English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

افغان صدارتی محل کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، نئی حکومت کا اعلان جلد کریں گے، طالبان

القمر

افغان حکومتی عہدیداروں کے فرار کے بعد صدارتی محل کا کنٹرول طالبان نے سنبھال لیا اور اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں جنگ ختم ہوچکی ہے۔

خبررساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز کابل میں تیز ترین پیش رفتوں، خوف اور افراتفری کا ماحول رہا جس کے بعد بالآخر رات گئے بھاری ہتھیاروں سے مسلح جنگجوؤں نے خالی صدارتی محل کا کنٹرول سنبھال لیا۔

اس دوران مغربی ممالک اپنے شہریوں کو افغانستان سے نکالنے میں مصروف رہے جبکہ سیکڑوں افغان شہری بھی ملک چھوڑنے کے لیے کابل ایئر پورٹ پہنچے۔

طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان نے قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گروہ تنہائی میں نہیں رہنا چاہتے اور افغانستان کی نئی حکومت کی شکل جلد واضح ہوگی۔

ساتھ ہی محمد نعیم نے پر امن بین الاقوامی تعلقات رکھنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ ’خدا کا شکر ہے کہ ملک میں جنگ ختم ہوچکی ہے‘۔

طالبان رہنما کا کہنا تھا کہ ’ہم جو حاصل کرنا چاہ رہے تھے اس تک پہنچ گئے جو کہ ہمارے ملک اور عوام کی آزادی ہے۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہم اپنے سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی دوسروں کو نقصان پہنچائیں گے۔

خیال رہے کہ عسکریت پسند بلا مزاحمت جلال آباد فتح کرنے کے بعد افغانستان کے دارالحکومت میں داخل ہوگئے تھے جہاں ان کے اقتدار کی پر امن منتقلی کے لیے افغان رہنما سے بات چیت بھی ہوئی۔

امریکی سفارتی اہلکاروں کا انخلا مکمل

امریکی ڈپارٹمنٹ آف اسٹیٹ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کابل کے سفارتخانے سے عملے کا انخلا مکمل کرلیا گیا ہے۔

نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم تصدیق کرسکتے ہیں کہ تمام سفارتی اہلکاروں کا محفوظ انخلا مکمل ہوچکا ہے، سفارت خانے کے تمام اہلکار حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے احاطے میں ہیں جسے امریکی فوج نے محفوظ بنایا ہوا ہے۔

طالبان کی پیش قدمی

واضح رہے کہ افغانستان میں امریکا نے 2001 میں پہلی مرتبہ طالبان حکومت کے خلاف حملے شروع کیے تھے، جو نائن الیون حملوں کا نتیجہ تھا۔

تاہم 2 دہائیوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بعد گزشتہ برس فروری کو امن معاہدہ کیا تھا جس کی رو سے غیر ملکی افواج کے انخلا اور افغان حکومت کی طالبان کے ساتھ بات چیت پر اتفاق ہوا تھا۔

افغانستان میں جاری لڑائی میں رواں برس مئی سے ڈرامائی تبدیلی آئی جب امریکا کی سربراہی میں افغانستان میں موجود غیر ملکی افواج کے انخلا کی تاریخ کا اعلان کیا گیا تھا اور رواں مہینے کے اختتام سے قبل انخلا مکمل ہوجائے گا۔

جس کے پیشِ نظر طالبان کی جانب سے پہلے اہم سرحدی علاقوں پر قبضہ کیا گیا اور پھر برق رفتاری سے صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کرتے چلے گئے۔

چند روز قبل ایک امریکی رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ طالبان 90 روز میں کابل پر قبضہ کرسکتے ہیں تاہم طالبان کے برق رفتار پیش قدمی کے ساتھ کابل پر قبضے نے تمام اندازے غلط ثابت کردیے۔

طالبان نے کابل کی سیکیورٹی کیلئے اپنے جنگجو تعینات کردیے

افغان صدر اشرف غنی اور دیگر حکومتی عہدیداروں کے ملک چھوڑ کر جانے کے بعد کابل کا کنٹرول طالبان کے پاس آگیا ہے جن کا کہنا ہے کہ ان کے جنگجو ملک کے مختلف حصوں اور کابل شہر میں سیکیورٹی کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

طالبان رہنماؤں نے اپنے ’مجاہدین‘ کے لیے حکم جاری کیا ہے کہ کسی کو بھی کسی کے گھر میں بلا اجازت داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد سہیل شاہین نے کہا کہ کسی کی زندگی، املاک اور عزت کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے بلکہ مجاہدین اس کی حفاظت کریں۔

قبل ازیں ایک ٹوئٹ میں ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں موجود غیر ملکی سفارتخانوں، اداروں اور رہائشیوں کو یقین دہانی کروائی تھی انہیں کوئی خطرہ نہیں ہے اور سب کو کابل میں اعتماد کے ساتھ رہنا چاہیے۔

پیغام میں ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ‘اسلامی امارات’ کی فورسز کو کابل اور ملک کے دیگر شہروں میں سیکیورٹی کی صورتحال برقرار رکھنے کی ذمہ داری دے گئی ہے۔

ایک اور ٹوئٹ میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ کابل میں صورتحال معمول کے مطابق ہے اور ان کے جنگجو سیکیورٹی فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔

ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے کابل کے مختلف حصوں میں اسپیشل یونٹس تعینات کردیے ہیں اور ‘عوام مجاہدین کی آمد سے خوش اور سیکیورٹی سے مطمئن ہے۔

قبل ازیں طالبان نے برطانوی نشریاتی ادارے ‘بی بی سی’ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ‘کابل میں کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے، ہم عوام بالخصوص کابل شہر میں عوام کو یقین دہانی کرواتے ہیں کہ ان کی املاک اور زندگیاں محفوظ ہیں کسی سے کوئی انتقام نہیں لیا جائے گا۔

انہوں سہیل شاہین نے کہاکہ ْہم عوام اور ملک کے خادم ہیں، ہماری قیادت نے ہمیں کابل کے دوازے پر رہنے کا کہا تھا کہ اور اہم اقتدار کی پر امن منتقلی کا انتظار کررہے تھے۔

ترجمان طالبان کا کہنا تھا کہ ‘طالبان کابل میں اس لیے داخل نہیں ہوئے تھے کیوں کہ ہم خونریزی اور تباہی سے بچنا چاہتے تھے اور لٹیروں کو موقع دینا نہیں چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ قدم عوام کے تحفظ کے لیے اٹھایا تھا اور ہم انہیں یقین دہانی کرواتے ہیں کہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا لیکن ظاہر ہے جو جانا چاہتے ہیں ہم انہیں مجبور نہیں کرسکتے۔

سوال کیا گیا کہ کیا طالبان جنرل محمد دوستم یا کسی بھی افغان رہنما کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں؟ جس کے جواب میں سہیل شاہین نے کہا کہ ‘طالبان کسی بھی افغان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں کیوں کہ ہم امن، برداشت اور پر امن بقائے باہمی کے نئے باب کا آغاز کرنا چاہتے ہیں’۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے