English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

افغانستان کے دو بڑے شہروں قندھار اور ہرات پر طالبان کا قبضہ

طالبان نے جمعرات کو افغانستان کے دو بڑے شہروں قندھار اور ہرات پر قبضہ کر لیا ہے ۔ یہ دونوں شہر کابل کے بعد افغانستان کے دوسرے اور تیسرے بڑے شہرہیں۔ خدشہ ہے کہ اس قبضے سے ایک ایسے وقت میں افغان حکومت کا دائرہ مزید محدود ہو جائے گا جب افغانستان سے امریکی فوجی انخلا کے مکمل ہونے کی تاریخ قریب آرہی ہے ۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق قندھار اور ہرات پر قبضے سے طالبان افغانستان کے 34 میں سے 12 صوبائی دارلحکومتوں پر قابض ہو گئے ہیں۔ اگرچہ ابھی کابل خطرے کی زد میں نہیں آیا تاہم دیگر مقامات پر باغیوں سے لڑائی میں نقصانات افغانستان کے لگ بھگ دو تہائی علاقے پر طالبان کے قبضے کو مضبوط بنا رہے ہیں۔

سیکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال میں امریکہ نے کابل کے امریکی سفارتخانے کے عملے کو بحفاظت نکالنے کے لئے تین ہزار مزید امریکی فوجی افغانستان بھیجنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ جبکہ برطانیہ کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ وہ افغانستان سے برطانوی شہریوں کے انخلا کے لئے چھ سو برطانوی فوجی مختصر عرصے کے لئے افغانستان روانہ کرے گا۔



قندھار کے ایک فوجی مرکز میں افغان نیشنل آرمی کا ایک دستہ چاک و چوبند کھڑا ہے۔ 12 اگست کو بظاہر معمولی مزاحمت کے بعد طالبان نے قندھار کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ بدلتی صورت حال کے باعث امریکہ اور برطانیہ نے ملک سے اپنے شہری نکالنے کے لیے اپنے فوجی دستے بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق طالبان جنگجو ہرات کی بڑی تاریخی مسجد کے پاس سے گزرے جو 500 سال قبل مسیح کی یادگار ہے، اور سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیا۔

عینی شاہدوں نے بتایا ہے کہ ایک سرکاری عمارت سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں جب کہ باقی پورا شہر خاموشی سے طالبان کے قبضے میں چلا گیا۔

افغان قانون ساز سیمیں بارکزئی نے ہرات شہر پر طالبان کے قبضے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ بعض سرکاری عہدیدار شہر سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

ہرات گزشتہ دو ہفتوں سے طالبان کے حملوں کی زد میں تھا۔ ایک مقامی جنگجو سردار اسماعیل خان اور ان کی فورسز نے طالبان کے خلاف مزاحمت بھی کی تاہم جمعرات کی سہ پہر طالبان شہر کا دفاع توڑنے میں کامیاب ہو گئے۔

اس سے پہلے غزنی پر باغیوں کے قبضے سے کابل کو افغانستان کے جنوبی صوبوں سے ملانے والی شاہراہ بند ہو گئی ہے اور ان صوبوں کو بھی حملے کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

افغانستان کے ایک اور اہم شہر غزنی پر قبضہ کرنے کے بعد طالبان شہر میں گشت کر رہے ہیں۔ 12 اگست 2021

افغانستان کے ایک اور اہم شہر غزنی پر قبضہ کرنے کے بعد طالبان شہر میں گشت کر رہے ہیں۔ 12 اگست 2021

ہزاروں کی تعداد میں افغان شہری طالبان کے دوبارہ حکومت میں آنے کے خوف سے اپنے گھروں کو چھوڑ کر راہ فرار اختیار کر رہے ہیں ۔

قطر میں امن مذاکرات اب بھی تعطل کا شکار ہیں حالانکہ سفارت کار جمعرات کو پورا دن ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔

امریکہ کی فوجی انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ کابل 30 دن کے اندر اندر باغیوں کے دباؤ میں آ سکتا ہے اور اگر ایسے ہی چلتا رہا تو طالبان چند ماہ میں پورے ملک پر کنٹرول حاصل کر لیں گے۔ اور کابل حکومت آخرِ کار شکست سے دوچار ہو کر صرف کابل اور چند مزید شہروں کا دفاع کرتی نظر آئے گی۔

مبصرین کے مطابق، طالبان کی پے در پے کامیابیاں اور افغان فورسز کی ناکامی نے ان سوالات کو از سرِ نو جنم دیا ہے کہ وہ 830 ارب ڈالر کیا ہوئے جو امریکی محکمہ دفاع نے افغان فوجیوں کی تربیت اور تعمیرِ نو کی کوششوں پر صرف کئے، خاص طور پر ایسے میں جب طالبان امریکی ساخت کی ہمویز اور پک اپ ٹرکوں پر سوار دیکھے گئے ہیں جب کہ M-16 رائفلیں ان کے کندھوں پر ہیں۔



ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، لڑائی کی اس صورتحال میں افغان سیکیورٹی فورسز اور حکومت نے صحافیوں کے بارہا پوچھے گئے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا بلکہ صرف ایسی ویڈیوز جاری کی ہیں جن سے طالبان کی پیش قدمی کی اہمیت کم ہوتی ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے