English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بلاول کا حکومت سے حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر چین کے اعتراضات دور کرنےکا مطالبہ

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرنے کا مطالبہ کرتےہوئے کہا کہ حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر چین کے اعتراضات دور کیے جائیں۔

ٹھٹہ میں پریس کانفرنس میں چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام وزیراعظم عمران خان کی تین سالہ کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے 50 لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن غریبوں کے سر چھت چھین لیا اور کشمیر سے کراچی تک نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لے کر پھر رہے ہیں، لیکن روزگار نہیں مل رہا، یہاں تک کہ جن کے پاس روزگار تھا، گزشتہ تین برسوں کے دوران انہیں بھی بے روزگار کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیل ملز کو بند کرکے 10 ہزار ملازمین کو بے روزگار کیا گیا، حال ہی میں عدالت سے حکم آیا ہے، جس کے تحت 16 ہزار خاندانوں سے روزگار چھینا جائے گا، یہ بھی خان صاحب کی کارکردگی میں گنا جائے گا۔

‘پاکستان کے عوام نے عمران خان کو مسترد کردیا ہے’

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اس موجودہ نالائق، نااہل اور ناکام ترین حکومت سے نجات ملے، جس نے ان کے جیب اور پیٹ پر ڈاکا ڈالا ہے۔

وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت نے جہاں روزگار کی چوری کی ہے، وہی پانی کی چوری کی ہے، جہاں چھت کی چوری کی ہے وہاں خان صاحب نے اس صوبے وسائل چھیننے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی سمجھتی ہے کہ پاکستان کے عوام نے عمران خان کو مسترد کردیا ہے اور سمجھتے ہیں کہ ان تین برسوں میں حکومت کہیں نظر آئی ہے تو تاریخی غربت اور بے روزگاری کی شکل میں نظر آئی ہے۔

چیئرمین پی پی نے کہا کہ پاکستان کے عوام اب پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب دیکھ رہے ہیں۔

افغانستان کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کابل میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں اور امید ہے ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی دہشت گردی افغانستان اور پاکستان کے عوام نہیں چاہتے ہیں، ہم سب کو مل کر، کسی کو یہ اجازت نہیں دینا ہے کہ دونوں ملکوں کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہو۔

انہوں نے کہا کہ سرحد پر باڑ لگائی گئی ہے، یہ بڑی کامیابی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں جو بھی صورت حال ہوگی، اس کا اثر یہاں بھی ہوگا اور امید ہے کہ پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا یا افغانستان کی وجہ سے نہیں بلکہ پاکستان اپنے شہریوں کو تحفظ دینے کے لیے یہ یقینی بنائے کہ کوئی انتہاپسند انہیں نقصان نہ پہنچا سکے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت پاکستان اس حوالے سے جائزہ لے۔

‘سی پیک کی سیکیورٹی کا جائزہ لینا پڑے گا’

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہماری سیکیورٹی کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرنا بہت ضروری ہے جو نہیں ہو پا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سی پیک کی سکیورٹی کے منصوبے کا جائزہ لینا پڑے گا اور سی پیک کی سیکیورٹی پر ہمیں خرچ کرنا پڑے گا، اس لیے کہ سی پیک پاکستان کی معیشت اور معاشی ترقی کا اثاثہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مخالف دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کے عوام، معاشی ترقی اور سی پیک کو نشانہ بنانے کی کوشش کریں گے، اس لیے ہم حکومت سےمطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ان دہشت گردی کے واقعات پر چین کے جو تحفظات ہیں، چاہے وہ گوادر میں دہشت گردی کا واقعہ ہو یا داسو میں دہشت گردی کا واقعہ ہو ، اس پر چین کے اعتراضات کو دور کریں۔

سندھ میں پانی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کے دوران ارسا کا جو کردار رہا ہے وہ جابرانہ ہے، ماضی میں ایسا کبھی نہیں ہوا، یہ حکومت وفاق کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

’16 ہزارملازمین کی برطرفی کے خلاف اپیل کریں گے’

سپریم کورٹ کی جانب سے حال ہی میں کیے گئے 16 ہزار ملازمین کی برطرفی کے فیصلے پر سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے یہ ایک غیرآئینی اور غیر جمہوری قدم ہے، جہاں پاکستان میں معاشی بحران ہے، ایسے میں 16 ہزار خاندانوں سے روزگار چھینا گیا ہے، یہ ان کا حق تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ پارلیمان سے منظور ہونے والا ایک قانون تھا، جس کے تحت انہیں روزگار دیا گیا تھا، سندھ حکومت سے کہا ہے اس کیس میں اپیل کے لیے درخواست دے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت سے بھی وکلا کا پینل دیں گے اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی لائرونگ سے بھی کہیں گے وہ بھی ساتھ دیں، مگر یہ کوئی غیراہم معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک تسلسل ہے۔

‘ہمارے چیف جسٹس سے روزگار چھیننے کی کوشش کی جاتی ہے’

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ اگر روزگار چھیننا ہوتو اسٹیل ملز کے ملازمین کا روزگار چھینا جاتا ہے، پورے ملک میں پبلک سروس کمیشن چل سکتا ہے، اس صوبے کے عوام کو روزگار دلا سکتا ہے مگر سندھ پبلک کمیشن بند کیا جاتا ہے اور سندھ کے نوجوان کا روزگار کا حق اس معاشی بحران میں چھینا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کے افسران جو سندھ سے تعلق رکھتے ہیں، ان کو بیک جنبش قلم سے بے روزگار کیا جاتا ہے، پھر یہ 16 ہزار ملازمین جن کو شہید بینظیر بھٹو نے روزگار دیا تھا، ان سے بھی روزگار چھینا جا رہا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہاں تک کہ ہمارے چیف جسٹس سے روزگار چھیننے کی کوشش کی جاتی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کےفیصلے ہمارے وفاق، جمہوریت، عدلیہ کے نظام پر ایک سنگین سوال اٹھاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی اس کے خلاف پارلیمان، عوام کے سامنے اور جگہ جگہ نہ صرف مزاحمت کرے گی بلکہ اور قانونی چارہ جوئی کریں گے اور امید رکھتے ہیں ناانصافی کی جا رہی ہے، اس کو قابل عزت جج صاحبان ہماری اپیلوں پر درست کروائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ورنہ ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں رہا، ہمارے پاس احتجاج کے علاوہ کوئی آپشن نہیں رہے گا، ہم عدالت سے بھی اپیل کریں گے کہ اس فیصلے پر رجوع کریں۔

حکومت خطے کی بڑی تبدیلی سے لاتعلق، معاملات اسٹبلشمنٹ طے کررہی ہے، مولانا فضل الرحمٰن

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ بدقسمتی سے اس وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی موجود ہی نہیں— فوٹو: ڈان/شہباز بٹ

جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ عمران حکومت خطے کی اس بڑی تبدیلی سے لاتعلق ہے، یہاں اسٹیبلشمنٹ معاملات ڈیل کررہی ہے اور حکومت کا کوئی کردار نظر نہیں آ رہا۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے کہا کہ قوم کو عام انتخابات چاہئیں، ہماری عدلیہ چھوٹے موٹے مسائل پر ازخود نوٹس لیتی ہے لیکن 25جولائی 2018 کا الیکشن پاکستان کی تاریخ کا بدترین واقعہ تھا اور قومی سطح پر اس کے خلاف احتجاج بلند ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عدلیہ اس انتخابات کو کالعدم قرار دیتی، عوامی احتجاج کا احترام کیا جاتا اور ازسرنو نئے انتخابات کے لیے ہدایات جاری کرتے، آج جب مسئلہ قومی سطح پر عام انتخابات کا ہے تو بلدیاتی انتخابات قوم کا مطالبہ نہیں ہے لہٰذا عوام کے مطالبات کا احترام کیا جانا چاہیے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ حال ہی میں خواتین کی بے حرمتی اور نوجوان نسل کی بے راہ روی کے حوالے سے لاہور میں جو واقعات رونما ہوئے، اس پر تعجب کی بات یہ ہے کہ ہمارا ناجائز حکمران قوم کو حیا کی تعلیم دے رہا ہے حالانکہ بے حیائی اور فحاشی ان کا ایجنڈا ہے اور نئی نسل کی بے راہ روی میں عمران خان اور ان کی پارٹی کی ذہنیت اور ایجنڈے کا بہت بڑا دخل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں نئی نسل کو راہ راست پر لا کر باوقار اور باعزت معاشرہ تشکیل دیناہے تو اس کے لیے ایسے حکمرانوں کا خاتمہ ضروری ہے جو ملک میں مادر پدر آزاد معاشرے کو تشکیل دینے کے لیے وسائل استعمال کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت افغانستان میں طالبان امارات اسلامیہ نے جو فتوحات حاصل کی ہیں اور اس کے باوجود وہ اپنی حکومت کے بجائے ایک وسیع البنیاد حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں تو ہم اس حکمت عملی کی حمایت کرتے ہیں اور عالمی قوتوں سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی شرائط نہ لگائیں۔

جمعیت علمائے اسلام(ف) کے قائد نے مزید کہا کہ عالمی قوتوں کی 20سالہ پالیسیوں نے انسانیت کا خون کیا ہے اور جن کے ہاتھوں سے انسانیت کا خون ٹپک رہا ہو ان کے منہ میں امن کی بات عجیب لگتی ہے، انہیں اپنا جرم اور غلطی تسلیم کر لینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں 20سالہ جنگ کے ہم پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اگر وہاں پرامن معاشرہ تشکیل پاتا ہے تو اس کے مثبت اثرات بھی پاکستان پر مرتب ہوں گے اور خطے میں ایک یکجہتی کی فضا تشکیل پائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں یقیناً ایسی قوتیں ہیں جو طالبان کی فتوحات اور پرامن سیاسی نظام کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں لیکن میری معلومات کے مطابق جن جگہوں پر کشیدگی ہے، وہاں معاملات حل ہونے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ بدقسمتی سے اس وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی موجود ہی نہیں ہے، عالمی برادری پاکستان کو کسی بھی ایسے فورم پر بیٹھنے کی حقدار نہیں سمجھتی کہ جس میں ہم پاکستان کو اسٹیک ہولڈر تصور کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے نمائندے کو بات نہیں کرنے دی گئی، ان امور میں پاکستان کی وزارت خارجہ کا اس وقت کوئی کردار نہیں ہے اور اگر ہے تو پس پشت ہی کوئی کارکردگی ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران حکومت خطے کی اس بڑی تبدیلی سے لاتعلق ہے، یہاں اسٹیبلشمنٹ معاملات ڈیل کررہی ہے، وہی فرنٹ پر ہے اور حکومت کا کوئی کردار نظر نہیں آ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیر خارجہ شریف آدمی ہیں اور وہ کارکردگی دکھانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اس کے عالمی سیاست پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ اگر انہیں طالبان کی طرف سے کردار ادا کرنے کا کہا جاتا ہے تو وہ کیا کریں تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ میں ایک سیاسی کارکن ہوں، ایک طویل عرصہ خارجہ امور سے وابستہ رہا ہوں، خارجہ امور کسی فرد یا پارٹی کی نہیں بلکہ ریاست کی ذمے داری ہوتی ہے اور میں ریاست سے آگے نہیں نکلنا چاہتا۔

جے یو آئی-ف کے سربراہ نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے حوالے سے سوال پر کہا کہ ہم ایک جمہوری جدوجہد کررہے ہیں، ہم نے اپنا نظریہ برقرار رکھا ہے اور عام آدمی نے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے کہ یہ حکومت ناجائز اور نااہل بھی ہے۔

انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی اپنا راستہ جدا کر چکی ہے اور ہم ان کی تمام کمزوریاں جانتے بوجھتے بھی اس لیے زیر بحث نہیں لانا چاہتے کہ ہم کئی محاذ نہیں کھولنا چاہتے اور پی ڈی ایم کے اعلامیے اور قوم سے جو ہمارا وعدہ ہے، اس پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پی ڈی ایم کے فیصلے شہبازشریف خود نہیں کیا کرتے، یہ 9 جماعتوں کا فورم ہے اور سب مل کر اپنی پالیسی طے کرتے ہیں، کل کراچی میں سربراہی اجلاس ہے اور پرسوں ایک فقیدالمثال جلسہ ہو گا جس میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت متوقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عمران یا تحریک انصاف کی کوئی حکومت نہیں ہے، حکومت اسٹیبلشمنٹ کی ہے اور وہ سویلین معاملات، خارجہ پالیسی اور اندرونی معاملات سمیت تمام امور دیکھ رہے ہیں اور نمائش کے لیے ان کو سامنے لے آتی ہے۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے