English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکی ناظم الامور کی شہباز شریف اور مریم نواز سے علیحدہ علیحدہ ملاقات

القمر

امریکی ناظم الامور انجیلا ایگلر کی مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور نائب صدر مریم نواز کے ساتھ علیحدہ ملاقاتوں نے ایک مرتبہ پھر پارٹی میں تقسیم کے حوالے سے قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا۔

جب امریکی سفیر نے اس حقیقت کے باوجود کہ دونوں لاہور میں موجود تھے، شہباز شریف اور مریم نواز سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی تو اس سے پارٹی میں بہت سے لوگ حیران رہ گئے۔

قبل ازیں جب مریم کے نام نہاد وفادار رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف نے ایک نجی ٹی وی چینل پر شہباز شریف پر بلاواسطہ حملہ کرتے ہوئے انہیں اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار کہا تھا تو مسلم لیگ (ن) کے اندر دو ‘کیمپس’ کا بہت زیادہ چرچا ہوا تھا۔

پارٹی نے جاوید لطیف کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا لیکن مریم نواز کے ساتھ ان کی وفاداری کی وجہ سے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاسکی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت نے شہباز شریف کی بجائے مریم نواز کے ساتھ جاتی امرا میں ان کی رہائش گاہ پر امریکی ایلچی سے ملاقات کی۔

مریم نواز کے ہمراہ موجود پارٹی رہنماؤں میں سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی، سیکریٹری جنرل احسن اقبال، سینئر رہنما پرویز رشید، سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب، خرم دستگیر اور طارق فاطمی شامل تھے۔

مریم سمیت مسلم لیگ (ن) کے مذکورہ رہنماؤں سے ملاقات کے بعد امریکی ایلچی نے قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر سے ان کی ماڈل ٹاؤن میں قائم رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

جب امریکی ایلچی کی پارٹی رہنماؤں سے علیحدہ ملاقات کی وجہ پوچھی تو پارٹی ترجمان مریم اورنگزیب نے جواب نہیں دیا۔

پارٹی کے ایک اندرونی شخص نے بتایا کہ مریم نواز (امریکی سفیر کو) یہ تاثر دینا چاہتی تھیں کہ وہ اپنے والد (نواز شریف) کی نمائندگی کرتی ہیں، جو پارٹی کے سپریم لیڈر ہیں، اس لیے پارٹی کی سینئر قیادت ان کے ہمراہ تھی۔

مذکورہ فرد نے کہا کہ یہ انجیلا ایگلر کے ساتھ شہباز شریف اور مریم نواز کی مشترکہ ملاقات بھی ہوسکتی تھی لیکن ایک رہنما نے دوسری صورت کا انتخاب کیا۔

امریکی قونصل جنرل ولیم کے مکانیول اور پولیٹیکل آفیسر ختیجہ کورے امریکی سفیر کے ہمراہ تھے۔

دونوں ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور، پاک امریکا تعلقات، علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی، افغانستان کی صورتحال، خواتین اور بچوں کے حقوق، صحت اور تعلیم اور دونوں ممالک کے درمیان عوام سے عوام کے رابطے بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مسلم لیگ (ن) کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق امریکی سفیر نے شہباز شریف کو بطور وزیراعلیٰ پنجاب سر انجام دی گئی ان کی خدمات کے لیے سراہا۔

دوسری جانب مریم نواز نے اپنے والد کی جانب سے امریکی صدر جو بائیڈن کو ان کی انتخابی فتح پر مبارکباد اور پاکستانی عوام کی جانب سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے بطور وزیر اعظم اپنے دور حکومت میں غیر جانبدار خارجہ پالیسی اختیار کی اور پاکستان کے پڑوسیوں اور عالمی برادری کے ساتھ باہمی اعتماد، امن اور ترقی پر مبنی خوشگوار تعلقات کی پیروی کی۔

مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ امریکی سفیر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ انہوں نے خواتین، بچوں، میڈیا اور انسانی حقوق کے لیے مریم نواز کی کوششوں کو سراہا۔

دریں اثنا امریکی ناظم الامور نے پنجاب کے قائم مقام گورنر چوہدری پرویز الٰہی، وفاقی وزیر آبی وسائل مونس الٰہی اور مسلم لیگ (ق) کے ایم این اے سالک حسین اور حسین الٰہی سے گورنر ہاؤس میں ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات، افغانستان کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

نیب کی مریم نواز کی اپیل پر 30 روز میں فیصلہ سنانے کی درخواست خارج

اسلام آباد ہائی کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں مریم نواز کی سزا کے خلاف اپیل پر روزانہ سماعت کر کے 30 روز میں فیصلہ سنانے کے لیے دائر کردہ درخواست خارج کردی۔

جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے 13 اکتوبر کو مکمل ہونے والی سماعت کا تحریری حکم جاری کیا۔

بینچ نے مریم نواز کی اپیل پر فیصلے سے متعلق نیب کی درخواست کا جائزہ لیا اور غور و فکر کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ چونکہ نیب آرڈیننس نے ٹرائل کورٹ کے لیے ریفرنس کا فیصلہ 30 روز میں کرنے کا وقت مقرر کیا ہے اور کسی اپیل کو نمٹانے سے متعلق کوئی مقررہ وقت نہیں اس لیے بیورو کی درخواست کسی قانونی حیثیت کے بغیر دائر کی گئی جسے عدالت خارج کرتی ہے۔

بینچ نے نیب کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے یہ بات نظر انداز کرنے کہ ان کے وکیل دلائل مکمل کرچکے ہیں، نیب کی سرزنش کی۔

نیب نے ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل کو فوری نمٹانے میں مبینہ طور پر قانونی عمل میں رکاوٹ ڈالنے پر مریم نواز کی ضمانت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے نیب پراسیکیوٹر عثمان چیمہ سے استفسار کیا کہ ’کیا ضمانت منسوخی کی یہ بنیاد ہے؟‘

جس پر پراسیکیوٹر نے کہا کہ جب کوئی مجرم عدالتی کارروائی میں رکاوٹ ڈالتا ہے تو وہ ضمانت کا ریلیف حاصل کرنے کا حق کھو دیتا ہے اور مریم نواز نے جان بوجھ کر کیس کی جلد تکمیل میں تاخیر کی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے پراسیکیوٹر کو یاددہانی کروائی کہ شاید انہیں معلوم نہیں کہ مریم نواز کے وکیل نے اپیل پر دلائل مکمل کرلیے ہیں اور اب بال نیب کی کورٹ میں ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ وکیل دفاع کا مؤقف تھا کہ یہ شواہد کا کیس نہیں اور اب نیب کی باری ہے کہ وہ ان کے خلاف الزامات کو ثابت کرے۔

تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ عدالت اس درخواست کو زیر التوا رکھ رہی ہے اور 17 نومبر کو جب مریم نواز کی اپیل پر سماعت ہوگی تو اسے سنا جائے گا۔

اپنی درخواست میں نیب نے مسلم لیگ (ن) کی رہنما کو عدالت کے احاطے میں اختیار کیے گئے رویے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

مثال کے طور پر گزشتہ سماعت کا حوالہ دیتے ہوئے پٹیشن میں کہا گیا تھا کہ جب وہ عدالت میں آئیں تو اتنی دیر ہوچکی تھی کہ سماعت تقریباً اختتام پذیر تھی، وہ عدالتی کمرے میں اس انداز سے داخل ہوئیں جیسے کسی سیاسی جلسے میں آرہی ہوں۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے معزز عدالت کو سیاسی تھیٹر سمجھا کمرہ عدالت کو اپنے سیاسی کارکنان، وفاداروں اور عہدیداروں سے بھر دیا جو ان سے سے وفا کا دم بھرتے ہیں۔

انسداد بدعنوانی کے ادارے نے مریم نواز کی میڈیا سے گفتگو پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے