جمیکا —
بابر اعظم کی قیادت میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرا ٹیسٹ 109 رنز سے جیت کر دو میچ کی سیریز ایک ایک سے برابر کر لی۔
میچ میں جہاں فواد عالم کی ناقابل شکست سنچری نے پاکستان کو مشکلات سے نکالا وہیں شاہین شاہ آفریدی کی کیرئیر بیسٹ بالنگ نے میزبان ٹیم کو سنبھلنے کا موقع نہ دیا۔
پاکستان نے اس کامیابی کے ساتھ ہی آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمین شپ میں 12 قیمتی پوائنٹس حاصل کر لئے۔ شاہین شاہ آفریدی کو ان کی شاندار کارکردگی پر نہ صرف مین آف دی میچ بلکہ میں آف دی سیریز کا بھی ایوارڈ دیا گیا۔
جمیکا ٹیسٹ کے پانچویں دن پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے ساتھ ساتھ بارش کو بھی شکست دی!
جمیکا ٹیسٹ کے آخری دن ویسٹ انڈیز نے دوسری نامکمل اننگز ایک وکٹ کے نقصان پر 49 رنز سے آگے بڑھائی۔ انہیں جیت کے لئے 329 رنز کا ہدف ملا تھا لیکن پوری ٹیم 83 عشاریہ دو اوورز میں صرف 219 رنز بناکر ڈھیر ہو گئی۔
آخری دن کے پانچویں ہی اوور میں پاکستان کو پہلی کامیابی اس وقت ملی جب نائٹ واچ مین الزاری جوزف 17 رنز بنا کر شاہین آفریدی کا شکار بنے، حسن علی نے اس کے بعد بونر اور چیس کو جلد آؤٹ کر کے میزبان ٹیم کو مشکلات میں ڈال دیا جس سے وہ آخر تک نہ نکل سکے۔
سابق کپتان جیسن ہولڈر کے 47، اور کپتان کریگ بریتھویٹ کے 39 رنز بھی میزبان ٹیم کو شکست سےنہ بچا سکے۔ مڈل آرڈر میں بلے بازوں نے کچھ مزاحمت تو کی لیکن پاکستانی بالنگ نے میزبان ٹیم اور بارش کو شکست دے کر فتح حاصل کی۔
آخری دن چائے کے وقفے سے قبل بارش کی وجہ سے میچ کچھ دیر کے لئے روکا گیا، لیکن کپتان بابر اعظم کی جارحانہ حکمت عملی کی وجہ سے پاکستان نے آخری سیشن میں آخری تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے میچ اپنے نام کر لیا۔
پہلی اننگز میں چھ وکٹ لینے والے شاہین شاہ آفریدی دوسری اننگز میں بھی بھرپور فارم میں نظر آئے۔ انہوں نے دوسری اننگز میں چار اور میچ میں مجموعی طور پر 10 وکٹیں حاصل کیں، یہ پہلا موقع ہے کہ شاہین آفریدی نے ایک ٹیسٹ میں دس کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے کا کارنامہ سر انجام دییا۔
لیفٹ آرم اسپنر نعمان علی، جنہیں پہلے ٹیسٹ میچ میں نہیں کھلایا گیا تھا، انہوں نے دوسری اننگز میں تین وکٹیں حاصل کرکے اپنی اہمیت کا ثبوت دیا۔ حسن علی بھی دو وکٹوں کے ساتھ نمایاں رہے۔
سیریز کے سب سے نمایاں کھلاڑی شاہین شاہ آفریدی، فواد عالم رہے!
پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان سیریز میں جہاں بلے بازوں نے رنز بنائے، وہیں بالرز بھی پیچھے نہیں رہے۔
کپتان بابر اعظم مجموعی طور پر 193 رنز کے ساتھ پاکستان کے سب سے کامیاب بالر رہے، انہوں نے 4 اننگز میں دو نصف سنچریاں بنائیں، جس میں 75 رنز ان کا سب سے بڑا مجموعہ تھا۔
لیکن یہ سیریز شایقین کو یاد رہے گی فواد عالم کی وجہ سے، جنہوں نے دو میچز کی تین اننگز میں 90 کی اوسط سے 180 رنز اسکور کئے۔ ان کی اس کارکردگی میں ایک سنچری کے ساتھ ساتھ ایک نصف سنچری بھی شامل تھی، جبکہ فیلڈ میں انہوں نے تین شاندار کیچ بھی پکڑے۔
بالرز کی اگر بات کی جائے تو دو میچز میں 18 وکٹیں حاصل کرنے والے شاہین شاہ آفریدی سب سے بہت آگے رہے۔ انہوں نے نہ صرف دوسرے میچ کی پہلی اننگز میں کیرئیر بیسٹ بالنگ کرتے ہوئے چھ وکٹیں اپنے نام کیں، بلکہ پہلی مرتبہ ایک ٹیسٹ میں دس وکٹوں کا کارنامہ بھی سر انجام دیا۔ محمد عباس اور حسن علی چھ، چھ وکٹوں کے ساتھ بالتریب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔
ویسٹ انڈیز کی جانب سے نہ تو کوئی سنچری بنی، نہ ہی کسی بالر نے دس وکٹوں کا کارنامہ سرانجام دیا۔ ان کے سب سے کامیاب بالر جیڈن سیلیز رہے جنہوں نے دو میچز میں 11، اور اننگز میں ایک مرتبہ پانچ وکٹیں حاصل کیں۔
جیسن ہولڈر اور کیمار روچ نے بھی آٹھ آٹھ وکٹیں لیں، لیکن ایک اننگز میں دونوں میں سے کوئی بھی تین وکٹ سے زیادہ نہ حاصل کرسکے۔
