پاکستان اور چین کی عالمی برادری سے افغان عوام کو فوری انسانی اور معاشی امداد فراہم کرنے کی اپیل
اکتوبر 27, 2021
القمر
انہوں نے عالمی برادری سے افغان عوام کی مدد کی اپیل کی تاکہ ان کی مشکلات میں کمی آئے اور عدم استحکام کے علاوہ باہمی لڑائی کی روک تھام ہوسکے، اس کے ساتھ ساتھ ملک کی تعمیر نو میں تعاون کیا جائے۔
وزیر اعظم عمران خان نے چین کے صدر شی جن پنگ سے ٹیلی فون پر بات چیت میں کمیونسٹ پارٹی کی 100 ویں سالگرہ اور چینی عوام کی غربت کے خاتمے کے لیے بے مثال کامیابیوں پر مبارکباد دی۔
بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے متعلقہ شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط اور سی پیک گرین ڈیولپمنٹ کو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے اعلی معیار کے مطابق فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا۔
علاوہ ازیں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے70 سال مکمل ہونے پر ایک دوسرے کو مبارکباد بھی دی، اس موقع پر علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر اعظم عمران خان نے کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے چین کے اقدامات اور ترقی پذیر ممالک کے لیے چین کی امداد اور پاکستان کو کورونا وائرس کی ویکسین فراہم کرنے کے تعاون کو سراہا۔
کورونا وائرس کی وبا کے عالمی معیشت پر منفی اثرات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے معاشی مشکلات کو کم کرنے، چین-پاکستان آزادانہ تجارت کے دوسرے مرحلے سے بھرپور فائدہ اٹھانے، اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اتفاق کیا۔
علاوہ ازیں وزیر اعظم نے سی پیک کے منصوبوں کی کامیابی، بروقت اور اعلیٰ معیار کے مطابق ان منصوبوں پر عملدرآمدکو سراہا اور سی پیک خصوصی اقتصادی زونز میں چینی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کیا۔
وزیر اعظم نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے خاتمے کے لیے چین کے قائدانہ کردار کی بھی تعریف کی۔
بیان کے مطابق وزیر اعظم نے چینی صدر کو موسمیاتی تبدیلیوں کی روک تھام کے لیے پاکستان کے بلین ٹری سونامی منصوبے سمیت دیگر اقدامات کے بحوالے سے آگاہ کیا۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مین لائن ( ایم ایل) ون ریلوے منصوبے کے فوری آغاز سے پاکستان کے قومی اور علاقائی ترقی کے جیو اکنامکس وژن میں اہم پیش رفت ہوگی۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تزویراتی شراکت داری کو مزید متنوع بنانے کے لیے اعلیٰ سطح پر تبادلوں کی ضرورت ہے۔
وزیر اعظم نے اس موقع پر چین کے صدر کو ایک مرتبہ پھر دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔