English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

فوجی انخلا کا متبادل موجود نہ ہونا بائیڈن انتظامیہ کی دوسری ناکامی ہے، سینیٹر بَر

ریاست نارتھ کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے ری پبلیکن پارٹی کے سینیٹر اور انٹیلی جنس پر سینیٹ کی سیلیکٹ کمیٹی کے سابق چیرمین، رچرڈ بَر نے کہا ہے کہ افغانستان سے فوجی انخلا کا صدر بائیڈن کا فیصلہ درست نہیں تھا، اور یہ کہ متبادل منصوبہ بھی تیار نہیں کیا گیا تھا۔

صدر جو بائیڈن کے قوم سے خطاب پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے، ایک بیان میں سینیٹر بَر نے کہا کہ مجھے توقع تھی کہ کمانڈر ان چیف کی حیثیت سے جو بائیڈن امریکی کانگریس اور عوام کے سامنے آج کوئی نیا منصوبہ پیش کریں گے۔ لیکن، بقول ان کے، ”اب یہ بھی واضح ہے کہ ایسا بھی نہیں کیا گیا”۔

سینیٹر بَر نے الزام لگایا کہ افغانستان کے معاملے پر بائیڈن انتظامیہ کی مبینہ لاپرواہی کی وجہ سے، ان کے الفاظ میں، تباہ کن ناکامی دیکھنا پڑی۔

بقول ان کے،”ساری صورت حال کے صدر بائیڈن خود ذمہ دار ہیں، جس صورت حال سے بچنے کے لیے انہیں ٹھوس اقدام کرنا تھا وہ، وہ نہیں کر پائے”۔

سینیٹر برَ نے کہا کہ انخلا کا فیصلہ کرتے وقت ممکنہ نتائج کو دھیان میں رکھنا لازم تھا، جس کے لیے علاقائی اور عالمی حقائق کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے تھا۔

سینیٹر بر واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کر رہے ہیں، فائل فوٹو

سینیٹر بر واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کر رہے ہیں، فائل فوٹو

ادھر پینٹاگان کی اخباری بریفنگ میں، ترجمان جان کربی نے کہا ہے خاص طور پر ادارے کے وہ اہل کار جو افغانستان میں فرائض انجام دے چکے ہیں، وہ افغانستان کی موجودہ صورت حال پر ذاتی طور پر ناخوش ہیں۔

ایک افغان صحافی کے سوال پر کہ صدر اشرف غنی کہاں ہیں اور آیا اپنی ذمہ داری نہ نبھا کر انہوں نے افغان عوام کے ساتھ انصاف نہیں کیا، ترجمان نے کہا کہ اس معاملے پر وہ کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ تمام افغان مترجموں کے انخلا کا پابند ہے، جنہوں نے 20 سالہ عرصے کے دوران امریکی افواج کے ساتھ کام کیا۔

ترجمان نے کہا کہ افغان خواتین کی پیشہ وارانہ استعداد بڑھانے اور بچیوں کی تعلیم کے سلسلے میں کافی پیش رفت حاصل کی گئی، جسے ہرگز ضائع نہیں ہونا چاہیے۔

خصوصی طور پر افغان خواتین کے بارے میں جان کربی نے کہا کہ سیاسی، معاشی اور سماجی میدان میں ان کی کامیابیاں مثالی رہی ہیں۔



امریکہ میں مقیم افغانی باشندے وائٹ ہاوس کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں

ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ جو اضافی فوجی کابل روانہ کیے گئے ہیں ان کا اصل مشن امریکی شہریوں اور اتحادیوں کے لیے ہوائی اڈے کو محفوظ بنانا ہے، اور یہی ہماری اولین ترجیح ہے۔

یہ معلوم کرنے پر کہ افغان فوج نے طالبان کی پیش قدمی روکنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا، ترجمان نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال سے امریکہ کی جانب سے تربیت یافتہ افغان فوج اپنی ملکی ذمہ داریاں سنبھال رہی تھی، جب کہ امریکی افواج کا کام ان کی تربیت، رہنمائی اور اسلحہ فراہم کرنا تھا، جس میں کوئی کوتاہی نہیں کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے