English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

چین میں کینیڈا کے ایک شہری کو 11 سال قید کی سزا کا ٹیکنالوجی کمپنی واوے پر امریکی الزام سے کیا تعلق ہے؟

چین نے کینیڈا کی ایک کاروباری شخصیت مائیکل سپاور پر جاسوسی کا الزام عائد کرتے ہوئے انھیں بدھ کے روز 11 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ مبصرین کے مطابق، یہ اقدام چین کی ایک بڑی ٹیکنالوجی کمپنی واوے کی ایک اعلیٰ عہدے دار کو کینیڈا میں رہائی دلانے کی کوشش کے طور پر کیا گیا ہے، جن کی امریکہ حوالگی کے معاملے پر کینیڈا کی ایک عدالت کے جج جلد ہی حتمی دلائل سننے والے ہیں۔

سپاور کو چین کے شہر بیجنگ سے تقریباً 210 میل کے فاصلے پر واقع شہر ڈان ڈونگ کی ایک عدالت نے سزا سنائی ہے۔

واضح رہے کہ دسمبر 2018 میں واوے کی ایگزیکٹو مینگ وان چو کو کینیڈا میں حراست میں لیا گیا تھا کیونکہ ان کی کمپنی پر الزام تھا کہ اس نے ممکنہ طور پر ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کی تھی۔

کینیڈا میں چین کی کاروباری شخصیت کو حراست میں لئے جانے کے بعد چین نے بھی کینیڈا کی کاروباری شخصیت مائیکل سپاور اور ایک سابق کنیڈین سفارت کار کو چین میں روک لیا تھا۔ ناقدین اس اقدام کو ‘یرغمالی سیاست’ کا نام دے رہے ہیں۔

کینیڈا میں زیر حراست واوے کمپنی کی ایگزیکٹو مینگ وان چو۔ فائل فوٹو

کینیڈا میں زیر حراست واوے کمپنی کی ایگزیکٹو مینگ وان چو۔ فائل فوٹو

چین کی حکومت نے ان سے متعلق محدود نوعیت کی معلومات جاری کی ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ سپاور نے 2017 کے اوائل میں چین سے متعلق حساس معلومات کینیڈا کے ایک سابق سفارت کار مائیکل کورنگ کو منتقل کیں تھیں۔

ان دونوں کو قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے اور انہیں کینیڈا کے سفارت کاروں تک محدود رسائی دی جاتی ہے۔

کینیڈا کی حکومت نے سپاور کی سزا کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپاور اور کورنگ کو دیدہ دانستہ قید کیا گیا ہے۔ کینیڈا نے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

سزا سنائے جانے کے بعد حراستی مراکز کے باہر سفیر ڈومنک بارٹن نے کہا کہ اس قانونی کارروائی میں شفافیت کا فقدان تھا۔

ہواوے پر پابندی: برطانیہ اور چین میں کشیدگی





please wait



No media source currently available

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ یہ مقدمہ بین الاقوامی قانون کے کم ترین میعار پر بھی پورا نہیں اترتا۔

سفیر بارٹن کا کہنا تھا کہ سپاور کے پاس یہ فیصلہ کرنے کے لیے دو ہفتے ہیں کہ آیا انہیں اس کے خلاف اپیل کرنی ہے یا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس فیصلے سے اتفاق نہیں ہے اور ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ مائیکل کو اپنے گھر واپس لانے کے لیے اپیل کرنا اگلا قدم ہو گا اور ہم اس مشکل وقت میں ان کی مدد جاری رکھیں گے۔

سپاور کے خاندان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سپاور کی ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ وہ سیاحت کے ذریعے مختلف ثقافتوں کا مطالعہ کریں جن میں جزیرہ نما کوریا اور چین اور کینیڈا سمیت دوسرے ممالک بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت جس طرح کے حالات سے گزر رہے ہیں، اس کے باوجود ان کی یہ خواہش زندہ رہے گی۔



امریکہ اور یورپی یونین کے جھنڈوں پر ہواوے کمپنی کے لوگو کی نمائش،29 جنوری 2019

چین کی حکومت نے ٹیکنالوجی کمپنی واوے کی عہدیدار کی کینیڈا میں حراست پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقدام نیٹ ورک اور سمارٹ فونز تیار کرنے والی ٹیکنالوجی کی پہلی عالمی کمپنی کو نقصان پہنچانے کی امریکی کوششیں ہیں۔

چین اس سے انکار کرتا ہے کہ کینیڈا کے شہری سپاور اور سفارتکار کورنگ کی گرفتاری کا ٹیکنالوجی کمپنی واوے کے مقدمے سے کوئی تعلق ہے۔ لیکن چین کے عہدے دار اور ان کا سرکاری میڈیا کئی بار یہ کہہ چکا ہے کہ ان دونوں کے مقدمے کا تعلق اس بات سے ہے کہ آیا واوے کی عہدیدار کو چین واپس جانے کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے