوں سے افغانستان چھوڑنے کے مطالبے کی خبر دیتے ہوئے امریکی میڈیا نے خبردار کیا کہ ‘اس عمل سے پہلے سے کمزور افغانیوں کی مزید حوصلہ شکنی ہوگی’۔
امریکی میڈیا نے یہ بھی کہا کہ عسکریت پسندوں نے گزشتہ سال امریکا کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کے فوری بعد ہی پرتشدد کارروائیاں شروع کردیں اور انہیں امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی طرف سے افغانستان سے رواں ماہ کے آخر تک تمام غیر ملکی افواج کے انخلا کے اعلان سے مزید حوصلہ ملا۔
بھارت نے افغانستان میں اپنا آخری قونصل خانہ بھی بند کردیا، شہریوں کی واپسی
بھارت نے افغانستان کے صوبے بلخ کے دارالحکومت مزار شریف میں قائم اپنے آخری قونصل خانے کو بھی بند کردیا اور اپنے شہریوں کو بھی وہاں سے نکال لیا۔
خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے مشرقی افغانستان کے شہر میں موجود اپنے شہریوں کو نکالنے کے لیے فوجی جہاز بھیجا جہاں طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ افغانستان کے شمالی خطے کے سب سے بڑے شہر مزار شریف میں بھارت نے قونصل خانے کو بند کرتے ہوئے اپنے سفارت کاروں اور شہریوں پر زور دیا ہے کہ خصوصی پروازوں کے ذریعے واپس گھر پہنچیں۔
خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان کی جانب سے شمال، مغرب اور جنوب میں مختلف صوبائی دارالحکومتوں پر قبضے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے اور رپورٹس کے مطابق اب تک ساتویں دارالحکومت پر بھی قبضہ کرلیا گیا ہے۔
حکومتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ بھارت نے افغانستان بھر میں کئی ترقیاتی منصوبوں پر سرمایہ کاری کر رکھی تھی لیکن اب مختلف شہروں پر قائم قونصل خانے بند ہوچکے ہیں اور صرف کابل میں سفارت خانہ فعال ہے۔
بھارت کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی حکومت سے افغانستان کی سکھ اور ہندو اقلیتوں کو بچانے اور طالبان کے حملوں سے محفوظ رکھنے پر زور دیا۔
کانگریس کے عہدیدار جیویر شیرگل کے اعداد وشمار کے مطابق ان کے ملک میں تقریباً 750 افغان سکھ اور ہندو موجود ہیں۔
بھارت نے اس سے قبل گزشتہ ماہ قندھار سے اپنے قونصل خانے کے عملے کو عارضی طور پر واپس بلایا تھا، جو افغانستان کا ایک شہر ہے جہاں طالبان جنگجو عالمی فورسز کے انخلا کے بعد مکمل قبضہ حاصل کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔
بھارت کی وزارت خارجہ کے چیف ترجمان آریندم باغچی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ قندھار شہر کے قریب شدید لڑائی کے باعث بھارتی عملے کو وقتی طور پر واپس بلا لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ افغانستان میں رونما ہونے والے حالات کی بھارت قریب سے نگرانی کر رہا ہے جبکہ قندھار کا قونصل خانہ عارضی طور پر مقامی عملہ چلا رہا ہے۔
بھارت کے وزیر خارجہ نے تشدد میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ زدہ ملک کی صورتحال کا براہ راست اثر علاقائی سلامتی پر پڑتا ہے۔