ویب ڈیسک —
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان میں فوری طور پر تمام مخالفانہ کارروائیاں بند کرنے اور مذاکرات کے ذریعے سب کی شراکت داری پر مبنی اور سب کی شمولیت کے ساتھ ایک متحد، نئی حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے، جس میں خواتین کی بھرپور، مساوی اور بامعنی نمائندگی یقینی بنائی جائے۔
ایک اخباری بیان کے ذریعے سلامتی کونسل کے ارکان نے اداروں کی حرمت کی پاسداری اور افغانستان کی جانب سے بین الاقوامی فرائض کی انجام دہی پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا؛ اور ساتھ ہی افغان اور بین الاقوامی شہریوں کے تحفظ اور سلامتی کو ہر صورت یقینی بنانے کے لیے کہا۔
اس سے قبل پیر کے روز نیو یارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں افغانستان کی تازہ ترین صورت حال پر بریفنگ دی گئی۔
سلامتی کونسل کے ارکان نے افغانستان میں تشدد کی کارروائیوں کے فوری خاتمے، سیکیورٹی کو بحال کرنے، شہری اور آئینی تقاضے پورے کرنے پر زور دیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان قیادت اور اس کے توسط سے امن عمل اور قومی مفاہمت کو فروغ دے کر پرامن تصفیے تک پہنچا جائے۔
رکن ملکوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ خواتین، بچوں اور اقلیتوں سمیت سب کے انسانی حقوق کی سربلندی یقینی بنائی جائے، جس کو حاصل کرنے کے لیے سب کی شراکت داری کے ساتھ، منصفانہ طور پر، دیرپا اور حقیقت پر مبنی افغان قیادت والی قومی مفاہمت درکار ہے۔
اس ضمن میں سلامتی کونسل نے تمام افغان فریقوں پر زور دیا کہ بین الاقوامی ضابطوں اور انسانی حقوق کی انجام دہی پر عمل درآمد کیا جائے، اس ضمن میں ہر طرح کی خلاف ورزیاں فوری طور پر بند کی جائیں۔
ساتھ ہی، بیان میں رکن ملکوں نے زور دیا کہ افغانستان کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اعانت کی فراہمی کے کام کو ٹھوس بنایا جائے۔ اس سلسلے میں مطالبہ کیا گیا کہ اقوام متحدہ کے تمام امدادی اداروں کو سہولت فراہم کی جائے کہ وہ ضرورت مندوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے امداد کی فراہمی کا کام جاری رکھ سکیں۔
سلامتی کونسل نے افغانستان میں انسداد دہشت گردی کے کام کی اہمیت کا اعادہ کیا، تاکہ یہ بات یقینی بنائی جاسکے کہ کسی ملک کے خلاف حملے کی دھمکی دینے یا حملہ کرنے کے لیے افغانستان کی سرزمین کسی طور پر استعمال نہیں کی جائے گی۔
اس کے علاوہ رکن ملکوں نے مطالبہ کیا کہ طالبان یا دیگر کوئی افغان گروہ یا فرد کسی دوسرے ملک کے علاقے میں کارفرما دہشت گردی کی کسی طور پر حمایت نہیں کرے گا۔
