ویب ڈیسک —
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، کابل ائیرپورٹ دھماکوں میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 13 ہو گئی ہے، جبکہ زخمی فوجیوں کی تعداد 18 بتائی گئی ہے۔ اس سے قبل امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے منعقدہ پریس بریفنگ میں بتایا گیا تھا کہ جمعرات کے دن کابل ایئرپورٹ کے ایک داخلی گیٹ کے قریب ہونے والے دو خود کش بم دھماکوں کے نتیجے میں 12 امریکی فوجی ہلاک، جب کہ 15 زخمی ہوئے ہیں۔جبکہ خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹڈ پریس نے نام نہ بتانے کی شرط پر ایک افغان اہل کار کے حوالے سےرپورٹ کیا ہے کہ ان خودکش حملوں میں کم از کم 60 افغان شہری ہلاک، جب کہ 143 زخمی ہوئے۔ دھماکے انخلا کے لیے ائیر پورٹ کے باہر موجود افغان باشندوں کی بھیڑ کے درمیان ہوئے۔
وائس آف امریکہ کی نمائندہ کارلا بیب نے امریکی سینٹ کام کے پبلک افئیرز آفیسر کیپٹن بل اربن نےکابل ائیر پورٹ کے ایبی گیٹ پر دھماکوں میں زخمی ہونے والا تیرھویں امریکی فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ زخمی امریکی فوجیوں کی تعداد اٹھارہ ہے، جنہیں طبی امداد کی ضروری سہولتوں سے لیس سی سیونٹین طیاروں پر کابل سے نکالا جا رہا ہے۔
اس سے قبل امریکی سینٹرل کمان کے کمانڈر جنرل کنیتھ میکنزی نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ”امریکیوں کے انخلا کے لیے ہم نے اپنا مشن جاری رکھا ہوا ہے”؛ اور "داعش کی کوئی دہشت گردی اس کام کی انجام دہی میں کسی طور پر آڑے نہیں آ سکتی”۔
انٹرنیٹ لائنز پر منعقدہ بریفنگ کے دوران پینٹاگان کے ترجمان، جان کربی بھی موجود تھے۔ اعلیٰ ترین امریکی عہدے دار نے بتایا کہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ حملے داعش (خراسان) کے گروپ نے کیے۔
جان کربی نے بتایا کہ دونوں دھماکے ایئرپورٹ کے قریب ہوئے، جو ہوٹل سے زیادہ فاصلے پر واقع نہیں تھے۔

ایک سوال کے جواب میں جنرل میکنزی نے واضح کیا کہ اس وقت کابل ایئرپورٹ پر امریکہ کے انتہائی پیشہ ور فوجی اہل کار تعینات ہیں، اور ہم مستعدی کے ساتھ اپنا مشن جاری رکھیں گے۔
ہوائی اڈے کے باہر کی سیکیورٹی کے نظام کے بارے میں، جنرل میکنزی نے بتایا کہ باہر کا علاقہ طالبان کے کنٹرول میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ دھماکوں کی تفصیل جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق، دولت اسلامیہ (خراسان) دھڑے نے بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
ان اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ان دو خودکش بم حملوں کے علاوہ حملہ آوروں نے انخلا کے منتظر افغان باشندوں پر گولیاں برسائیں، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔
اس سے قبل ایک امریکی اہل کار نے بتایا تھا کہ یہ ایک پیچیدہ نوعیت کا حملہ تھا، جس کے بارے میں خیال ہے کہ یہ داعش کے گروپ نے کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ افغانستان میں دولت اسلامیہ کا یہ گروہ طالبان سے کہیں زیادہ قدامت پسند ہے۔
ایک بیان میں طالبان نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

