کراچی —
ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ کا میلہ زور و شور سے جاری ہے اور سپر 12 مرحلے کا ہفتے سے باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ تاہم دنیا بھر کے کروڑوں شائقین کرکٹ کو جس میچ کا سب سے زیادہ انتظار ہے وہ آج دبئی میں روایتی حریف پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلا جا رہا ہے۔
دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں یہ میچ پاکستانی وقت کے مطابق اتوار کی شام سات بجے شروع ہو گا اور دونوں ٹیمیں اپنے افتتاحی میچ میں کامیابی حاصل کرکے ایونٹ کا فاتحانہ آغاز کرنے کی کوشش کریں گی۔
پاکستان کی ٹیم پہلی مرتبہ نئے ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق کی نگرانی میں کسی بڑے ایونٹ میں شرکت کر رہی ہے جب کہ بیرون ملک سے بلائے گئے کنسلٹنٹ آسٹریلیا کے میتھیو ہیڈن بلے بازوں اور جنوبی افریقہ کے ورنن فلینڈر بالرز کی رہنمائی کریں گے۔
پاک بھارت میچ میں بابر اعظم پہلی، وراٹ کوہلی کی ممکنہ طور پر آخری کپتانی
اس میچ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں دوسرے نمبر پر موجود کھلاڑی بابر اعظم بطور کپتان پہلی اور رینکنگ میں چوتھی پوزیشن پر براجمان وراٹ کوہلی بطور کپتان ممکنہ طور پر آخری مرتبہ آمنے سامنے ہوں گے۔
بھارتی کپتان وراٹ کوہلی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بھارتی ٹیم کی کپتانی چھوڑنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ جب کہ بابر اعظم بحیثیت کپتان پہلی مرتبہ کسی بڑے ایونٹ میں بھارت کے خلاف پاکستان کی قیادت کر رہے ہیں۔
دونوں کھلاڑیوں کا شمار اس وقت دنیا کے بہترین بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ اگر وراٹ کوہلی کے پاس حال ہی میں ختم ہونے والی انڈین پریمئیر لیگ میں بیٹنگ اور قیادت کرنے کا تجربہ ہے تو بابر اعظم بھی نیشنل ٹی ٹوئنٹی میں بھرپور فارم میں نظر آئے تھے۔
دونوں ٹیموں کے بلے بازوں کی فارم
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل تیاری کے لیے بھارتی ٹیم کو جتنا وقت ملا وہ شاید کسی اور ٹیم کو نہیں ملا۔ جن گراؤنڈز پر ورلڈ کپ کا میلہ سج رہا ہے انہی پر رواں ماہ بھارٹی ٹیم نے آئی پی ایل کے میچز کھیلے ہیں۔


بھارت کے بلے باز کے ایل راہول نے آئی پی ایل میں 62 اعشاریہ چھ کی اوسط سے 626 رنز اسکور کیے تھے اور وہ اس وقت بھارتی ٹیم کا حصہ ہیں۔
اسی طرح آئی پی ایل میں 419 رنز اسکور کرنے والے رشب پنٹ، 405 رنز بنانے والے وراٹ کوہلی، 381 رنز اسکور کرنے والے روہت شرما اور 317 رنز اسکور کرنے والے سوریا کمار یادیو بھی بھارٹی ٹیم میں شامل ہیں اور ان کی موجوگی ٹیم کے لیے فائدے مند ثابت ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کرکٹ ٹیم کی تیاریوں کو پہلے نیوزی لینڈ اور پھر انگلینڈ کی ٹیم کے دوروں کی منسوخی سے دھچکہ تو لگا۔ لیکن نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کے بروقت انعقاد نے کئی بلے بازوں کو فارم میں لانے میں مدد دی۔
دونوں ٹیموں کےدرمیان میچ میں ہر کوئی اپنی پرفارمنس کو یادگار بنانے کی کوشش کرے گا۔
پاکستانی کپتان بابر اعظم اور وکٹ کیپر محمد رضوان کی اوپننگ جوڑی ہو یا پھر فخر زمان کی بھارت کے خلاف ماضی کی شان دار کارکردگی گرین شرٹس کا ٹاپ آرڈر چلنے سے بھارتی ٹیم کو مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
اسی طرح نوجوان بلے باز حیدر علی کے فارم میں واپس آنے اور تجربہ کار آل راؤنڈرز شعیب ملک اور محمد حفیظ کی موجودگی سے بھی پاکستان ٹیم بھرپور فائدہ اٹھا سکتی ہے۔
دبئی کی وکٹ بولرز کے لیے کیسی ثابت ہو سکتی ہے؟
بولنگ کے شعبے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی فرق موسم اور وکٹوں سے ہم آہنگی کا ہے۔ پاکستان کے پاس اچھے بولرز تو ہیں۔ لیکن بھارتی پیسرز اور اسپنرز کے پاس انڈین پریمئیر لیگ کا حالیہ تجربہ ہے، جو مخالف ٹیم کے پاس نہیں۔
بھارت کے پاس 21 وکٹیں حاصل کرنے والے جسپریت بھمرا، 19 وکٹیں حاصل کرنے والے محمد شامی، 13 13 وکٹیں حاصل کرنے والے راہول چہار اور رویندرا جڈیجا بھی ہیں۔
البتہ پاکستان کے پاس بھی ایسے کئی بولرز موجود ہیں جو اپنے مقررہ چار اوورز کے دوران مخالف ٹیم کو مشکل میں ڈالنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
کپتان بابر اعظم کو اپنے نائب لیگ اسپنر شاداب خان کی فارم میں واپسی کا انتظار ہے جب کہ شائقین شاہین شاہ آفریدی کے یارکرز کے بھی بے صبری سے منتظر ہیں۔ اس کے علاوہ عماد وسیم اور حسین علی بھی میچ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ٹی ٹوئنٹی میچز اور ورلڈکپ، بھارت کو پاکستان پر سبقت
آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں بھارت دوسرے جب کہ پاکستان تیسرے نمبر پر ہے۔ لیکن دونوں ٹیموں کے مجموعی پوائنٹس میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ البتہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے بین الاقوامی مقابلوں میں دونوں ٹیموں کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔


ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں دونوں ٹیموں نے آج تک آٹھ میچز کھیلے ہیں جس میں سے پاکستان صرف ایک جب کہ بھارت نے باقی تمام میچز جیتے ہیں۔ پہلے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں کھیلا گیا پہلا میچ ٹائی ہوا تھا لیکن بال آؤٹ پر پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔
ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں دونوں ٹیمیں پانچ مرتبہ مدِمقابل آئی ہیں۔ پاکستان کو ان میچز میں سے ایک میں بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
پاکستانی شائقین کو سن 2007 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فائنل میں سابق کپتان مصباح الحق کا کھیلا گیا وہ شاٹ آج بھی یاد ہے جس کے بعد بھارت نے پہلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔
