القدس بین الاقوامی فاؤنڈیشن نے مسلمانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مسجد اقصیٰ کا اسرائیل اور یہودی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے خلاف دفاع کریں۔
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں واقع فاؤنڈیشن کے ایک تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کو حالیہ عرصے میں سینکڑوں یہودی آباد کاروں کے حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے اور 8 ستمبر سےحرم شریف میں یہودیوں کو بھی عبادت کرنے کی اجازت دینے سے اس کی شناخت کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
فاونڈیشن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کو صرف یہودیوں کے لیے عبادت گاہ بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور 1967 میں اسرائیلی حرم شریف پر قبضے کے بعد سے حملوں کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے۔
بیان میں حکومتِ اردن سے جو مسجد الاقصی کی سرپرستی کررہی ہے ، اسرائیل کے ان خطرناک حملوں کے خلاف کارروائی کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
القدس فاونڈیشن نے مغربی کنارے کے تمام فلسطینیوں ، عرب عوام اور پوری مسلم دنیا سے مسجد اقصیٰ کے دفاع کی اپیل کی ہے ۔
القدس سلامک فاؤنڈیشن ایڈمنسٹریشن کی جانب سے کل تحریری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی پولیس کی ح نگرانی میں 564 جنونی یہودیوں نے جنوب مغرب میں واقع المغربی (مراکش) گیٹ سے داخل ہو کر حرم شریف پر حملہ کیا ۔
بیان میں کہا گیا کہ جنونی یہودیوں کے حملوں کے دوران مسجد الاقصی میں 4 خواتین سمیت 5 فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا۔
حرم شریف پر جنونی یہودیوں کے اس طرح کے حملوں سے خطے میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔
