افغانستان کی قومی مفاہمتی قومی کونسل کے صدر عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ امن پیش رفت میں تاحال امید کی کرن باقی ہے۔
عبداللہ عبداللہ نے دوحہ میں غیر ملکی نمائندوں سے بات چیتکے دوران افغانستان کی موجودہ صورت حال کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو اس وقت خطرات لاحق ہیں لہذا فریقین کو چاہیئے کہ وہ لڑائی چھوڑ کر سیاسی مصلاحت کےلیے مذاکراتی میز پر آئیں۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کی عدم سنجیدگی کی وجہ سے اس ساری صورت حال میں پیش رفت نہ ہوسکی،وہ سیاسی مصالحت کےاور نہ ہی امن کے حامی ہیں ،اگر وہ ملک اگر وہ عوام اور حکومت کا دل جیتنا چاہتے ہیں تو بڑے شہروں پر حملے روک دیں۔
دوسری جانب عبداللہ عبداللہ نے افغانستان کےلیے امریکی نمائندے زلمےخلیل زاد سمیت دیگر ممالک کے نمائندوں سے بھی افغان امن عمل پر بات چیت کی ۔
باور رہے کہ افغانستان سے امریکی فوجی انخلا کے بعد طالبان نے ملک کی وسطی ایشائی ریاستوں سے ملحقہ سرحد کے قریبی صوبوں پر یکے بعد دیگرے قبضہ کرنا شروع کر دیا ہے۔
طالبان نے ایک ہفتےکے دوران سات صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا جبکہ مجموعی طو رپر 34 افغان صوبوں میں سے 25 طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔
