English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

شہباز شریف اور شیریں مزاری میں سخت جملوں کا تبادلہ

القمر

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کالعدم ٹی ایل پی کی ریلی سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومتی طریقے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’وفاقی وزرا موجودہ صورتحال پر متضاد بیانات دے رہے ہیں’۔

انہوں نے ایک وزیر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان 2020 میں ٹی ایل پی کے ساتھ ہوئے معاہدے سے لاعلم تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ سراسر افراتفری اور قیادت کا فقدان ہے جبکہ حکومتی مشینری بالکل بے خبر ہے، یہ عمران خان کا طرزِ حکمرانی ہے۔

تاہم ان کے اس بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ شہباز شریف الجھن کا شکار شخص ہیں انہوں نے جس شخص کی بات کی ہے وہ وفاقی وزیر نہیں ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی زیرقیادت حکومت میں قطعی طور پر کوئی الجھن نہیں ہے کیونکہ کل کابینہ کے فیصلے نے ٹی ایل پی کے بارے میں پوزیشن کو واضح کر دیا ہے، لگتا ہے آپ کی معلومات میں بڑے پیمانے پر کنفیوژن برقرار ہے۔

یہ پیش رفت حکومت کی جانب سے ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ دنوں وزرا کی جانب سے ٹی ایل پی کے خلاف سخت اعلان کیا گیا تھا اور اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ فوج، رینجرز اور پولیس لانگ مارچ کے شرکا کو وفاقی دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکیں گے۔

یہ فیصلہ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا جس کے بعد صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پنجاب میں رینجرز کو 60 روز کے لیے طلب کر لیا گیا۔

حکومت واضح طور پر اعلان کر چکی ہے کہ وہ پاکستان میں فرانسیسی سفارت خانے کو بند کرنے کے ٹی ایل پی کے مطالبے کو پورا نہیں کر سکتی، ساتھ ہی انکشاف کیا تھا کہ ملک میں فرانس کا کوئی سفیر نہیں ہے۔

اس کے علاوہ کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ٹی ایل پی کو عسکریت پسند تنظیم قرار دیا جائے گا اور اسے کچل دیا جائے گا جیسا کہ اس طرح کے دیگر گروپس کو ختم کر دیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے