شمالی قبرص ترک جمہوریہ کے صدر ارسین تاتار نے جنوبی قبرصی انتظامیہ کی جانب سے امریکی سینیٹر باب مینڈینز کو "ماکاریوس سوئم عظیم صلیبی نشان” دی جانے والی تقریب سے خطاب کے دوران اُن کے صرف کردہ کلمات پر شدید اعتراض کیاہے۔
امریکی سینیٹر نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ جزیرے پر موجود تمام ترک فوجی علاقہ چھوڑ دیں گے۔
صدر تاتار نے کہا کہ امریکی سینیٹر کے یہ الفاظ بے بنیاد اور بے معنی ہونے سمیت قبرصی حقائق سے کوسوں دور ہیں لہذا ہمیں ان پر یقین کرنے کی ضرورت نہیں ۔
تاتار نے کہا کہ یکم ستمبر "عالمی امن "کا دن ہے ، قبرص میں امن کی بحالی ترکی اور ترک مسلح افواج ہی کی بدولت ہے،سن ساٹھ کی دہائی میں” ضامن معاہدے” کے باوجود قبرص میں جو کچھ ہوا وہ پوری دنیا، اقوام متحدہ،برطانیہ اور امریکہ کو معلوم ہے،یونانی ذہنیت میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں دیکھی گئی اور ہم کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کریں گے جو کہ ہمیں سن 1960 یا 1974 سے پیچھے لے جائے۔
انہوں نے کہا کہ قبرصی ترکوں کا تحفظ اہم ہے جس کا ضامن ترکی اوریہاں متعین ترک فوج ہے،ترک فوج جزیرے میں صرف امن کی علمبردار ہے،ہمیں اپنے تحفظ کی ضرورت ہے اور رہے گی ، امریکہ سے آنے والے ایک لابی کے رکن کو جنوبی قبرص آکر تمغہ ملنے کے بعد اپنے بے معنی الفاظ صرف کرنے سے ہمیں کوئی غرض نہیں کیونکہ یہ بیان بے بنیاد اور قبرصی حقائق سے کوسوں دور ہیں ۔
