English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

خون کے عطیات سے تھیلے سمیا کے مریضوں میں جینے کی امید پیدا ہوئی، زمرد خان

پاکستان سویٹ ہوم کے سربراہ زمر د خان نے کہا ہے کہ خون کے عطیات دینے سے تھیلیسیما اور ہیموفلیا کے مریضوں میں جینے کی امید پیدا ہو گئی ہے ۔

 خون کے عطیات دینے والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ اس نیک کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار زمرد خان نے گزشتہ روز خون کے عطیات دینے والے قومی ہیروز کے اعزاز میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں پمز ہسپتال کے بلڈ بنک، پاکستان تھیلسمیا، جمیلہ سلطانہ فاﺅنڈیشن، سندس فاونڈیشن سمیت خون کے عطیات اکٹھاکرنے والے اداروں ا ور ڈاکٹرز نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان سویٹ ہوم کے سربراہ زمرد خان نے کہا کہ کورونا صورتحال میں تھیلیسیما اور ہیموفلیا کے مریضوں کے لیے خون کی اشد ضرورت تھی اسی وجہ سے پاکستان سویٹ ہوم بلڈ بنک کے نام سے پراجیکٹ شروع کیا جس میں اللہ تعالیٰ نے عزت بخشی۔

 پاکستان سویٹ ہوم بلڈ بنک کی ٹیم نے راولپنڈی اور اسلام آبا د کے پارکوں اور شاہراوں پر بھی کیمپ لگائے جہاں سے ہزاروں کی تعداد میں شہریوں نے خون کے عطیات دیئے ۔ زمرد خان کا کہنا تھا کہ پاکستان سویٹ ہوم بلڈ بنک کے ذریعے پورے پاکستان سے خون کے عطیات جمع کئے جائینگے تاکہ مریضوں کی جان بچائی جا سکے۔ اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کا خون کا عطیہ کرنا ہمارے لیے حوصلہ افزا ہے اور ہم ان مریضوں کی جانوں کو بچانے کے لیے پورے پاکستان کے ہر گلی محلے میں جاینگے۔

 تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تھیسیملیا کے کیپٹن احمد بیگ کا کہنا تھا کہ ہم زمرد خان اور پاکستان سویٹ ہوم کے شکر گزار ہیں کہ وہ ہمارے ادارے کو خون کے عطیات کرتے ہیں اور تھیلیسمیا سے متاثرہ بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ پمز ہسپتال کی ڈاکٹر عظمٰی ظفر کا کہنا تھا کہ پاکستان سویٹ ہوم بلڈ بنک کی وجہ سے پمز کے بلڈ بنک میں خون کی کمی نہیں ہوتی جب سے پاکستان سویٹ ہوم نے ہمارے ساتھ تعاون کیا ہے ہماری مشکلات میں کمی آئی ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے