بھارتی ریاست پنجاب میں ایک قیدی نے الزام عائد کیا ہے کہ جیل حکام نے مجھے پر تشدد کرتے ہوئے گرم سلاخ سے میری پیٹھ کر (آتنک وادی) دہشتگرد لکھ دیا ہے۔ تاہم پولیس نے اس کے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔
جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کے مطابق یہ خبر ضلع برنالا کی جیل میں پیش آیا۔ اس قیدی کا نام کرم جیت سنگھ بتایا جا رہا ہے۔
قیدی نے عدالت میں تحریری طور پر دائر کی گئی شکایت میں الزام عائد کیا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ نے ناصرف اس پر شدید تشدد کیا بلکہ اس کی کمر گرم سلاخ داغ گئی اور ‘آتنک وادی‘لکھوا دیا۔
A jail inmate in Barnala, Karamjit Singh beaten brutally by Jail Superintendent. The word “Attwadi” meaning TERRORIST engraved on his back!
This is disgusting and a serious violation of human rights. We demand strict possible action against officials involved @CHARANJITCHANNI Ji https://t.co/mYKcWyPWMh pic.twitter.com/icmiIiBSit— Manjinder Singh Sirsa (@mssirsa) November 3, 2021
کرم جیت سنگھ نے اپنی درخواست میں کہا کہ برنالا جیل میں قیدیوں کی حالت بہت بری ہے۔ ان کیساتھ انتہائی اذیت ناک سلوک کیا جاتا ہے۔ ان کیلئے نہ تو کھانے پینے کا انتظام ہے اور نہ ہی ان کی صحت کا خیال رکھا جاتا ہے۔ کئی قیدی ہیپاٹائٹس اور ایڈز جیسی موذی بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
قیدی نے الزام لگایا کہ میں نے جب کبھی قیدیوں کے ساتھ خراب سلوک کا معاملہ اٹھانے کی کوشش کی تو جیل سپرنٹنڈنٹ نے مجھے بری طرح مارا پیٹا۔
Deputy CM @Sukhjinder_INC issued order to conduct a thorough probe into incident involving prisoner of Barnala Jail. Dy CM took notice after Karamjit Singh, a prisoner of jail during his hearing at Mansa court alleged that jail staff had written objectionable words on his body.
— Government of Punjab (@PunjabGovtIndia) November 3, 2021
اپوزیشن پارٹی اکالی دل کے ترجمان منجندر سنگھ سرسا نے اس قیدی کی تصویریں ٹویٹ کی ہیں جس میں اس کی کمر پر ‘آتنک وادی‘ لکھا ہوا دیکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اس واقعہ کو انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
دوسری جانب جیل سپرنٹنڈنٹ بلبیر سنگھ نے قیدی کے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرم جیت سنگھ ایک عادی مجرم ہے، یہ من گھڑت کہانی ہے کہ میں نے اس کی پیٹھ پر آتنک وادی لکھوایا ہے۔ جیل سپریٹنڈنٹ کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ اس قیدی پر قتل سمیت گیارہ مقدمات درج ہیں۔
