الد، چاچا اور دادا کے خون کے انصاف کیلئے قانونی جنگ لڑنے والی ام رباب کا کہنا ہے کہ نام نہاد سرداران کی جانب سے ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔
اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ٹویٹ کرتے ہوئے ام رباب نے لکھا کہ میری آواز بنیں اس سے پہلے کہ میں بھی ماری جاؤں۔ اس سے قبل پریس کانفرنس میں بلاول بھٹو سے مخاطب ہو کر کہا تھا کہ ” مسٹربلاول میری زندگی کو خطرہ ہے، کچھ ہوا تو ذمہ دار سردار ہونگے. آپ کے سردارمیری جان کے دشمن ہیں۔”
میری آواز بنیں اس سے پھلے کے میں بھی ماری جائوں!#SaveUmeRubab
— Ume Rubab (@UmeRubabchandio) August 31, 2021
اس سے 3 دن قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے ام رباب چانڈیو نے بتایا تھا کہ ہمارے کیس کی سماعت دادو کی کرمنل ٹرائل کورٹ ہوئی، عدالت سے واپسی پر نامزد ملزمان نے ہمیں ہراساں کیا۔
ام رباب نے الزام عائد کیا کہ مقدمےمیں نامزد ملزمان نے مجھےقتل کرنے کی کوشش کی، سماعت کے بعد ملزمان نے گاڑیوں میں ہمارا پیچھا کیا اور گاڑیوں کے زریعے راستہ تنگ کرکے ہمیں روڈ سے اتارنے کی کوشش کی، مگر الله کا لاکھ لاکھ شکر ہے ہم محفوظ رہے۔
سندھ کی بہادر بیٹی ام رباب چانڈیو سندھ کے با اثر سرداروں کے خلاف اپنے باپ، دادا اور چچا کا تہرا قتل کیس لڑ رہی ہے
عدالت پیشی سے واپسی پر ام رباب کا سیکیورٹی حصار توڑ کر انہی سرداروں کے قافلے نے اسکی گاڑی کو ٹکر ماری اور قتل کرنے کی کوشش کی#SaveUmeRubab pic.twitter.com/u7Xery3p1X
— Adeel Ahmed (@AdeelAhmedSays) August 31, 2021
پریس کانفرنس کرتے ہوئے ام رباب نے کہا تھا کہ اعلیٰ حکام کو بتانا چاہتی ہوں کہ میری زندگی کو خطرہ ہے، مجھے اور فیملی کو کچھ ہوا تو ذمہ دار قتل میں نامزد سردار ہونگے۔
تاہم آج سوشل میڈیا پر سرگرم ام رباب نے ایک بار پھر لکھا کہ ان کی اور ان کے خاندان کی جان خطرے میں ہے۔ انہوں نے لکھا کہ “اگر سردار مجھ پہ قاتلانہ حملہ کرکے یہ سمجھ رہے ہیں کہ سندھ کی بیٹی ام رباب ڈر جائیگی تو یہ ان کا وہم ہے! ہاتھ جن میں ہو جنون کٹتے نہیں تلوار سے سر جو اٹھ جاتے ہیں وہ جھکتے نہیں للکار سے اور بھڑکے گا جو شعلہ سا ہمارے دل میں ہے سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے”
اگر سردار مجھ پہ قاتلانہ حملہ کرکے یہ سمجھ رہے ہیں کہ سندھ کی بیٹی ام رباب ڈر جائیگی تو یہ ان کا وہم ہے!
ہاتھ جن میں ہو جنون کٹتے نہیں تلوار سے
سر جو اٹھ جاتے ہیں وہ جھکتے نہیں للکار سے اور بھڑکے گا جو شعلہ سا ہمارے دل میں
ہے سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے#SaveUmeRubab pic.twitter.com/TA9KCkBk2N— Ume Rubab (@UmeRubabchandio) August 31, 2021
یاد رہے کہ سندھ کے ضلع دادو کی تحصیل مہیٹر میں تین سال قبل مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ایک ہی خاندان کے تین افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔
مقتول کی بیٹی امِ رباب کی سندھ ہائی کورٹ کے باہر ننگےاحتجاجاً ننگے پیر آنے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس کے بعد اس کیس کو ہائی پروفائل قرار دیا گیا۔ ام رباب کا دعویٰ ہے کہ اُن کے والد، دادا اور چچا کو پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی نے قتل کروایا۔
ام رباب کی زندگی بچانے کے لیے سوشل میڈیا پر صارفین نے ان کے لیے آواز بلند کرنے کا فیصلہ کیا اور چند ہی لمحوں میں ان کے حق میں بہت ساری ٹویٹس کر دی گئیں۔ ام رباب سے اظہار یکجہتی کے لیے ٹوئٹر پر #SaveUmeRubab کا ٹرینڈ چلایا جارہا ہے۔
سندھ دھرتی کے مردوں کی غیرت کہاں؟
غیور سندھی کہاں؟
قاتل #برہان_چانڈیو
قاتل MPA .ppp#سردار_خان_چانڈیو
ام رباب کے گھرانے سے سارے مرد قتل کرواۓ
بزدل ایک نہتی لڑکی سے ڈر رہا
تمام پاکستانی قوم کی بیٹی @UmeRubabchandio
کیلۓ آواز اثھاٸ
اس ٹرینڈ کا حصہ بنیں #SaveUmeRubab pic.twitter.com/7a3WfC428A— حُسنِ جہاں (@RaheelaAmjad4) August 31, 2021
Today protest campaign BUITEMS university Quetta to save Ume Rubab and Justice for Ume Rubab chandiO✌️#SaveUmeRubab pic.twitter.com/HcHhD4kgZT
— Mir Shoaib Nadir Magsi (@MirShoaibNadir1) August 31, 2021
How long will criminals continue to roam free @UmeRubabchandio will continue to beg for justice from this apathetic society?PM @ImranKhanPTI,why has this girl not got justice till now?Is the law only for poor. Rich can live a life of luxury in spite of oppression.#SaveUmeRubab pic.twitter.com/iRVFF0gIhp
— Hi®️a Khan (@Hiro__90) August 31, 2021
گذشتہ دنوں والد، چاچا اور دادا کے خون کے انصاف کیلئے قانونی جنگ لڑنے والی ام رباب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کے اجلاس میں پھٹ پڑیں تھیں، ام رباب نے کمیٹی کو بتایا کہ تہرے قتل کیس میں نامزد ایم پی اے کی گرفتاری کے لیے پولیس نے چھاپہ مارا تو نثار کھوڑو حامی بن کر سامنے آگئے، ایس ایس پی کہتے ہیں کہ سندھ حکومت کا دباؤ ہے۔
ام رباب نے کمیٹی کے شرکا سے سوال کیا کہ اس کیس میں مداخلت کیوں کی جارہی ہے؟سیاسی جماعتیں اس معاملے پرسیاست نہ کریں، بلاول بھٹو قائمہ کمیٹی کےچئیرمین ہیں،امید ہےکہ وہ نوٹس لیں گے۔
![]()
