حریت کی علامت کشمیری بزرگ لیڈر سید علی گیلانی کو صبح سویرے 4بجکر 37 منٹ پر حیدرپورہ
میں سپردخاک کر دیا گیا۔ جنازہ میں رشتہ داروں سمیت صرف چند افراد کو شرکت کی اجازت دی گئی۔
عظیم رہنما نے اپنی زندگی کے آخری 12 سال قید میں گزارے اور اسی قید میں گزشتہ شب ساڑھے دس بجے
اپنی رہائش گاہ حیدرپورہ سری نگر میں انتقال کر گئے۔ 92 سالہ سید علی گیلانی کو شہدا کے قبرستان
میں سپردخاک کیا گیا۔
سید علی گیلانی کی زندگی کشمیر کی جدوجہد کے نام
بھارت کی حکومت کو خدشہ تھا کہ کہیں جنازہ میں لاکھوں افراد کی شرکت سے آزادی کی تحریک مزید
زور نہ پکڑ جائے۔ اسی خوف نے پوری وادی میں غیراعلانیہ کرفیو جیسی صورت حال پیدا کر دی تھی۔
سید علی گیلانی کی زندگی کا بیشتر حصہ اسیری میں گزرا لیکن وہ اپنی آزادی کی جدوجہد سے پیچھے
نہیں ہٹھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ایک بھی کشمیری زندہ ہے وہ جدوجہد آزادی کا چراغ روشن
رکھے گا۔
