قرآن کریم میں بارش کے بارے بہت ذکر آیا ہےاور اس کو اللہ کی نشانیوں میں سے ایک بتایا گیا ہے اور لوگوں کو دعوت دی گئی ہے کہ اس کے اسباب پر غور کریں۔ ہم میں سے بہت سارے لوگ اس مظہر کو محض عطا کردہ سمجھتے ہیں اور اسے اپنے روز مرہ معمولات پر اثر انداز ہوتا دیکھتے ہیں۔ ہم میں سے بہت سارے بارش کو ایک زحمت سمجھتے ہیں خاص طور پر جب یہ ہمارے سفری معمولات اور گھر سے باہر کی سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہے وہیں بارش ہمارے سیارے پر زندگی کی بقا کے لیے جزو لاینفک ہے۔ بارش کے پانی کے فوائد کے ساتھ ساتھ بارش کو تقابل، علامت اور گہری غور و فکر کے حوالے سے بھی بیان کیا گیا ہے۔
ذیل میں قرآن و حدیث سے حاصل ہونے والے چھ اسباق قرآن و حدیث سے ذیل میں بیان کیے گئے ہیں۔
1. اللہ کی کامل تخلیق
آبی چکر کی پیچیدگی ہمیں یہ باور کراتی ہے کہ اللہ نے کس قدر جامع اور کامل نظام تخلیق کیا ہے۔ فضا میں بادلوں کے بننے کے عمل پر اگر غور کیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح زمین سے پانی تبخیر کے عمل سے فضا میں جاتا ہے اور وہاں ٹھنڈا ہو کر بارش برسانے کا سبب بنتا ہے۔ آبی چکر کے مختلف مدارج کو قرآن کریم میں اس طرح بیان کیا گیاہے۔
“اللہ وہ ہے جو ہوائیں چلاتا ہے پھر وہ بادل کو اٹھاتی ہیں پھر اسے آسمان میں جس طرح چاہے پھیلا دیتا ہے اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو مینہ کو دیکھے گا کہ اس کے اندر سے نکلتا ہے، پھر جب اسے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے پہنچاتا ہے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں۔ “(30:48)
پھر اس میں سے کچھ پانی استعمال ہوجاتا ہے اور باقی دوبارہ جھلیوں، ندیوں، دریاؤں اور سمندروں میں اکٹھا ہوجاتا ہے اور پھر دوبارہ وہاں سے عمل تبخیر کے ذریعے فضا میں پہنچ جاتا ہے۔ اور یہ سب عمل خود بخود ہی چل رہا ہے ۔ بے شک یہ اللہ ہی ہے جس نے یہ سب تخلیق کیا ہے اور کوئی اس کی بصیرت کے ہمسر نہیں ہوسکتا ہے۔ وہ اپنے معاملات محض کن اور فیکون سے قابو میں رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم اللہ پر بحیثیت مخلوق ایمان رکھتے ہیں۔
2. انسانیت کا قابل تعظیم رتبہ
بارش کے انسانوں کے لیے بے شمار فوائد ہیں یہ ہمیں پینے کے لیے ، دھونے کے لیے، صفائی کے لیے اور دیگر ضروریات زندگی کے لیے تازہ پانی فراہم کرتی ہے ۔ یہ ہماری فصلوں کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے اور اسی طرح ہماری خوراک کے لیے۔ مزید برآں پانی ہماری صنعت میں بھی بڑی مقدارمیں استعمال ہوتا ہے خاص طور پر بجلی بنانے میں ۔ قرآن کریم میں بارش کے پانے کے بعض فوائد ذیل میں بیان کیے گئے ہیں۔
“وہی ہے جس نے آسمان سے تمہارے لیے پانی نازل کیا، اسی میں سے پیتے ہو اور اسی سے درخت ہوتے ہیں جن میں چراتے ہو” (16:10)
بارش کا عمل دیگر کئی عوام اور مظاہر کی طرح انسانوں کے لیے بہت زیادہ مفید ہے اور زمین پر انسانی کی بقا، اس کی بڑھوتری اور ترقی کا مظہر ہے ۔ اللہ نے ہمیں بے بہا نعمتیں عطا کی ہیں ۔ اسلیے ہمیں ہر وقت اس کے سامنے عاجزی اخیتار کرنی چاہے اور ہر حال میں اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
3. دلوں کو رہنمائی حاصل ہوتی ہے
بارش اور رہنمائی کے حوالے سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بہترین مشابہت بیان فرمائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔ بارش دو طرح کی زمینوں پر ہوتی ہے ۔ پہلی زمین زرخیز ہوتی ہے اور وہ پانی جو جذب کر لیتی ہے اور پھر اس پر پھل، پھول، سبیزیاں اور اناج اگتا ہے ۔ اور یہ زمین انسانوں اور جانوروں کے فائدے کے لیے کچھ پانی بچا بھی لیتی ہے ۔ اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو اللہ کے احکامات بجا لاتا ہے ، اچھائی کرتا ہے اور دوسروں کو اچھے رستے پر چلنے کی تلقین کرتا ہے۔ جبکہ دوسری طرح کی زمین ایسی زمین ہوتی ہے جو نہ پانی کو محفوظ رکھتی اور نہ ہی اس پر اناج و غلہ اگتا ہے۔ یہ بالکل اس شخص کے دل کی طرح ہے جو رہنمائی اور ہدایت سے خالی ہے نہ تو وہ خود اچھائی کرتاہے اور نہ ہی دوسروں کو کرنے کا کہتا ہے۔
پس اس حدیث کے پیش نظر ہمیں چاہیے کہ ہم اس کھیت کی طرح ہوں جو کہ اناج و غلہ اگاتا ہے اور دوسروں کو فائدہ دیتا ہے نہ نبجر کھیت کی طرح جو نہ خود فائدہ اٹھاتا ہے اور نہ ہی دوسرے کو فائدہ دیتا ہے۔
4۔ اللہ کی نعمت اور عذاب
بارش اللہ کی عظیم نعمت ہے ۔جیسا کہ اللہ پاک کی ذات فرماتی ہے”
اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اتارا پھر ہم نے اس کے ذریعے سے باغ اگائے اور اناج جن کے کھیت کاٹے جاتے ہیں۔” (50:9)
تاہم بارش طوفان کی شکل میں اذیت کا سبب بھی ہوسکتی ہے اور پوری پوری تہذیبوں کو بہا کے لے جاتی ہے ۔ اللہ پاک نے قوم لوط کے بارے میں فرمایا:”
اور ہم نے ان پر مینہ برسایا، پھر ڈرائے ہوؤں کا مینہ برا تھا۔” (27:58)
بارش کی طرح زندگی میں ہم دو چیزوں کا سامنا کرتے ہیں نعمت اور لعنت اور ان کا انحصار صورتحال پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر تکالیف اور آفات اللہ کی نعمتیں ہیں کیونکہ یہ ہمیں دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کا حوصلہ عطاکرتی ہیں ۔ یہ ہماری تربیت اور نشو نما کرتی ہیں اور ہمیں اللہ کے قریب لے آتی ہیں اور اگر یہ ہمیں گناہ اور ناشکری کی طرف لے جائیں تو یہ اللہ کا عذاب بن جاتی ہیں۔ اس کی ایک اور مثال دولت ہے۔ یہ اللہ کی نعمت ہے کیونکہ اس سے ہم بہت ساری ضروریات زندگی پوری کرتے ہیں اور دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ تاہم اگر یہ ہمیں غرور ، کنجوسی اور ذرائع کے ناجائز استعمال کی طرف لے جائیں تو سمجھ لیں کہ یہ اللہ کا عذاب ہے۔
5. غیب کا علم
حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا” کوئی بھی نہیں جانتا کہ بارش کب ہوگی سوائے اللہ تعٰالی کے”۔ آج کے دور میں جب دنیا کے پاس سپر کمپیوٹر بھی آچکے ہیں تاہم تب بھی ان کی موسم کے حوالے سے پیشن گوئیاں اکثر غلط ثابت ہوتی ہیں۔ یونیورسٹی آف ریڈنگ کے ایک ریسرچ سائنسدان جان شانک کا کہنا ہے کہ ہم کبھی بھی 100 فیصد درستگی سے موسم کے بارے میں پیشن گوئی نہیں کر سکتے ۔ پس اس کا مطلب ہے کہ بارش کے بارے میں کوئی بھی درست پیشن گوئی نہیں کر سکتا۔ اس سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ سوائے اللہ کے کوئی بھی غیب کا علم نہیں رکھتا۔ پس ہمیں اپنے مستقبل کے بارے میں بھی صرف اللہ تعٰالی کی ذات پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔
6۔ آخرت کا نشان
بارش ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی یاددہانی کراتی ہے کیونکہ یہ زمین پر زندگی کا دوبارہ احیاء کرتی ہے بلکل ایسے ہی جیسے قیامت کے روز صور پھونک کر زندگی کو دوبارہ بحال کر دیا جائے گا۔ بالکل ایسے ہی بارش زمین کے اندر سے پودے اگاتی ہے اور ایسے ہی روز قیامت لوگوں کو قبروں سے نکال کر اللہ کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعٰالی ہے”
اور وہ جس نے آسمان سے اندازے کے ساتھ پانی اتارا، پھر ہم نے اس سے مردہ بستی کو زندہ کیا، تم بھی اس طرح ( قبروں سے) نکالے جاؤ گے۔”(43:11)
پس بارش کے بعد کی تازگی اور نئی زندگی ہمیں یہ باور کراتی ہے کہ کیسے ہم روز قیامت ابدی زندگی کا سفر طے کریں گے اور پس یہ ہمیں یہ یاد دہانی بھی کراتی ہے کہ ہم روز جزا کے لیے کس طرح اپنے اعمال کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
