اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ شہباز شریف اور ان کے خاندان کی منی لانڈرنگ کیس میں بریت نہیں ہوئی، کیوں کہ کوئی ٹرائل تھا ہی نہیں جو بریت ہوتی۔
اپنی ٹوئٹ میں ان کا کہنا ہے کہ نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے سلیمان شہباز اور ان کے خاندان کے کچھ افراد کے خلاف تحقیقات ایسیٹ ریکوری یونٹ یا نیب کی درخواست پر شروع نہیں کی گئیں تھیں۔
برطانوی حکام نے 2019 کے کچھ فنڈز کو مشکوک قرار دے کر تحقیقات کا آغاز کیا تھا اور ان مشکوک فنڈز پر برطانوی حکام نے کورٹ سے فریزنگ آرڈر حاصل کر رکھا تھا۔
however recently NCA decided to stop investigating these funds and therefore agreed for release of these funds through court.
It is clarified that such a release order is not an acknowledgement that funds are from a legitimate source.3/4— Mirza Shahzad Akbar (@ShazadAkbar) September 27, 2021
ان کا کہنا ہے کہ نیشنل کرائم ایجنسی نے خود تحقیقات روک کر فنڈز ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا لیکن ریلیز آرڈر کا مطلب یہ نہیں کہ فنڈز جائز ذرائع سے وصول ہوئے تھے۔ انہوں نے مزید لکھا ہے کہ سلمان شہباز منی لانڈرنگ کیس میں لاہور کی عدالت سے مفرور ہیں۔
It is clarified that there is no acquittal of any sort as reported as there was no trial! funds were frozen by NCA and NCA has decided to not investigate these funds anymore.
Suleiman Shabaz remains a fugitive in a money laundering case against him and his father before AC LHR— Mirza Shahzad Akbar (@ShazadAkbar) September 27, 2021
