English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

افغانستان کی صورتِ حال پر جی 20 ملکوں کا اجلاس، طالبان بھی اپنی حکومت کو تسلیم کرانے کے لیے سرگرم

دنیا کے 20 مضبوط ترین معاشی ملکوں کے رہنما منگل کو افغانستان کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کریں گے جب کہ طالبان نے بھی اپنی حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم کرانے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔

اٹلی کی میزبانی میں افغانستان کی صورتِ حال پر جی 20 ملکوں کے رہنماؤں کا یہ اجلاس ورچوئل ہو گا جس میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پیدا ہونے والے انسانی بحران پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق اجلاس کے دوران افغانستان کو امداد کی فراہمی، سیکیورٹی خدشات اور افغانستان میں موجود مغربی ملکوں کے اتحادیوں کے محفوظ انخلا کے معاملات بھی زیرِ غور آئیں گے۔

افغانستان کی صورتِ حال پر عالمی رہنما ایسے موقع پر بات چیت کریں گے جب ہفتے کو ہی امریکہ اور طالبان رہنماؤں کے وفود نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ملاقات کی تھی۔

البتہ امریکی محکمۂ خارجہ کا اس ملاقات سے متعلق کہنا تھا کہ یہ ایک ‘پیشہ ورانہ’ ملاقات تھی جس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ امریکہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کر رہا ہے۔


فائل فوٹو

فائل فوٹو

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ افغانستان تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے جسے نقد رقم کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے اثاثے اور ترقیاتی امداد کی فراہمی کی بندش کے باعث افغانستان کی معیشت سکڑ رہی ہے۔ بینک بند ہو رہے ہیں اور صحت کی خدمات سمیت دیگر اہم ادارے بند ہو گئے ہیں۔

انتونیو گوتریس کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں انسانی بحران بڑھتا جا رہا ہے جس سے کم از کم ایک کروڑ 80 لاکھ افراد متاثر ہو رہے ہیں اور ان کے خیال میں عالمی برادری سست رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے۔

طالبان حکومت کے قائم مقام وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کا کہنا ہے کہ منگل کو ان کی یورپی یونین کے نمائندوں سے ملاقات ہو گی۔

تباہ حال افغان معیشت، لوگ گھروں کا سامان بیچنے پر مجبور





please wait



No media source currently available

‘اے ایف پی’ کے مطابق دوحہ میں پیر کو بات کرتے ہوئے امیر خان متقی کا کہنا تھا کہ "ہم دنیا کے تمام ملکوں کے ساتھ مثبت تعلقات کے خواہش مند ہیں اور ہم متوازن عالمی تعلقات پر یقین رکھتے ہیں۔”

ان کے بقول متوازن تعلقات افغانستان کو عدم استحکام کا شکار ہونے سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو دو ماہ کا عرصہ ہونے کو ہے اور اب تک کسی بھی ملک نے ان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے جب کہ امریکہ اور بعض دیگر ملکوں کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کی وجہ سے افغانستان کی معاشی صورتِ حال تشویش ناک ہے۔

اس خبر میں شامل بعض معلومات خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ سے لی گئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے