مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی کابینہ کے ایک وزیر نے کہا ہے کہ صہیونی ریاست مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کے لیے امریکی قونصل خانے کو دوبارہ کھولنے کی مخالفت جاری رکھے گی۔ اسرائیلی اخباراسرائیل ٹوڈے‘ کے مطابق القدس میں امریکی قونصلیٹ کی بحالی کے معاملے پر تل ابیب اور واشنگٹن کے درمیان گہرے اختلافات ہیں۔ واضح رہے کہ 2018ء میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تل ابیب سے امریکی سفارت خانہ القدس منتقل کردیا تھا۔ اب صدر جو بائیڈن القدس کے کچھ حصوں کے ساتھ ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے اورغزہ کی پٹی میں آباد فلسطینیوں کے ساتھ ازسرنو تعلقات استوار کرنے کے لیے قونصل خانے کودوبارہ کھولنا چاہتے ہیں۔ اسرائیلی وزیرانصاف جدون سار سے اخباریروشلم پوسٹ کی میزبانی میں منعقدہ ایک کانفرنس میں کہا ہے کہ فیصلہ کواسرائیلی منظوری کی ضرورت ہے۔ہم آنے والی نسلوں کے لیے اس مسئلہ پر سمجھوتا نہیں کریں گے۔امریکی سفارت خانے نے فوری طور پراس بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
