صدر رجب طیب ایردوان نےکہا ہے کہ ہم افغانستان میں صورت حال پر امن بنانے میں ں تعاون کے لیے تیار ہیں۔
صدر ایردوان نے بوسنیا اور مونٹی نیگرو سے وطن واپسی پر طیارے میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کی ۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورت حال کا ہم قریبی جائزہ لے رہے ہیں،اس بار طالبان کی حکومت اور ان کے انتظامی طرز عمل کا ہمیں انتظار ہے ،ترکی نے بیس سال تک افغانستان میں ہر قسم کے تعاون میں مدد فراہم کی ہے،افغانستان کی موجودہ صورت حال پر اب یہ منحصر ہے،افغان عوام اب خود پر بھاری بوجھ برداشت نہیں کر سکتے،ہم افغانستان میں اتحاد و یک جہتی میں تعاون پیش کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن اس کےلیے طالبان کا موقف ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترک سفارت خانہ دو ہفتوں سے کابل کے ہوائی اڈے پرعارضی طور پر فرائض ادا کر رہا ہے کیونکہ ہمارے ملازمین کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔
آرمینیا سے تعلقات کے حوالے سے صدر نے کہا کہ ہم تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش کریں گے، نظریاتی توقعات میں اختلافات کے باوجود ہم،علاقائی سالمیت اور حاکمیت کے احترام پر مبنی ہمسایہ تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ دشمنی کے بجائے امن و اتحاد کے حامل مثبت اور مفید اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے،یک طرفہ الزام تراشیوں کی جگہ روشن خیالی اور حقائق کا سامنا کرنا ہوگا جس کے تحت ترکی مرحلہ وار طریقے سے آرمینیا سے تعلقات میں بہتری لا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں امن و استحکام ترقی کے لیے ناگزیر ہے جس کے لیے ہم نے آذربائیجان اور آرمینیا کو ایک جامع معاہدے کےلیے تجویز پیش کی ہے۔
