وزیرخارجہ پاکستان شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہم امید کرتے ہیں کہ افغانستان کی نئی انتظامیہ اب امن و استحکام کے ساتھ ساتھ تمام افغان عوام کی بہتری کے لیے کام کرے گی۔
امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی آر شرمن نے وفد کے ہمراہ نے پاکستانہ وزارتِ خارجہ کا دورہ کیا، اور وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی۔جس دوران دوطرفہ تعلقات، افغانستان اور علاقائی امن سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ،امریکی نائب وزیر خارجہ نے بلوچستان میں زلزلے اور جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
شاہ محمود قریشی نے اس موقع پر کہا کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان اور امریکہ کے نقطہ نظر میں ہم آہنگی ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ افغان عوام کی نمائندہ اور وسیع البنیاد حکومت، بین الاقوامی برادری کے لیے قابل اعتماد شراکت دار ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی جانب سے انسانی امداد اور افغان پائیدار معیشت کی تعمیر کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے، پاکستان، معاشی تعاون، علاقائی روابط کے فروغ اور خطے میں قیام امن کیلئے امریکا کے ساتھ وسیع البنیاد، طویل المیعاد اور پائیدار تعلقات کے قیام کا خواہاں ہے، دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ اور منظم ڈائیلاگ کا عمل ہمارے دوطرفہ مفاد کے ساتھ ساتھ مشترکہ علاقائی مقاصد کو فروغ دینے کے لیے بہت ضروری ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
دوسری جانب امریکی نائب وزیر خارجہ نے افغانستان سے انخلاء میں پاکستان کی معاونت کو سراہا، اور پاکستان اور امریکہ کے درمیان موسمیاتی تغیر اور متبادل توانائی کے حوالے سے دو طرفہ مذاکرات میں پیش رفت پر اپنی مسرت کا اظہار کیا۔
