وزیرِ دفاع خلوصی آقار نے اطلاع دی ہے کہ ترکی نے افغانستان سے 48 گھنٹوں سے بھی کم مدت میں فوجی کارکنان کا انخلا کر لیا ہے۔
افغان دارالحکومت کابل سے لوٹنے والے ترک فوجیوں کے لیے انقرہ میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس دوران وزیر دفاع خلوصی آقار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’ترکی نے تمام تر خطرات اور پیش رفت کا قریبی طور پر جائزہ لیا ہے۔ ترک جیالوں نے افغانستان میں اپنے فرائض کو بخوبی سر انجام دیا ہے۔ اس ملک میں مجموعی طور پر 20 ہزار ترک فوجی مختلف فرائض پر مامور رہے ہیں اور انہوں نے افغان عوام کے دل جیتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ عالمی برادری اور نیٹو کا احترام بھی حاصل کیا ہے۔‘‘
توقع سے بھی کہیں زیادہ سرعت سے صدر رجب طیب ایردوان کی ہدایت پر افغانستان سے نقل مکانی کو ممکن بنائے جانے کی توضیح کرتے ہوئے وزیر نے بتایا کہ ’’تاجکستان اور پاکستان کو بھیجے گئے 8 طیاروں کے ذریعے کابل۔ اسلام آباد کے مابین فضائی پل قائم کیا گیا، جس کی بدولت 48 گھنٹے سے بھی کم مدت میں انخلا عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا گیا ہے، کھٹن حالات بلا کسی مسئلے کے اس کام کو مکمل کرنا ترک مسلح افواج کی طاقت کا مظہر ہے۔ ‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ کابل میں ہونے والے مذموم دہشت گردحملوں کی میں مذمت کرتا ہوں ۔اور کابل ہوائی اڈے کا نظام سنبھالنے کے لیے ہمارا عملہ تیار ہے، ہر کوئی جان لے۔
