کویت سٹی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی ریاست آسام میں پولیس کے مسلمانوں پر ظلم کے خلاف عرب ممالک میں بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم شروع ہوگئی۔ آسام پولیس کی جانب سے ایک مسلمان شخص کو گولی مارنے کی وڈیو وائرل ہونے کے بعد واقعے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ عرب دنیا میں سوشل میڈیا پر بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ اس وقت عروج پر ہے۔ کویت کی قومی اسمبلی کے ارکان نے بھارتی حکام اور ہندو انتہا پسند گروہوں کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم کی مذمت کی ۔ قومی اسمبلی کے ارکان نے جاری کردہ اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ بھارتی مسلمانوں کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک کے خلاف کویتی ارکان اسمبلی یکجہتی کے لیے کھڑے ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی، انسانی حقوق اور اسلامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر بھارتی حکام کی کارروائیوں کو روکنے اور ہندوستانی مسلمانوں کی حفاظت کے لیے آگے آئیں۔ رکن پارلیمان شعیب معظیری نے بھارتی اشیا کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اسلامی عالمی تنظیم ، اسلامی ممالک کے رہنمائوں ، خلیج تعاون کونسل کے رہنما ئوں اور اقوام متحدہ سے سوال کیا کہ انہوں نے بھارتی حکومت کے مسلمانوں ، مردوں ، عورتوں اور بچوں کے خلاف سنگین جرائم پر کیوں چپ سادھ رکھی ہے؟ بھارت اور اس کی مصنوعات کا بائیکاٹ ایک قانونی فریضہ ہے۔دوسری جانب عمان کے مفتی اعظم شیخ احمد خیلی نے بھی بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کے بارے میں ٹوئٹ کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں انتہا پسند گروہوں کے ہاتھوں مسلم شہریوں کے خلاف تشدد کھلی جارحیت ہے ، جسے بھارتی حکومت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ شیخ احمد خیلی نے کہا کہ میں انسانیت کے نام پر تمام امن پسند ممالک سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس جارحیت کو روکنے کے لیے مداخلت کریں اور میں پوری امت مسلمہ سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے میں متحد رہے۔
