English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اسرائیل کو فلسطینیوں کو جینے کا موقع دینے کے حق سے محروم نہیں کرنا چاہیے، جرمن چانسلر

القمر

جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے پیر کو اسرائیل سے درخواست کی ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کی ضرورت کو نظر انداز نہ کرے۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق انجیلا مرکل کے 16 سالہ دور میں ان کا اسرائیل سے واحد تنازع ہی یہی تھا کہ وہ فلسطین اور اسرائیل تنازع کے دو ریاستی حل کی حامی تھیں لیکن اس کے علاوہ انہوں نے ہر سطح پر اسرائیل کی بھرپور حمایت کی ہے۔

اسرائیلی تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے انجیلا مرکل نے اسرائیل اور چار عرب ممالک کے درمیان گزشتہ سال طے پانے والے تاریخی سفارتی معاہدوں کا خیرمقدم کیا لیکن کہا کہ ابراہیم معاہدے کے نام سے مشہور اس معاہدے کے بعد فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدہ طے پانے کی اسرائیل کی ضرورت ختم نہیں ہوتی۔

انجیلا مرکل نے تل ابیب میں انسٹی ٹیوٹ برائے نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز کے ایک پینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں فلسطینیوں کو جینے کا موقع دینے کے حق سے محروم نہیں کرنا چاہیے، پھر بے شک یہ یہودی بستیوں کی وجہ سے مشکل ہو جائے لیکن کسی بھی حالت میں ایسا نہیں کہ دو ریاستی حل کے مسئلے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

سابق امریکی صدر ٹرمپ انتظامیہ کی بدولت طے پانے والے ابراہیم معاہدے کی اس کے حامیوں نے تعریف کی ہے جہاں اس سے قبل یہ تصور کیا جاتا تھا کہ اسرائیل، فلسطینیوں کے ساتھ معاہدہ پانے سے قبل عرب دنیا کے ساتھ تعلقات نہیں بنا سکتا۔

اسرائیل کے نئے وزیر اعظم نفتالی بینیٹ اسرائیل کے زیر قبضہ زمینوں پر فلسطینی ریاست کے قیام کے سخت مخالف ہیں اور انہوں نے فلسطینیوں کے ساتھ امن مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے اور اس کے بجائے انہوں نے تناؤ میں کمی کرنے کے لیے فلسطینیوں کے حالات زندگی کو بہتر بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔

انجیلا مرکل نے نفتالی بینیٹ کے ارادوں کا خیرمقدم کیا لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کیا کہ یہ نقطہ نظر کافی نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ میں امید کرتی ہوں کہ اسرائیل کے عرب ممالک سے بہتر تعلقات کے بعد بھی ایک طویل عرصے سے چلنے والا مسئلہ فلسطین ایجنڈے سے غائب نہیں ہوگا۔

پورے دورے کے دوران انجیلا مرکل کا اسرائیل کے دوست کی حیثیت سے بھرپور استقبال کیا گیا جہاں ان کے ایجنڈے میں اسرائیلی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں اور اسرائیل کی قومی ہولوکاسٹ یادگار ید وشم پر قیام بھی شامل تھا۔

جرمن چانسلر نے بحیثیت جرمنی کی جانب سے متعدد مرتبہ اسرائیل کی سلامتی کے عزم کا دعویٰ کیا کیا ہے اور امیٖد ظاہر کی ہے کہ اگلی جرمن حکومت بھی یہی موقف اختیار کرے گی۔

ایجنڈے میں ایک اہم مسئلہ ایران کا ایٹمی پروگرام تھا، جرمنی ان عالمی طاقتوں میں سے ایک تھا جس نے ایران کے ساتھ 2015 کے بین الاقوامی جوہری معاہدے پر مذاکرات کیے تھے۔

یہ معاہدہ اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی حمایت سے 2018 میں ختم کردیا تھا، بائیڈن انتظامیہ اسرائیلی اعتراضات پر اس معاہدے کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اسرائیل ایران کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتا ہے، وہ ایران پر پورے خطے میں دشمن عسکری گروہوں کی حمایت جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کا الزام عائد کرتا رہا ہے، لیکن ایران ان الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔

اس دوران ایران نے اپنی ایٹمی سرگرمیوں جیسے یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کیا ہے اور یہ ایک ایسا قدم ہے جو اسے ایٹم بم بنانے کے قریب لے جا سکتا ہے۔

انجیلا مرکل نے کہا کہ ایران سے مذاکرات کرنے والی عالمی طاقتوں کے درمیان اختلافات سے ان کی پوزیشن کمزور ہوگئی ہے اور اس کی بدولت ایران کو وقت ملا ہے اور اس نے پورے علاقے میں اپنی فوجی سرگرمیوں کو وسعت دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران یہ جانتا ہے اور اسی وجہ سے ہمیں ایک انتہائی سنگین صورتحال کا سامنا ہے، ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی حل نہیں ہے لیکن لیکن روس اور چین سمیت اہم فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کریں۔

انجیلا مرکل نے کہا کہ جتنے زیادہ ممالک یہ موقف اپنائیں گے کہ وہ ایران کے عزائم اور جارحیت کو قبول نہیں کرتے، خطے کے لیے اتنا ہی بہتر ہے۔

اسرائیل کا تحفظ ہر جرمن حکومت کی ترجیح ہوگی، جرمن چانسلر

جرمن چانسلر انجیلا مرکل کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی سلامتی ہر جرمن حکومت کے لیے اولین ترجیح رہے گی۔

اپنے 16 سالہ دور کے اختتام کے قریب یہودی ریاست کے الوداعی دورے کے دوران انجیلا مرکل نے یروشلم میں ہولوکاسٹ کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور وہاں کے مہمانوں کی کتاب میں لکھا کہ ’ہر مرتبہ یہاں کا دورہ نئے سرے سے مجھے متاثر کرتا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہودی عوام کے خلاف جرائم جنہیں یہاں دستاویزی شکل دی گئی ہیں، ہم جرمنوں کے لیے ذمہ داری کی ایک مستقل یاد دہانی اور انتباہ ہیں‘۔

واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ، جنہوں نے انجیلا مرکل کے ایک روزہ دورے کے دوران ان کی میزبانی کی، نے انہیں ’اسرائیل کا سچا دوست‘ قرار دیا۔

جرمن لیڈر نے پہلے بھی اعتماد کا اظہار کیا تھا کہ جو بھی چانسلر کے طور پر ان کی پیروی کرے گا وہ اسرائیل کی حفاظت کے لیے یکساں طور پر پرعزم محسوس کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی سلامتی ہمیشہ اہمیت اور ہر جرمن حکومت کے لیے مرکزی موضوع رہے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بہت اطمینان بخش تھا کہ اسرائیل نے جنگ کے بعد جرمنی پر بھروسہ کیا تاہم اس ’اعتماد کو ہمیشہ ثابت کرنا پڑے گا‘۔

نفتالی بینیٹ نے انجیلا مرکل کو دونوں ملکوں کے درمیان بے مثال تعلقات کو فروغ دینے کا سہرا دیا اور اسرائیل کی حمایت کی وجہ سے انہیں ’یورپ کا اخلاقی مرکز‘ قرار دیا۔

انجیلا مرکل نے ابتدائی طور پر اگست میں دورہ کرنے کا ارادہ کیا تھا تاہم افغانستان سے جرمن اور اتحادی افواج بشمول جرمنوں کے انخلا کی وجہ سے اپنے سفر میں تاخیر کی۔

دو ریاستی حل

جرمن چانسلر کی فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات طے نہیں تھی۔

انجیلا مرکل کی قیادت میں جرمنی نے اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کی وکالت کی ہے تاہم انہیں 1967 میں فلسطینی سرزمین پر فوجی قبضہ ختم کرنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ نہ ڈالنے پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم اس بات پر اختلاف کر سکتے ہیں کہ فلسطینیوں کے ساتھ دو ریاستی حل ہونا چاہیے یا نہیں تاہم اس یقین میں متحد ہیں کہ ہمیشہ ’جمہوری یہودی ریاست اسرائیل‘ ہونی چاہیے۔

نفتالی بینیٹ نے ایک فلسطینی ریاست کے خلاف اپنی مخالفت کی تصدیق کرتے ہوئے الزام لگایا کہ }یہ میرے گھر سے تقریبا سات منٹ کے فاصلے پر ایک دہشت گرد ریاست بن جائے گی‘۔

انہوں نے کہا کہ وہ فلسطینیوں کے معاشی حالات کو بہتر بنانے پر مرکوز ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) میں اسرائیل اور فلسطین کے ڈائریکٹر عمر شاکر نے انجیلا مرکل کو اسرائیل کے 54 سالہ قبضے کو ’عارضی‘ قرار دینے پر تنقید کی۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’اس افسانے کو برقرار رکھنے نے انجیلا مرکل کی حکومت کو لاکھوں فلسطینیوں پر ظلم و ستم کی حقیقت سے نمٹنے کی راہ فراہم کی ہے‘۔

جرمن انسٹی ٹیوٹ برائے بین الاقوامی اور سلامتی امور میں پولیٹیکل سائنسدان پیٹر لنٹل نے کہا کہ انجیلا مرکل کی بعض اوقات سابق وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ فلسطینیوں کے بارے میں اسرائیلی پالیسی پر تنازع رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’تاہم انہوں نے اسے زیادہ تر بند دروازوں کے پیچھے رکھا‘۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے