English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سید علی گیلانی کی تدفین، لواحقین کا جنازے میں شرکت کی اجازت نہ دینے کا الزام

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کو سری نگر میں ان کے گھر کے قریب حیدر پورہ کے علاقے میں جمعرات کی علی الصباح سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔

سید علی گیلانی کے اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے مرحوم کی میت تحویل میں لے کر اہلِ خانہ کو تدفین میں شرکت کی اجازت نہیں دی اور اپنے تئیں انہیں سپردِ خاک کیا۔

سید گیلانی کے صاحبزادے ڈاکٹر نعیم گیلانی نے کہا ہے کہ اُن کے والد نے وصیت کی تھی کہ انہیں سری نگر کے مزارِ شہداء میں دفن کیا جائے لیکن حکام نے اس کی اجازت نہیں دی۔

ان کے بقول لواحقین نے تدفین کے لیے جمعرات کی صبح تک کی مہلت طلب کی لیکن پولیس حکام نے یہ کہہ کر درخواست مسترد کر دی کہ سید گیلانی کو ایک گھنٹے کے اندر اندر مقامی قبرستان میں دفن کیا جائے اور اگر ایسا ہہ ہوا تو وہ خود ان کی تجہیز و تکفین کریں گے۔

اہلِ خانہ کے مطابق پولیس نے جمعرات کی صبح تین بجے کے قریب میت کو اپنی تحویل میں لیا اور اس دوران گھر کی خواتین کے مزاحمت کرنے پر انہیں دھکے بھی دیے گئے۔

نعیم گیلانی کے بقول "ابا جان کو کس نے غسل دیا، اُن کےجنازے میں کون شامل ہوا اور ان کی کس نے تدفین کی؟ اس کا ہمیں بالکل پتا نہیں۔”

سید علی گیلانی کے ایک اور صاحبزادے ڈاکٹر نسیم گیلانی نے وائس آف امریکہ کو بتایا "ہم نے ابا جان کی قبر کو آج صبح دس بجے کے قریب دیکھا اور وہاں فاتحہ پڑھی۔

یاد رہے کہ سید علی شاہ گیلانی طویل علالت کے بعد بُدھ کی شب وفات پا گئے تھے۔ ان کی عمر لگ بھگ 92 برس تھی۔

سید گیلانی عارضہِ قلب میں مبتلا تھے جو سری نگر کے حیدر پورہ علاقے میں واقع اپنی رہائش گاہ پر گزشتہ کئی برس سے نظر بند تھے۔

سید علی گیلانی کے ایک قریبی رشتے دار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ انہوں نے بُدھ کی سہہ پہر سینے میں شدید درد کی شکایت کی تھی جس کے بعد شام کو اُن کی حالت ابتر ہوئی اور شب دس بجے کے قریب انہوں نے آخری سانس لی۔

سرینگر میں کرفیو نافذ

سری نگر کے مختلف علاقوں میں مسلح پولیس اور نیم فوجی دستوں کی اضافی نفری تعینات ہے جب کہ سیکیورٹی فورسز نے حیدر پورہ علاقے کی مکمل ناکہ بندی کر دی ہے۔

انتظامیہ نے صحافیوں کو بھی حیدر پورہ کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی۔ سری نگر میں سخت کرفیو نافذ ہے اور کسی بھی جگہ جلسے یا تعزیتی اجتماعات منعقد کرنے یا جلوس نکالنے پر پابندی ہے۔

سوپور، بارہمولہ، کپواڑہ، بانڈی پور، اننت ناگ، پلوامہ، کلگام، ترال اور کئی دوسرے شہروں اور قصبوں میں بھی سخت حفاظتی پابندیاں نافذ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔



بھارت کی حکومت نے پانچ اگست 2019 کو کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کر کے اسے وفاق کے زیرِ انتظام علاقہ قرار دے دیا تھا۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس وجے کمار نے بتایا ہے کہ وادی میں انٹرنیٹ سروسز کو معطل کردیا گیا ہے اور حفاظتی پابندیاں حفظِ ما تقدم کے طور پر نافذ کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا امن و امان کو برقرار رکھنا پولیس کا فرض ہے اور بعض اقدامات احتیاط کے طور پر اٹھائے گئے ہیں۔

سید گیلانی کی وفات پر پاکستان کا اظہارِ افسوس

حکومتِ پاکستان نے سید علی شاہ گیلانی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستانی قوم آزادی اور انصاف کے لیے ان کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سید علی گیلانی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کے عظیم ہیرو اور ناتواں آواز تھی جو کسی بھی موقع پر اپنے نظریات سے نہیں پھرے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے سید علی گیلانی کے انتقال پر اعلان کیا کہ پاکستان کا قومی پرچم سرنگوں رہے گا اور سرکاری طور پر ان کی وفات کا سوگ منایا جائے گا۔

انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ہم سید علی گیلانی کی جدوجہد کو سلام پیش کرتے اور ان کے الفاظ کو اپنے دل و دماغ میں تازہ کیے ہوئے ہیں کہ: "ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔”

سید گیلانی کی سیاسی زندگی

سید علی گیلانی 29 ستمبر 1929 کو ضلع بارہمولہ میں جھیل وُلر کے کنارے آباد زوری منز گاؤں کے ایک متمول سید گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سوپور قصبے میں حاصل کی اور پھر لاہور کے اورئنٹل کالج سے غیر سائنسی علوم میں ڈگری حاصل کی۔

انہوں نے سیاسی، سماجی اور مذہبی موضوعات اور مسائل پر سیکڑوں کتابچے اور بڑی تعداد میں مضامین تحریر کیے ہیں۔ وہ ایک معتبر مصنف ہونے کے علاوہ ایک شعلہ بیان مقرر اور مبلغ بھی تھے اور اپنے مداحوں کے نزدیک اُن کی شخصیت گوناگوں اور کثیر جہتی تھی۔

وہ ایک درجن سے زائد کتابوں جن میں دو جلدوں پر مشتمل اُن کی جیل ڈائری ‘رودادِ قفس’ بھی شامل ہے کے مصنف ہیں۔

سید گیلانی نے اپنی سیاسی زندگی کاباضابطہ آغاز 1950 میں کشمیریوں کی تحریکِ مزاحمت سے عملی طور پر جڑنے کے ساتھ کیا تھا۔ وہ مشہور عالمِ دین اور مفسرِ قرآن اور جماعتِ اسلامی کے بانی سید ابو الاعلیٰ مودودی کو اپنا اتالیق مانتے تھے۔ وہ خود جماعتِ اسلامی جموں و کشمیر کے ایک رکن بنے اور بہت جلد اس کے چوٹی کے لیڈروں میں شمار ہونے لگے۔ انہیں پہلی بار 1964 میں قید کیا گیا۔

تاہم انہوں نے کشمیر کے مسئلے کے حوالے سے جماعت اسلامی کی بدلتی ہوئی سوچ اور اپروچ سے اتفاق نہ کرتے ہوئے 2003 میں اس سے علیحدگی اختیار کرلی اور پھر تحریکِ حریت جموں و کشمیر کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی۔

مارچ 2018 میں ان کی ایما پر اُن کے دستِ راست محمد اشرف خان صحرائی کو تحریکِ حریت جموں و کشمیر کا امیر مقرر کیا گیا۔ صحرائی رواں برس پانچ مئی کو جموں کے ایک اسپتال میں، جہاں انہیں صرف ایک دن پہلے ادھم پور علاقے کی مرکزی جیل سے منتقل کیا گیا تھا، کرونا وائرس کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے۔

سید گیلانی استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی کشمیری جماعتوں کے اتحاد حریت کانفرنس کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔ وہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں آبائی حلقے سوپور سے تین مرتبہ ( 1972، 1977 اور 1987) میں ووٹوں کی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے۔

سید گیلانی استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی کشمیری جماعتوں کے اتحاد حریت کانفرنس کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔

سید گیلانی استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی کشمیری جماعتوں کے اتحاد حریت کانفرنس کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔

انہوں نے 29 جون 2020 کو غیر متوقع طور پر کُل جماعتی حریت کانفرنس کے اُس دھڑے سے جس کی وہ قیادت کررہے تھے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ حریت کانفرنس استصواب رائے کا مطالبہ کرنے والی کشمیری جماعتوں کا ایک بڑا اتحاد ہے جو مارچ 1993 میں قائم کیا گیا تھا لیکن دس سال بعد لیڈرشپ میں بعض امور پر اختلافات کی بنا پر یہ دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ بعد ازاں کشمیر کے مسئلے پر سخت گیر مؤقف کے حامل اتحاد کے دھڑے کی قیادت سید گیلانی نے سنبھال لی جب کہ اعتدال پسند جماعتیں سرکردہ مذہبی اور سیاسی لیڈر میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں جمع ہو گئی تھیں۔

سید گیلانی نے حریت کانفرنس (گیلانی) سے خود کو علیحدہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے ایک آڈیو پیغام میں کہا تھا کہ وہ اتحاد کے اندر پائی جانے والی موجودہ حالت کے پیش نظر اسے خیر باد کہنے کو مناسب سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں حریت کانفرنس کو ایک مفصل خط بھی ارسال کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا "حریت کانفرنس کی موجودہ صورت حال کو مدںظر رکھتے ہوئے میں اس فورم سے مکمل علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔ میں اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کے ساتھ ساتھ اس فورم کے ساتھیوں کی کارکردگی کے لیے جوابدہی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد میں شامل اُن کے ساتھی اپنے لیے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔”

حریت کانفرنس (گیلانی) میں شامل بعض افراد کی یہ رائے تھی کہ انہیں اُن کی پیرانہ سالی اور بگڑتی صحت کے پیشِ نظر اتحاد کی ایسی سرگرمیوں سے الگ رکھا جائے جنہیں نبھانے میں انہیں مشکل پیش آسکتی ہے گو کہ انہیں چند سال پہلے حریت کانفرنس (گیلانی ) کا تا حیات چیئرمین مقرر کیا گیا تھا۔

عام لوگوں کے ایک وسیع حلقے میں بھی یہ سمجھا جاتا ہے کہ پانچ اگست 2019 کو بھارتی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر کی آئینی خودمختاری کو ختم کرنے اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کر کے براہِ راست نئی دہلی کے کنٹرول والے علاقے بنانے اور اس متنازع اقدام سے پیدا شدہ زمینی صورتِ حال میں سید گیلانی ایک فعال کردار ادا کرنے اور لوگوں کی رہنمائی کرنے سے قاصر رہے تھے۔

لیکن سید گیلانی نے اس نکتہ چینی کا جواب دیتے ہوئے اپنے خط میں لکھا تھا کہ "جسمانی کمزوری اور مختلف عوارض، روح کے مضمحل ہونے کے مترادف نہیں ہے، نہ قلب و ذہن کی قوت موقوف ہوئی ہے اور نہ ہی میرے جذبۂ حریت میں کوئی ضعف آیا ہے۔ اس دارِ فانی سے رحلت تک میں بھارتی استعمار کے خلاف نبرد آزما رہوں گا اور اپنی قوم کی رہنمائی کا حق حسبِ استطاعت ادا کرتا رہوں گا۔”

مشرف فارمولے سے اختلاف

سن 2003 میں اُس وقت کے پاکستان کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے کشمیری قیادت کو مبینہ طور پر بھارت کے ساتھ مذاکرات کا گرین سگنل دیا تو سید گیلانی نے اس کی بھر پور اور برملا طور پر مخالفت کی تھی۔

انہوں نے کشمیر پر ‘مشرف فارمولا’ کو کشمیری عوام اور پاکستان کے مفادات کے خلاف قرار دیا۔ اس کے فوراً بعد حریت کانفرنس نام نہاد سخت گیر اور اعتدال پسند دھڑوں میں تقسیم ہوگئی اور اسلام آباد نے میر واعظ عمر فاروق کی قیادت والی حریت کانفرنس کی تائید و حمایت کا اعلان کیا تو مقامی سیاسی حلقوں میں اس رائے کو تقویت ملی کہ اتحاد کو دو لخت کرنے میں پاکستانی حکومت کا ہاتھ ہے۔

لیکن صدر مشرف نے نومبر 2004 میں ایک انٹرویو میں اس الزام کی سختی کے ساتھ تردید کی کہ حریت کانفرنس کی تقسیم میں اُن کا یا پاکستانی حکومت کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ حریت کے دو دھڑوں میں تقسیم ہونے کے پیچھے اس کی قیادت میں پائی جانے والی انا پرستی اور ایک دوسرے پر بد اعتمادی کا بڑھتا ہوا رجحان تھا۔

سید گیلانی کو بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں اسلام پسند اور ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حامی حلقے کا ایک ترجمان اور قائد سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے اپنے اس مؤقف میں کبھی کوئی لچک پیدا نہیں کی۔ تاہم وہ یہ بھی کہتے تھے کہ کشمیر کے مسئلے کو اس کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق اور اس کے تاریخی پس منظر میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کرا کے حل کیا جانا چاہیے۔

سید علی گیلانی اور پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف سے ملاقات۔

سید علی گیلانی اور پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف سے ملاقات۔

اُنہیں 2020 میں پاکستان کے بڑے سویلین ایوارڈ ‘ نشانِ پاکستان’ سے نوازا گیا جس کی بھارت نے شدید نکتہ چینی کی تھی۔ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی ہم خیال سیاسی جماعتوں نے انہیں پاکستان کا ‘دُم چھلا’ قرار دیا تھا۔

سید گیلانی نے اپنے سیاسی عقائد کی وجہ سے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ جیل میں گزارا، بھارت میں ان پر پاکستان کا ‘پیڈ ایجنٹ’ ہونے کا الزام بھی لگایا جاتا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سید گیلانی نے گزشتہ کئی دہائیوں پر محیط اپنے سیاسی کریئر میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں اسلام پسند اور پاکستان حامی سیاسی کیمپ کو فعال رکھنے میں اہم اور کلیدی کردار ادا کیا۔

سید گیلانی بعض متنازع فیصلوں کے باعث وہ اپنے حامیوں اور حریفوں دونوں کی نکتۂ چینی کا ہدف بھی بنتے رہے لیکن اُن کے مداحوں کی تعداد وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتی ہی چلی گئی اور وہ کشمیر کے سیاسی منظر نامے پر ایک ایسے قائد کے طور پر ابھرے جن کے بارے میں عام لوگوں کی یہ رائے ہے کہ وہ اصولوں اور مؤقف پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ یہی ان کی عوامی مقبولیت کی بنیاد بھی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے