English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حکومت سے معاہدے کے بعد ٹی ایل پی مظاہرین کا وزیرآباد میں دھرنا جاری

القمر

کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے کارکنوں نے قیادت کا حکومت سے معاہدے کے بعد اسلام آباد کی طرف مارچ مؤخر کردیا لیکن وزیرآباد میں دھرنا جاری ہے۔

حکومت سے معاہدے کے بعد ٹی ایل پی کے کاکرنوں نے گرینڈ ٹرنک (جی ٹی) روڈ اور اللہ والا چوک خالی کردیا تاہم انہوں نے قریبی ریلوے گراؤنڈ میں خیمے لگا دیے ہیں اور کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک دھرنا دیں گے جب تک سعد رضوی کو رہا نہیں کیا جاتا۔

راستےکھولنے سے اندرون وزیر آباد سے سیالکوٹ اور گجرات جانے والی ٹریفک بحال ہو گئی اور چناب ٹول پلازہ کے دونوں اطراف پولیس اور رینجرز تعینات ہیں اور راستہ تاحال بحال نہ ہوسکا۔

سیکیورٹی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ اعلیٰ حکام کی اجازت کےبعد جی ٹی روڈ چناب ٹول پلازہ پر بنائی گئیں خندقیں بند کریں گے اور رکاوٹوں کو ہٹادیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ تاحال جی ٹی روڈ پر ٹریفک کی روانی بالکل معطل ہے اور مسافر و مال بردار گاڑیاں روڈ پر پھنسی ہوئی ہیں گجرات اور وزیرآباد کا زمینی رابطہ بالکل منقطع ہے اور انٹرنیٹ سروس بھی تاحال بحال نہ ہوسکی۔

دوسری جانب لاہور میں وفاقی وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کی سربراہی میں معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں علی محمد خان نے کہا کہ جی ٹی روڈ کلیئر کردی گئی ہے اور ٹی ایل پی کے کارکن معاہدے کے مطابق راستہ ٹریفک کے لیے کھولتے ہوئے وزیر آباد میں قریبی گراؤنڈ پر منتقل ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ‘میں ٹی ایل پی کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنے وعدے پر عمل کیا اور حکومت بھی گزشتہ رات سے اپنی طرف سے معاہدے پر عمل کر رہی ہے’۔

علی محمد خان نے ٹوئٹر پر مزید کہا کہ ظفرعلی خان چوک سے اللہ ہو چوک تک روڑ کھول دیا گیا ہے اور ‘اب ٹریفک کی روانی معمول کے مطابق ہےاور روڈ بلاک کرنے کی اب کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ احتجاج ایک کھلے اور خالی گراؤنڈ منتقل ہوگیا ہے’۔

حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان معاہدہ

گزشتہ روز حکومتی مذاکراتی ٹیم کے اراکین نے دعویٰ کیا تھا کہ کالعدم تنظیم کے ساتھ ان کا معاہدہ ہو گیا ہے جو تقربیاً 2 ہفتوں سے جاری تھا لیکن معاہدے کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا تھا۔

اسلام آباد میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران مفتی منیب الرحمٰن نے کہا تھا کہ معاہدے کی تفصیلات آئندہ ہفتے سامنے آجائیں گی جبکہ معاملات کی نگرانی کے لیے اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کی سربراہی وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور کریں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ٹی ایل پی کی وجہ سے رونما ہونے والی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان نے 3 رکنی کمیٹی قائم کی اور انہوں نے کمیٹی کو بااختیار بنایا اور اعتماد کا اظہار کیا۔

مفتی منیب الرحمٰن نے کہا تھا کہ حکومتی کمیٹی اور ٹی ایل پی کے مابین معاہدہ طے پایا گیا ہے اور اس کو سربراہ سعد رضوی کی تائید بھی حاصل ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ کسی قوم کی فتح نہیں بلکہ محب الوطنی اور انسانی جان کی فتح ہے۔

مفتی منیب الرحمٰن نے کہا تھا کہ یہ مذاکرات کسی جبر کے ماحول میں نہیں ہوئے بلکہ سنجیدہ ماحول میں ہوئے، سب کی مشترکہ کاوششوں کا نتیجہ ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے علما کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ملک کو ایک امتحان سے بچایا ہے، قومی سلامتی کمیٹی میں مسئلے کو حل کرنے کی ترجیح دینی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ مذاکرات کے دوران امن اور بہتری کا راستہ تلاش کیا گیا کیونکہ سب جانتے ہیں کہ انتشار میں پاکستان کا فائدہ نہیں ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ملک کو عدم استحکام کرنے والی طاقتیں یقینی طور پر متفرق ہوں گی، اللہ نے سرخرو کیا ہے اور اب یہ معاملہ تکمیل تک پہنچ چکا ہے۔

ساتھ ہی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے صحافیوں سے سوال لینے سے گریز کیا اور پریس کانفرنس کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے دیگر شرکا کے ساتھ رخصت ہوگئے تھے۔

ٹی ایل پی سے ’امن‘ معاہدہ کن شرائط پر؟ تفصیلات ظاہر نہ کرنے پر سیاستدانوں، صحافیوں کی تنقید

متعدد سیاست دانوں اور صحافیوں نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کو کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر خاموش رہنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

یہ معاہدہ کالعدم گروپ کے کارکنوں کے تقریباً دو ہفتوں کے مظاہروں کے بعد سامنے آیا جس میں کم از کم 5 پولیس اہلکاروں کی جانیں گئیں اور 250 سے زائد دیگر زخمی ہوئے۔

وزیر آباد میں مظاہرین نے تیسرے دن بھی ڈیرے ڈالے رکھے، حکومت نے اتوار کو اعلان کیا کہ اس نے کالعدم گروپ کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے لیکن اس معاہدے کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔

حکومتی عہدیداروں کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ تفصیلات ’مناسب وقت‘ پر منظر عام پر لائی جائیں گی۔

تاہم انہوں نے مزید کہا کہ ’مثبت نتائج‘ اگلے ہفتے یا اگلے 10 دنوں کے دوران قوم پر ظاہر ہوں گے۔

اس پیش رفت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پی پی پی کے سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے حکومت سے معاہدے کی تفصیلات جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام اور پارلیمنٹ کو رات کی آڑ میں کیے گئے معاہدے سے آگاہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک کے لوگوں کو ایک کالعدم گروہ کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے بارے میں جاننے کا حق ہے جس کی وجہ سے جان و مال کا نقصان ہوا اور ہفتوں تک شہریوں کی زندگی اجیرن رہی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ معلوم کیا جائے کہ کیا پنجاب پولیس اہلکاروں کی شہادت رائیگاں گئی اور کیا قصورواروں کو سزا ملے گی۔

وکیل اور سماجی کارکن جبران ناصر نے میڈیا اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مطالبہ کیا کہ وہ پی ٹی آئی حکومت سے پوچھیں کہ ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کو باضابطہ طور پر گرفتار کیوں نہیں کیا گیا، اگر یہ گروپ کالعدم، ایک دہشت گرد تنظیم ہے، اور اس کے اقدامات ریاستی مفادات کے خلاف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اہل سنت والجماعت کی من مانی نظر بندی کا اسکرپٹ کیوں دہرایا جا رہا ہے؟

جبران ناصر نے کہا کہ ہمارے بہادر پولیس افسران بغیر کسی وجہ کے مر رہے ہیں، یہ ریاست اور اس کی پالیسیاں ان کی قربانیوں کی توہین ہیں۔

انہوں نےمزید کہا کہ ٹی ایل پی کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ سیاسی انتشار ہو، جو پنجاب میں ایک آلہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے یا جب اسٹیبلشمنٹ چاہے۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے بھی معاہدے اور ’مناسب وقت‘ پر تفصیلات ظاہر کرنے کے فیصلے پر سوال اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان شاید واحد ملک ہے جہاں انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت کسی تنظیم پر پابندی لگانے اور اس کے رہنماؤں کو کالعدم قرار دینے کے بعد، تنظیم اور اس کے رہنماؤں کی حمایت میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کے ساتھ امن کن شرائط پر؟

سابق رکن قومی اسمبلی ارم عظیم فاروق نے کہا کہ یہ کالعدم ٹی ایل پی کے ساتھ ایک اور معاہدہ تھا جسے حکومت نے چند روز قبل بھارت کی حمایت یافتہ عسکریت پسند تنظیم قرار دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وردی میں ملبوس مرد اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے اس عسکریت پسند گروپ کے ہاتھوں مارے گئے، اپنے مطالبات ماننے میں کتنی شرم کی بات ہے۔

نیویارک ٹائمز کے نمائندے سلمان مسعود نے کہا کہ یہ کئی دنوں تک گرم اور سرد اڑانے کے بعد ایک اور سر تسلیم خم ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’لیکن اس مرتبہ شرمندگی ایسی ہے کہ ٹی ایل پی کے ساتھ معاہدے کی صحیح تفصیلات بھی منظر عام پر نہیں لائی گئیں‘۔

انہوں نے کہا کہ اچھی بات یہ ہے کہ عام شہریوں کی مصیبت تھوڑی سی ختم ہو جائے گی، سڑکیں صاف ہو جائیں گی، کاروبار دوبارہ شروع ہو جائیں گے اور معمولات زندگی بحال ہوگی لیکن اگلے بحران تک۔

معروف ٹی وی اینکر پرسن اور تجزیہ کار ڈاکٹر معید پیرزادہ نے سوال اٹھایا کہ ریاست نے ایک ایسے گروہ کے سامنے کیسے ہتھیار ڈال دیے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ بھارت کی جانب سے فنڈنگ کی جا رہی تھی۔

27 اکتوبر کو وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے واضح طور پر کہا تھا کہ ٹی ایل پی کو ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس کے ساتھ مذہبی جماعت نہیں بلکہ ایک ’عسکریت پسند‘ گروپ سمجھا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ ٹی ایل پی کے کارکنوں کو بھارت اور کچھ دوسرے ممالک سے ’سوشل میڈیا کی مدد‘ مل رہی ہے۔

سابق رکن اسمبلی اور سماجی کارکن بشریٰ گوہرنے کہا ’ہتھیار ڈالنے کے معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے جس پر مبینہ طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی مالی اعانت کا الزام لگایا گیا‘۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے