English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

چترال: 8 مختلف اسکولوں کے 65 طالب علموں میں کورونا وائرس کی تصدیق

چترال کے تعلیمی اداروں میں طالب علموں میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد کورونا وائرس کے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کے تحت محکمہ صحت نے متاثرہ اسکولوں میں کورونا ایس او پیز کے تحت لاک ڈاون لگانے کی سفارش کر دی۔

ضلعی صحت افسر کے ممطابق 8 اسکولوں کے 65 بچوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جن میں 4 سرکاری جبکہ 4 نجی اسکول شامل ہیں۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت نے اعلان کیا ہے کہ صوبے کے نجی اسکولوں میں ویکسین نہ لگوانے والے اساتذہ اور عملے کو تعلیمی اداروں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور انہیں ڈیوٹی سے غیر حاضر مانا جائے گا۔

صوبائی ڈائریکٹوریٹ برائے ایلمنٹی اینڈ سیکنڈری تعلیم کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ احکامات محکمے کے دیگر ملازمین پر بھی لاگو ہوں گے۔

مزید کہا گیا کہ احکامات پر تعمیل نہ کرنے کی صورت میں اسٹاف کی تنخواہ نہیں کاٹی جائے گی تاہم ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

خیبر پختونخوا میں گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران کورونا کے 584 نئے کیسز اور 20 اموات سامنے آئیں۔

ملک کی سطح پر بات کی جائے تو ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 ہزار 62 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی جب کہ مزید 84افراد وبا سے انتقال کر گئے۔

صوبے میں وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 65 ہزار 564 اور مجموعی اموات 5 ہزار 175 ہوچکی ہیں۔

اب تک ملک میں مجموعی طور پر 11 لاکھ 94 ہزار 198 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 26 ہزار 497 افراد وائرس سے انتقال کرچکے ہیں۔

کیا یکساں قومی نصاب کی کتب میں ‘صنفی امتیاز’ کی عکاسی کی گئی ہے؟

وفاقی حکومت کی جانب سے یکساں قومی نصاب (ایس این سی) کے تحت شائع ہونے والی کچھ درسی کتابوں میں خواتین اور بچیوں سے متعلق مبینہ صنفی امتیاز کی عکاسی نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہورہی ہے جس میں پانچویں جماعت کی انگریزی کی کتاب میں ایک خاندان کو ساتھ وقت گزارتے دکھایا گیا ہے، تصویر میں باپ اور بیٹے نے پینٹ شرٹ پہنی ہوئی ہے اور وہ صوفے پر کتاب کے مطالعے میں مصروف ہیں جبکہ ماں اور بیٹی نے حجاب لیا ہے اور وہ سامنے زمین پر بیٹھی ہوئی ہیں۔

مذکورہ تصویر پر بحث اس وقت شروع ہوئی جب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما اور سابق رکن سندھ اسمبلی شرمیلا فاروقی نے اپنی ٹوئٹ میں پانچویں جماعت کی انگریزی کی کتاب کی تصویر شیئر کی۔

انہوں نے تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ‘خواتین اور لڑکیاں گھر کے مردوں کے قدموں میں بیٹھی ہیں، یکساں قومی نصاب کا مقصد اسے فروغ دینا ہے’۔

ان کے بعد پاکستانی فلم ساز اور سماجی کارکن شرمین عبید چنائے نے بھی اپنی انسٹاگرام اسٹوریز میں پانچویں جماعت کی کتاب کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اور ہم اپنے بچوں کو یہ سبق پڑھارہے ہیں، آپ کیا دیکھتے ہیں؟

شرمین عبید چنائے نے پہلی جماعت کی انگریزی کی کتاب کی تصویر بھی شیئر کی جس میں ایک بچی نے حجاب پہنا ہوا تھا۔

انہوں نے سوال کیا کہ ‘پہلی جماعت کی بچیاں 4 سے 5 برس کی ہوتی ہیں، ہم انہیں کیا بتارہے ہیں کہ اس عمر میں خود کو کور کرنا چاہیے؟ جنہوں نے یہ کتابیں ڈیزائن کی ہیں انہیں ذمہ دار ٹہرایا جانا چاہیے’۔

وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ‘یہ ہی وجہ ہے کہ ہم نے اس نصاب کو قبول نہیں کیا، ماں اور بیٹی کو زمین پر بٹھا کر آپ کیا پیغام دینا چاہ رہے ہیں معصوم بچوں کو، ہم اپنی خواتین کو سر کا تاج بناکر رکھتے ہیں اور ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو یہ سکھانا ہوگا’۔

— اسکرین شاٹ

مذکورہ تصاویر شیئر کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی، کئی صارفین نے شرمیلا فاروقی کے بیان کو غلط قرار دیا۔

نعمان نامی صارف نے تیسری اور پہلی جماعت کی کتابوں کی تصاویر شیئر کیں جن میں سے ایک میں بچہ نیچے اور بچی صوفے پر بیٹھی ہوئی ہے جبکہ تیسری جماعت کی کتاب میں موجود تصاویر میں بچیوں نے حجاب نہیں پہنا ہوا۔

عمر نامی صارف نے ایس این سی کی ہدایات کے مطابق پنجاب کوریکلم اور ٹیکسٹ بورڈ کی جانب سے منظور کردہ کتابوں کی تصاویر شیئر کیں اور مختلف ٹوئٹس میں بتایا کہ ان میں بچوں کو ہدایات دی گئی ہیں جس سے معاشرے میں جنسی جرائم میں کمی آئے گی۔

بعدازاں وزیراعظم کے ترجمان برائے عوامی روابط ڈاکٹر شہباز گل نے ایک ٹوئٹ میں مختلف درسی کتب کی تصاویر شیئر کیں اور اس حوالے سے شائع ایک کالم پر ردعمل دیا۔

انہوں نے لکھا کہ ‘انتہائی سطحی قسم کا اعتراض بنا کر بی بی سی کے کالم میں تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان ریاست کی سطح پر صنفی امتیاز کا شکار ہے’۔

ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ اسے مان بھی لیا جائے تو اگر ایک تصویر میں بچہ اوپر بیٹھا ہے تو دوسری میں بچہ زمین پر اور بچی اوپر، حجاب ہے تو بنا حجاب بھی ہے، امید ہے اس پر بھی قلم کشائی کریں گے’۔

خیال رہے کہ رواں برس اگست میں وزیراعظم عمران خان نے پاکستان بھر میں تعلیم کے شعبے میں طبقاتی تقسیم کو ختم کرنے کے لیے یکساں نصابِ تعلیم کا اجرا کیا تھا۔

تاہم صوبہ سندھ میں یکساں قومی نصاب کو تاحال رائج نہیں کیا جبکہ دیگر صوبوں میں کتب شائع ہوگئی ہیں۔

علاوہ ازیں نئے نصاب کی زیادہ تر کتب اردو زبان میں ہونے کی وجہ سے بھی تنقید کی جاچکی ہے کہ قوم کو آگے بڑھنے نہیں دیا جارہا ہے۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے