English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

قنبر علی خان ،چانڈیا اور بروہی قبائل میں تصادم ،5 افراد قتل

القمر

قنبر علی خان(نمائندہ جسارت) قنبر کے نزدیک اسکوٹر چھیننے کی مسلح ڈکیتی کے معاملے پر وارہ پولیس کی موجودگی میں چانڈیا اور بروہی قبائل کے درمیان جدید اسلحے سے دوبدو اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں دونوں قبائل کے 5 افراد موقع پر ہلاک جبکہ ایک پولیس ہیڈ کانسٹیبل سمیت چار افراد شدید زخمی دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر مسلسل شدید اندھا دھند فائرنگ کے باعث علاقے میں شدید خوف وہراس پھیل گیا ۔ تفصیلات کے مطابق ضلع قنبر شہدادکوٹ کی تحصیل وارہ کے گاؤں جکھر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص علی حسن بروہی سے چانڈیا قوم کے تین مسلح ملزمان اسلحے کے زور پراسکوٹر چھین کر فرار ہورہے تھے کہ لٹنے والے متاثر شخص علی حسن بروہی اور ان کے رشتیداروں نے وارہ پولیس کو اطلاع دی اور اپنا اسلحہ اٹھاکر وارہ پولیس کے ہمراہ اسکوٹر چھیننے والے مسلح ملزمان کا تعاقب کرتے ہوئے جب قنبر کی ڈرگھ پولیس تھانے کی حدود کے گاؤں نصیر محمد چانڈیو کے نزدیک پہنچے تو اسکوٹر چھیننے والے چانڈیا قوم کے مسلح ملزمان اور لٹنے والے بروہی قوم کے مسلح افراد کے درمیان وارہ پولیس کی موجودگی میں مسلح تصادم شروع ہوگیا جس میں دونوں قبائل کے مسلح افراد نے جدید اسلحے سے ایک دوسرے پر شدید اندھا دھند فائرنگ کی اور دونوں فریقین کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ تقریباً دو گھنٹے تک مسلسل جاری رہا اور پورا علاقہ میدان جنگ بنا رہا فائرنگ کے نتیجے میں بروہی قوم کے تین افراد 30سالہ بھورل ولد نیک محمد بروہی ، 25 سالہ نادر حسین ولد نصیرالدین بروہی اور50 سالہ محمد عالم ولد میرمحمد بروہی گولیاں لگنے سے قتل ہوگئے جبکہ چانڈیا قوم کے دو افراد 22 سالہ خالد حسین ولد خادم حسین چانڈیو اور25سالہ صابر حسین ولد معشوق چانڈیو سمیت مجموعی طورپر دونوں گروہوں کے 5 افراد موقع پر ہی لقمہ اجل بن گئے جبکہ نوید بروہی ، امداد بروہی ، معشوق چانڈیو اور ڈیوٹی پر موجود وارہ پولیس کے ہیڈکانسٹیبل امداد چانڈیو سمیت چار افراد شدید زخمی ہوگئے جنہیںعلاج کیلیے لاڑکانہ وکراچی اسپتال میں داخل کیاگیا ہے۔ بروہی اور چانڈیا قبائل کے درمیان مسلسل اندھا دھند فائرنگ اور خونریزی تصادم روکنے میں حد کی ڈرگھ پولیس تھانے کے نااہل ایس ایچ او عبدالسلام چانڈیو نے کوئی بھی کردار ادا نہیں کیا اور نہ ہی پولیس کے ہمراہ دو گھنٹے تک جائے وقوعہ پہنچے جس سے صورتحال انتہائی کشیدہ ہوگئی اورعلاقے میں جنگ کا سماں تھا شدید خوف وہراس پھیلنے سے علاقے کے مکین اپنے گھروں تک محصور ہوگئے بعدازاں اطلاع ملنے پر ایس ایس پی ضلع قنبر شہدادکوٹ ڈاکٹر سمیر نور چنا نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ضلع بھر کی بھاری پولیس جمعیت کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچے اور پورے علاقے کا محاصرہ کرکے دونوں طرف سے فائرنگ کو روک کر پانچوں مقتولین کی لاشوں کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کیلیے قنبر سول اسپتال منتقل کروایا جبکہ علاقے میں کشیدگی کی صورتحال کو روکنے کیلیے پولیس پکٹ قائم کروائی۔ آخری اطلاعات تک اس واقعے کا مقدمہ حد کی ڈرگھ پولیس تھانے میں درج نہیں ہوا تھا اور نہ ہی کوئی گرفتار ی عمل میں آئی تھی دونوں گروہوں کے مسلح افراد نے اپنے گھر خالی کرکے نامعلوم مقام کی طرف فرار ہوگئے ہیں ۔دوسری طرف ضلع قنبر کی مختلف سیاسی وسماجی اور شہری تنظیموں نے کہاہے کہ قنبر کے ڈرگھ پولیس تھانے کے نااہل اور کرپٹ ایس ایچ او عبدالسلام چانڈیو جو کئی سالوں سے مسلسل قنبر کے ڈرگھ تھانے پر سیاسی سفارش پر اپنی پوسٹنگ کرواتے ہیں اور امن وامان کی انتہائی خراب صورتحال اور مبینہ کرپشن کے الزام میں کئی بار معطل بھی ہوچکے ہیں اور ہر دفعہ سیاسی سفارش پر خود کو بحال کروانے میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں اگر مذکورہ ایس ایچ او ڈرگھ پولیس کے ہمراہ بروقت پہنچ کر علاقے میں فائرنگ روکنے میں اپنا اہم کردار ادا کرتے تو اتنا بڑاجانی نقصان نہ ہوتا۔ انہوںنے وزیر اعلیٰ اور آئی جی سندھ سے مطالبہ کیاہے کہ ڈرگھ تھانے کے کرپٹ اور نااہل ایس ایچ او کو فوری ہٹاکر ان کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے