وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں اپنے جرمن ہم منصب ہیکو ماس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے افغانستان میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری کے تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انہوں نے جرمن وزیر خارجہ کو پاکستان مدعو کیا ہے جہاں وہ صورتحال کا بہتر اندازہ لگا سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ‘یہ آپ کو ایک بہت اچھا جامع نظریہ دے گا کہ چیلنجز کیا ہیں، خدشات کیا ہیں، مواقع کیا ہیں اور آنے والے دنوں میں کیا کرنے کی ضرورت ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘یہ افغانستان کی تاریخ کا ایک اہم لمحہ ہے، عالمی برادری کو مشغول رہنا چاہیے، انسانی امداد کا بہاؤ برقرار رہنا چاہیے، افغانستان میں معاشی تباہی نہ ہونے دیں’۔
وزیر خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ جرمنی اس حوالے سے درست فیصلے کرے گا۔
اہم تجارتی شراکت دار
جرمنی کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جرمنی پاکستان میں ایک اہم سرمایہ کار رہا ہے اور یورپی یونین کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔
انہوں نے کہا کہ جرمنی کے ساتھ تجارت کو مزید بڑھانے کے امکانات موجود ہیں اور بہت سے ایسے شعبے ہیں جہاں دونوں ممالک اقتصادی روابط کو فروغ دے سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘خصوصی اقتصادی زونز میں ایسے مواقع موجود ہیں جن سے جرمنی کو فائدہ اٹھانا چاہیے’۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستانیوں کے لیے فوری جرمن ویزا بھی اہم مددگار ثابت ہوگا۔
انخلا کی کوششیں
ہیکو ماس، جو افغانستان کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے تھے، کا کہنا تھا کہ ‘طالبان جامع حکومت بنانے کا وعدہ کیا ہے تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ان کے وعدے آنے والے دنوں میں قابل اعتماد ثابت ہوتے ہیں یا نہیں’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ ہمارے لیے اہم ہے کہ تمام افغان، یہاں تک کہ وہ جو طالبان کی حمایت نہیں کرتے، اس حکومت میں نمائندگی حاصل کرسکیں اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا طالبان اس کو مدنظر رکھتے ہیں یا نہیں’۔
انہوں نے کہا کہ جرمنی کابل ایئرپورٹ کے دوبارہ فعال ہونے کے بعد چارٹر پروازوں کے انتظام کے لیے دیگر کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہم پہلے ہی دیکھ رہے ہیں کہ لوگ زمینی راستوں سے افغانستان کی سرحدوں پر سفر کر رہے ہیں اور ہمیں اگر وہ اہل ہیں تو ان لوگوں کو جرمنی لانے کے لیے طریقہ کار کی ضرورت ہے ‘۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ اسی مقصد کے لیے دوحہ اور قطر بھی جائیں گے۔
انہوں نے کابل سے انخلا میں مدد کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مزید کہا کہ جرمنی افغانستان کے پڑوسی ممالک کی مدد کے لیے تیار کھڑا ہے اور وہ اس بحران کے وقت میں اسے ترک نہیں کرے گا۔
ہیکو ماس نے کہا کہ جرمنی افغانستان سے اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور آئندہ بھی ایسا کرتا رہے گا۔
اس سے قبل سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے جرمن وزیر خارجہ کی ایک ویڈیو ٹوئٹر پر شیئر کی جس میں بتایا گیا کہ شاہ محمود قریشی نے دفتر خارجہ (ایف او) میں ان کا استقبال کیا اور انہوں نے وہاں ایک پودا بھی لگایا۔
On his arrival at the Foreign Office, Foreign Minister of #Germany @HeikoMaas was warmly received Foreign Minister @SMQureshiPTI . The German FM also planted a sapling at the Foreign Office Lawns.#APPNews @GermanyDiplo @PakinGermany_ @FMPublicDiploPK #Pakistan pic.twitter.com/aNi6FyoEsU
— APP 🇵🇰 (@appcsocialmedia) August 31, 2021
