نائب صدر فواد اوکتائے کا کہنا ہے کہ شام سے تعلق رکھنے والے تیل کی لیکیج شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے کارپاز ساحلی علاقے کی جانب بڑھنے کی خبروں کے بعد اس معاملے کا قریبی طور پر جائزہ لیا جا رہا ہے اور ہم لازمی تدابیر اختیار کر رہے ہیں۔
اوکتائے نے اپنے بیان میں کہا کہ متعلقہ وزارتوں سے بات چیت ہوئی ہے اور وزارت مواصلات و بنیادی ڈھانچہ سمندر میں جبکہ وزارت ماحولیات و شہری آباد کاری کارپاز ساحلی علاقے میں کاروائیاں کرے گی۔
صدر رجب طیب ایردوان کے بھی اس پیش رفت کا قریبی طور پر جائزہ لینے پر زور دینے والے نائب صدر کا کہنا تھا کہ شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے صدر ایرسن تاتار سمیت ہم جزیرےکے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ترک سفارتخانہ لمحہ بہ لمحہ رپورٹنگ کر رہا ہے۔
ترکی کے ہمیشہ کی طرح اس معاملے میں بھی قبرصی ترک عوام کے شانہ بشانہ ہونے کی وضاحت کرنے والے اوکتائے نے بتایا کہ ’’ماحولیاتی فلاکت کا سامنا کرنے سے پہلے ہی ہم تمام تر امکانات کو بروئے کار لاتے ہوئے تدابیر اختیار کر رہے ہیں۔ ہمارا ہدف تیل کے ساحلوں تک پہنچنے سے قبل ہی سمندر میں کنٹرول میں لینا ہے۔ اس دائرہ کار میں متعلقہ تمام تر ادارے بر سر پیکار ہیں۔ ‘‘
