English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

نیا چیئرمین نیب کون ہوگا؟ کجمقتدر حلقوں اور وزیراعظم کا کس نام پر اتفاق ہوا ھے؟

القمر

تحریر علیم عثمان

مقتدر حلقوں میں اتنی تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے کہ ہر لمحہ ترجیحات تبدیل ہو رہی ہیں جن کی بنیاد پر کلیدی ریاستی اداروں میں بااختیار عہدوں پر بٹھانے اور زمہ داریاں سونپے جانے کے حوالے سے شخصیات کا چناؤ بھی تبدیل ہو رہا ہے. چیئرمین نیب کی اھم کرسی پر ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال کی جگہ اب ریٹائرڈ جنرل بلال اکبر کو بٹھانے کا فیصلہ ہوا ھے جنہیں سعودی عرب میں بطور پاکستانی سفیر اھم ذمہ داریوں سے سبکدوش کرکے وطن واپس بلایا جا چکا ھے جبکہ پہلے چیئرمین نیب کی اھم سیٹ پر سپریم کورٹ کے سابق جج ریٹائرڈ جسٹس عظمت سعید شیخ کو بٹھانے کا فیصلہ ہوا تھا، بتایا جاتا ہے کہ جسٹس (ر) عظمت سعید شیخ کا  چناؤ انہیں “براڈشیٹ اسکینڈل انکوائری کمیشن” کی سربراہی سونپے جانے سے بھی پہلے ہو چکا تھا کہ یہی اس کمیشن کی سربراہی قبول کر لینے کے لئے ان کے لئے ترغیب تھی اور یہی ان کی مبینہ شرط. پھر “براڈشیٹ” کمیشن کی سربراہی قبول کرنے کے اقدام نے جسٹس (ر) عظمت سعید شیخ کو شدید متنازعہ بنا دیا، یہاں تک کہ آئینی تقاضے کے تحت اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سمیت ‘اتفاق برادرز’ یعنی “جاتی عمرہ” کی طرف سے اس نام پر اتفاق ناممکن نظر آنے لگا اور حکومت نے نیب قانون میں ترمیم پر غور شروع کردیا اور جب پارلیمنٹ سے اس قانون کی منظوری دشوار دکھائی دی تو مقتدر حلقے مبینہ طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر حسب منشا ترمیم منظور کروانے کا سوچنے لگے تو کبھی فی الحال صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ہدف حاصل کرنے کی باتیں ہونے لگیں. تاھم اگلا چیئرمین جسٹس (ر) عظمت سعید شیخ ہی کو  نانے کا فیصلہ برقرار رہا. البتہ اب معلوم ہوا ھے کہ طاقتور حلقوں کی تازہ ترین صورتحال کی روشنی میں فیصلہ تبدیل کر کے نئے چیئرمین نیب کے لئے قرعہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) بلال اکبر کے نام کا نکلا ھے اور یہ فیصلہ راولپنڈی اور پرائم منسٹر ہاؤس میں اتفاق رائے سے ہوا بتایا جاتا ہے.

اطلاعات کے مطابق طاقت کے مراکز میں صورتحال میں برق رفتار تبدیلیوں کا آغاز اس وقت ہوا جب “کپتان” نے 21 اکتوبر کو لاہور سے ایک ٹی وی اینکر دانشور کو خصوصی طور پر اسلام آباد بلا کر “تحریک لبیک” کی قیادت سے ابتدائی مذاکرات کا ٹاسک دیا. یہ ریٹائرڈ اعلیٰ بیوروکریٹ کالم نگار دانشور اسٹیبلشمنٹ سے قربت رکھنے کے ساتھ ساتھ ٹی ایل پی کی موجودہ قیادت کا غیر علانیہ مشیر بھی بتایا جاتا ہے.
موصوف نے ٹی ایل پی کی قیادت سے مذاکرات کرکے اپنی رپورٹ میں حکومت کو بتایا کہ ان کے یہ 3 بنیادی مطالبات ہیں 1. ٹی ایل پی کے قائد سعد رضوی کو فوری رہا کیا جائے 2. “تحریک لبیک” کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ واپس لیا جائے اور 3. ٹی ایل پی کے قائدین کے نام “فورتھ شیڈول” سے نکالے جائیں. اگلے ہی روز جب وزیر داخلہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ٹی ایل پی کا بنیادی مطالبہ فرانسیسی سفیر کو پاکستان سے نکالنے کا ہے اور مذاکرات کار دانشور نے اسی رات اپنے ٹی وی شو میں ان الفاظ میں اس کی دو ٹوک تردید کی “شیخ رشید جھوٹ بولتا ہے” بتایا جاتا ہے کہ تحریک لبیک کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کی رپورٹ جب طاقتور ترین عسکری شخصیت تک پہنچی تو اس نے فوری طور پر ایشو حل کرنے کی ذمہ داری اپنے ہاتھ میں لےلی اور پھر کراچی کے ممتاز صنعت کار عقیل کریم ڈیڈی سے فوری رابطہ کیا جس نے حسب ہدایت مفتی منیب الرحمن کو ریٹرن ٹکٹ دے کر ہنگامی طور پر اسلام آباد بھیجا جبکہ مفتی منیب الرحمن کی “ہدائت” پر ٹی ایل پی کے قائد سعد رضوی کو فوری طور پر لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے نکال کر اسلام آباد پہنچایا گیا.
ذرائع کے مطابق سعد رضوی نے وزیراعظم کی مذاکراتی ٹیم میں وزیر داخلہ شیخ رشید کو دیکھتے ہی مذاکرات سے انکار کر دیا جبکہ مفتی منیب الرحمن کے اعتراض پر ایک دوسرے وفاقی وزیر کو بھی مذاکرات کے عمل سے آؤٹ کر دیا گیا. ذرائع کا خیال ہے کہ مذکورہ وزراء در اصل تحریک لبیک کے لانگ مارچ کو 19 نومبر کو ٹی ایل پی کے بانی قائد خادم حسین رضوی کی پہلی برسی تک دارالخلافہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان واقع “فیض آباد چوک” تک پہنچانے کے خواہش مند تھے تاکہ ٹی ایل پی کے احتجاجی مظاہرین کے وہاں دھرنے کے نتیجے میں تناؤ کی صورتحال میں شدت آئے لیکن اطلاعات کے مطابق “تحریک لبیک” کی قیادت کے ساتھ فیصلہ کن مذاکرات کے حوالے سے صرف “کپتان” کو اعتماد میں لیا گیا تھا لہذا پرائم منسٹر ہاؤس اور راولپنڈی کے طاقت کے مراکز نے یکجا ہو کر اسلام آباد میں طاقت کے “کسی اور” مرکز کا ایجنڈا ناکام بنا دیا۔
(نوٹ ادارہ کا مضمون نویس کی آرا سے متفق ہونا ضروری نہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے