واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ کابل میں کیے گئے امریکی حملے میں شہری ہلاکتیں جنگی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ بیان میں کہا گیاکہ پینٹاگون داخلی سطح پر کی گئی تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ کابل میں 10افغان شہریوں کی ہلاکت کا باعث بننے والا ڈرون حملہ قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتا۔ پینٹاگون کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کارروائی ایک بڑی غلطی تھی۔ یاد رہے کہ کابل ائرپورٹ پر ایک دھماکے میں 13 امریکی فوجی ہلاک ہوگئے تھے،جس کے بعد امریکا نے 29 اگست کو اندھادھند کارروائی کرتے ہوئے 10افراد کو نشانہ بنا دیا تھا۔ مرنے والوں میں 7بچے شامل تھے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے ایک آزاد اور غیر جانب دار جائزے کے بعد یہ بیان دیا ہے۔ محکمہ دفاع کی جانب سے اس حوالے سے کی جانے والی تحقیقات کے بعد مجرمانہ غفلت کے خلاف کوئی کارروائی بھی تجویز نہیں کی گئی۔ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ہدف کی نشان دہی اور ڈرون حملے کے دوران مواصلاتی تعطل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اگر ڈرون حملہ کرنے والی ٹیم اور ان کے ساتھی اہل کاروں میں بہتر رابطے ہوتے تو حملے سے قبل شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا، لیکن اس کے باوجود اس حملے کو روکنا ممکن نہیں تھا۔
