کہتے ہیں موت اور رزق انسان کو اس جگہ پر لے جاتا ہے جہاں وہ اس کے نصیب میں ہو۔ کچھ یہی
سرگودھا کے شہر شاہ پور میں محرم الحرام کی محفل مسالمہ کے دوران ہوا جہاں پنجابی شاعر
اسلم ملک اسٹیج پر اپنا کلام سنانے کے لیے موجود ہوتے ہیں۔
شاعر اسٹیج پر آکر میزبان کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور باقائدہ کلام سنانے کا آغاز کرتے ہیں۔ ارشد ملک
ایک شعر سناتے ہیں اور دوسرا مصرع شروع کرنے سے قبل ہی اسٹیج پر بیٹھے بیٹھے گر جاتے ہیں۔
اس دوران کچھ لوگ تو مرحوم شاعر کی مدد کے لیے آگے بڑھتے ہیں لیکن اسٹیج پر انسانیت کا سر اس
وقت شرم سے جھک گیا جب دیگر شعرا اپنے ساتھی کو اٹھانے کے بجائے موبائل فونز پر ویڈیوز
دیکھنے میں مصروف رہتے ہیں۔
بعد میں اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ غریب شاعر ارشد ملک محفل کے دوران ہی زندگی کی
بازی ہار گئے ہیں۔
اسے قسمت ہی کہہ سکتے ہیں کہ ان کی موت اس ادبی محفل کے اسٹیج پر لکھی جہاں وہ ان کو کھینچ لائی۔
ارشد ملک کی روح یقیناً خوش ہوگی کہ جس شاعری کے لیے ان کا دل دھڑکتا تھا اسی کی محفل کے
دوران ان کا انتقال ہوا۔
No related posts.
