امریکہ کی نائب وزیر خارجہ وِنڈی شرمن نے کہا ہے کہ ہم اس پہلو پر بغور نگاہ رکھیں گے کہ طالبان، افغانستان انتظامیہ سے متعلق، اپنے وعدوں پر قائم رہتے ہیں یا نہیں اور اسی کے مطابق کوئی موقف اختیار کریں گے۔
شرمن نے وزارت خارجہ میں افغانستان کی حالیہ صورتحال کے متعلق پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ طالبان نے یقین دہانی کروائی ہے کہ "انخلاء آپریشن میں مداخلت نہیں کی جائے گی” اور "شہریوں کی ائیر پورٹ تک رسائی کی اجازت دی جائے گی” لیکن اس کے باوجود فیلڈ کی صورتحال اور ائیر پورٹ تک رسائی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
شرمن نے کہا ہے کہ تاحال اگرچہ کسی سنجیدہ واقعے کی اطلاع نہیں ملی لیکن ائیر پورٹ تک رسائی کے معاملے میں ہم اس وقت صرف امریکیوں کی ہی نہیں وہاں موجود دیگر ممالک کے شہریوں کی بھی ائیر پورٹ تک محفوظ رسائی کی ضمانت نہیں دے سکتے۔
طالبان کی قانونی حیثیت کے بارے سوالات کے جواب میں شرمن نے کہا ہے کہ "طالبان افغانستان میں ایک حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں اور اس حکومت کی قانونی حیثیت کے طالب ہیں۔ ہم سب طالبان کے اقدامات پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ ہم اس بات کا بغور جائزہ لیں گے کہ آیا وہ حقیقتاً انسانی حقوق اور افغان عوام کے حقوق کی پاسداری کرتے ہیں یا نہیں۔ یہ بات آنے والے دن ثابت کریں گے کہ طالبان کے وعدے حقیقی تھے یا نہیں”۔
شرمن نے کہا ہے کہ کابل ائیرپورٹ کے دائرہ کار میں امریکہ کا ڈپلومیٹک مشن سفارتی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور سکیورٹی شرائط کے موزوں رہنے تک فرائض جاری رکھے گا۔
افغانستان کے صدر اشرف غنی کی متحدہ عرب امارات میں موجودگی سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ غنی اب سیاسی شناخت سے محروم ہو چکے ہیں۔
