طالبان کی جانب سے افغانستان میں توقع سے بھی کم عرصے میں مکمل طور پر کنٹرول سنبھالنا ہر کس کے لیے ایک غیر متوقع پیش رفت ثابت ہوئی۔ مارچ 2020 کو امریکہ اور طالبان کے مابین طے پانے والے معاہدے کے بعد طالبان کی پیش قدمی میں ویسے بھی تیزی آ گئی تھی۔ بائڈن انتظامیہ کی امریکہ کے افغانستان سے انخلا سے متعلق ٹرمپ دور کی پالیسیوں پر اسی طرح عمل پیرا ہونے سے طالبان کے ہاتھ مزید مضبوط ہوتے گئے۔ بعد ازا ں انخلا کے عمل کو مقررہ تاریخ سے قبل ہی پایہ تکمیل کو پہنچانے سے طالبان نے با آسانی کابل کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ جس کے بعد افغان حکومت کی حیثیت سرکاری طور پر کالعدم بن گئی اور افغان قومی فوج منتشر ہو گئی۔ اب ہمارے سامنے طالبان کے کنٹرول میں ہونے والا ایک نیا افغانستان ہے۔ جواب کی تلاش ہونے والا اہم ترین سوال طالبان کے دوسرے دور میں افغانستان کس طرح عالمی اسٹیج پر نمو دار ہو گا؟
سیتا خارجہ پالیسی تحقیقاتی امور کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر مراد یشل طاش کا مندرجہ بالا موضوع ۔۔۔
ہمارے سامنے تین سناریو موجود ہیں، جن میں سے پہلا سناریو یہ ہے کہ طالبان ایک وسیع البنیاد حکومت قائم کریں گے۔ مختلف نسلی اور مذہبی گروہوں سمیت سابقہ ملازمین کے شامل ہونے والی حکومت طالبان کو ملک کا نظام زیادہ آسانی سے سنبھالنے اور عالمی برادری کا تعاون حاصل کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔ اس پلاٹ میں دفاع، سلامتی، خفیہ معلومات اور اقتصادیات کی طرح کے اہم اور مؤثر ہونےو الی وزارتیں طالبان کے زیر کنٹرول جبکہ کم اہم ہونے والی وزارتیں دیگر گروہوں کے سپرد کی جا سکتی ہیں ۔ تا ہم اعتدال پسند پلاٹ حکومت کے کس طریقے سے قائم کیے جانے تک محدود نہیں، بلکہ طالبان کو شرعی اصولوں پر عمل درآمد کو بھی اعتدال پسندی کے ساتھ لاگو کرنا بھی حد درجے اہمیت کا حامل ہے۔ ابتک کے بیانات میں خواتین کے کام کاج کے معاملے میں رواداری کے حامل پیغامات دینے والے طالبان کو 31 اگست کے بعد بھی انہی پیغامات پر کا ربند رہنا اور ان پر عمل درآمد کرنا ہو گا۔ کیونکہ متعدد ممالک نے مذکورہ سناریو کی حمایت کے باوجود طالبان کے عملی کاموں کے اہم ہونے کے بیانات جاری کیے ہیں۔
دوسرا سناریو طالبان کے سادہ اکثریت کے ساتھ ملکی نظام کو اپنے ہاتھ میں لینے پر مبنی ہے۔ اس پلاٹ کے مطابق طالبان اقتدار کو مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے ملکی ڈھانچے کو اپنے اصولوں کے مطابق وضع کرنے کی کوشش کریں گے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ شرعی اصولوں کو کہیں زیادہ سخت طریقے سے لاگو کرتے ہوئے معاشرے کو اپنے زیر تسلط لینا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو پھر سیکیورٹی، معیشت، سماجی زندگی جیسے شعبہ جات میں کہیں زیادہ سخت گیر طالبان کا سامنا کرنا ممکن بن سکتا ہے۔
تیسرا سناریو تشدد اور خوف کے حاوی ہونے والی کسی انتظامیہ کے قیام پر محیط ہے۔ 1996 تا 2001 کے دورانیہ میں طالبان نے سخت قسم کے اصولوں کو وضع کرتے ہوئے پورے سماج کو اپنے دباؤ میں لینے والی انتظامیہ قائم کر رکھی تھی۔ لہذا طالبان اس طرز کے اقتدار کے اثرات سے آگاہ ہیں۔ نئی قائم ہونے والی طالبان انتظامیہ کے ساتھ تشدد اور دباؤ کا پیش پیش ہونا بلا شبہہ طالبان کو اندرون ِ اور بیرونِ ملک قدرے کمزور بنا دے گا۔ تا ہم طالبان کے کسی واحد ڈھانچے کے حامل نہ ہونے کو بالائے طاق رکھنے سے یہ کہنا ممکن ہے کہ اعتدال پسند پیغامات دیے جانے کے باوجود مذہبی، سیاسی اور فوجی شعبہ جات کے مابین نظریاتی اختلاف پیدا ہونے کی صورت میں تشدد اور دباؤ کے ماحول کی اجارہ داری ہونے والی ایک اقتدار پارٹی منظر عام پر آسکتی ہے۔ اس طرز کا سناریو بیک وقت ملک کے مختلف علاقوں میں طالبان مخالف مقامی بغاوتیں پھوٹنے کا ماحول پیدا ہونے کا موجب بھی بن سکتا ہے۔
طالبان کا کس طرح کی انتظامیہ قائم کرنا ملکی مستقبل کے اعتبار سے قدرے اہمیت کا حامل ہے۔ مکمل طور پر بند کسی انتظامیہ کا قیام افغانسان کے موجودہ مسائل کو مزید گہرائی دے سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ملک میں 1 کروڑ بچے فاقہ کشی کے شکار ہیں، جبکہ 1.4 کروڑ انسانوں کو معیاری خوراک تک رسائی کے سنگین مسائل درپیش ہیں، جو کہ ملکی آبادی کے ایک تہائی کو تشکیل دیتا ہے۔ طالبان چاہے جیسی بھی حکومت کیوں نہ قائم کریں ان کو گھمبیر مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان مسائل کو حل کرتے ہوئے افغانستان کی ملکی باگ ڈور کو سنبھالنا معتدل سناریو کو عملی جامہ پہنانے پر منحصر ہے۔ وگرنہ افغانستان کہیں زیادہ خونی خانہ جنگی کا سامنا کر سکتا ہے۔
