واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا نے بین الاقوامی سطح پر جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والا سافٹ وئر پیگاسس تیار کرنے والی اسرائیلی کمپنی بلیک لسٹ کر دی۔ ملکی حکام نے پیگاسس نامی اسپائی سافٹ وئر تیار کرنے والی اسرائیلی کمپنی کو بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ باقاعدہ چھان بین کے نتیجے میں یہ بات طے ہو جانے کے بعد کیا کہ متعلقہ اسرائیلی کمپنی نے یہ سافٹ وئر دانستہ ایسے خریداروں کو بیچا، جنہوں نے اس کے ذریعے حکومتی اہل کاروں اور صحافیوں تک کو جاسوسی کا نشانہ بنایا۔ یہ سافٹ وئر جس اسرائیلی کمپنی نے تیار کیا تھا، اس کا نام این ایس او ہے۔ یہ کمپنی اور اس کا تیار کردہ یہ سپائی وئر اس وقت انتہائی متنازع ہو گئے تھے، جب یہ رپورٹیں سامنے آئی تھیں کہ اس سافٹ وئر کے ذریعے دنیا بھر میں انسانی حقوق کے ہزار ہا کارکنوں، صحافیوں، سیاست دانوں اور کاروباری شخصیات کو ممکنہ جاسوسی کا نشانہ بنایا گیا۔ این ایس او کا تیار کردہ اسپائی وئر پیگاسس اتنا مؤثر تھا کہ اس کے ذریعے کسی بھی اسمارٹ فون کو انفیکٹ کرنے کے بعد اسے جاسوسی کے ایسے آلے میں بدل دیا جاتا تھا، جسے اس کا مالک اپنے ہی خلاف اپنی جیب میں لیے پھرتا ہو۔ اس سافٹ وئر کے استعمال کنندہ افراد اور ادارے اپنے شکار کے تمام میسج پڑھ سکتے تھے، اس کے فون میں تصویریں بھی دیکھ سکتے تھے اور اس کی لوکیشن کا ریکارڈ رکھنے کے علاوہ ریموٹ کمانڈ کے ذریعے اس کا کیمرا بھی اس طرح چلا سکتے تھے کہ متاثرہ فرد کو اس کی خبر تک نہ ہوتی تھی۔ اس حوالے سے امریکی محکمہ تجارت نے بیان میں کہا کہ اس اسپائی وئر کی مدد سے بہت سی غیر ملکی حکومتوں کو یہ موقع مل گیا کہ وہ اپنی قومی حدود سے باہر بھی اپنے مخالفین اور ناقدین کا ڈیجیٹل تعاقب کر سکیں۔ یوں سیاسی منحرفین، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں تک کو اپنے ممالک کی قومی حدود سے باہر بھی ہدف بنا کر چپ کرانا ممکن ہوا۔
