تحریر(نوید خان کے جی )ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ اپنی پوری رعنائی کے ساتھ رواں دواں ہے ، جہاں دلچسپ میچ دیکھنے کو مل رہے ہیں۔کچھ نتائج توقع کے برعکس بھی ہیں۔ اب تک کھیلے گئے میچوں سے یہی اندازہ ہور ہا ہے ،کہ پاکستان اور انگلینڈ ٹرافی جیتنے کے مواقع زیادہ نظر آرہے ہیں۔ پاکستان اب تک چار میچ کھیل چکا ہے ،اور چاروں میچوں میں اسکو فتح حاصل ہوئی۔ بھارت کے خلاف 10وکٹوں سے کامیابی نے بقیہ فتوحات کو آسان کردیا۔ اس میچ کو جیتنے سے جوا عتماد ملا ہے وہ اعتماد ہم کو ٹرافی جتواسکتا ہے، گونیوزی لینڈ اور افغانستان کیخلاف میچ بہت زیادہ loweرہا مگر وہ اعتماد جو بھارت کیخلاف جیت سے ہم کو ملابقیہ تینوں میچوں کو جیتنے میں بہت مدد گار ثابت ہوا،خاص طورپر افغانستان کیخلاف آخری 2اوور میں 24رنز بہت تھے۔ خاص کر جب پاکستان کی اہم 5وکٹیں گرچکی تھیں۔ آصف علی کے چھکے مدتوں شائقین اور کرکٹ پنڈتوں کی ذہنوں میں ہمیشہ یاد رہیں گے۔ بھارت کے خلاف فتح یہ ہماری ورلڈکپ میں پہلی فتح ہے، اس سے پہلے 50اووراور20اوور کے ورلڈکپ میںہم بھارت سے ہر میچ ہار چکے ہیں۔ یہ بھارت کے ساتھ مکافات عمل ہوا ہے۔ اوراسی مکافات عمل کا سلسلہ جب سے شروع ہوا جب 2019کے 50 اوور کے ورلڈکپ میں بھارت کی ٹیم انگلینڈ کیخلاف ایک جیتا ہوا میچ جان بوجھ کر ہاری تھی۔ اگر بھارت یہ میچ سازش کے تحت نہ ہارتا تو انگلینڈ سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہوجاتا اور پاکستان سیمی فائنل میں ہار گیا۔ اور انگلینڈ جوسیمی فائنل نہیں کھیل سکتا تھا۔ وہ ورلڈکپ جیت کرتاریخ میں اپنا نام رقم کرچکا ۔ یہ مکافات عمل کا سلسلہ بھارت کیساتھ اسوقت سے جاری ہے وہ ٹیسٹ چمپئن شپ کے فائنل میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست کھاچکا ہے۔ اور نیوزی لینڈ پہلی آئی سی سی ٹیسٹ چمپئن شپ جیت گئی۔اس مکافات عمل کا سلسلہ مزید دراز ہوتا جارہاہے بھارت اپنا دوسرا میچ بھی نیوزی لینڈ کے خلاف 8وکٹوں سے ہار گیا۔ یادرہے کہ بھارت اپنا پہلا میچ پاکستان سے 10وکٹوں سے ہارا تھا۔ اور بھارت جس کو اپنے بولرز جسپریت بمرا، چکروتی، جدیجا پر بہت ناز تھااپنے دونوں میچوں میں مخالف ٹیم کی صرف 2وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔ افغانستان کیخلاف افغانستان کی ٹیم جس طرح اپنے تین میچ کھیلی اس نے بھارت کے خلاف کوئی اچھاکھیل پیش کیا اوراس طرح ہار گیا کہ لوگ اسے شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں۔ یہ افغان ٹیم کسی بھی ٹیم کے خلاف کبھی بھی کچھ بھی کرسکتی ہے۔ ان کے بیٹسمین بہت نڈر ہوکر کھیلتے ہیں۔ اور ان کے اسپنرز دنیا کے بڑے سے بڑے بیٹسمین کیلیے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔ پھر بھارت کے خلاف 66رنز سے شکست ،کچھ تو گڑ بڑ ہے۔اب بھی اگر افغانستان اپنی تھوڑی سی حکمت عمل بہتر کرے تو اس کو آخری مرحلے میں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ دو نستبا چھوٹی ٹیمیں اسکاٹ لینڈ اور نمیبیا کیخلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنا سمجھ آتا ہے کہ یہ ٹیمیں زیادہ مضبوط نہیں ہیں۔ مگرپاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرناسب کے لیے بہت بڑا سپرپرائز تھا۔ اب تک سارے زرلٹ یہی بتا رہے ہیں کہ جو ٹیم پہلے بیٹنگ کررہی ہے وہ ٹیم ہار رہی ہے۔ سوائے ایک دومیچوں کے جس میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم پہلے بیٹنگ کرکے بنگلادیش کیخلاف 3رنز سے میچ جیتی ،اب افغانستان کا سارا زور نیوزی لینڈ کے خلاف 7نومبر کو میچ میں ہوگا۔ گروپ اے سے انگلینڈ ورلڈکپ کی پہلی ٹیم جو سیمی فائنل کیلیے کوالیفائی کرگئی۔ انگلینڈ اپنے سب میچ جیت چکا ہے اور اپنا آخری میچ اسے بنگلادیش کے خلاف کھیلنا ہے، جو اب تک گروپ میں ایک بھی میچ نہیں جیت سکا ۔اسی ورلڈ کپ میں آئی سی سی نے جو وکٹیں بنائی ہیں وہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے لیے مناسب نظرنہیں آتی۔ ٹیمیں 140اور150رنز پر میچ جیت رہی ہیں۔ اور پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم کو بیٹنگ کرنے میں مشکلات ہورہی ہیں۔ گیند رک کر آرہی ہے اور نیچے رہتی ہے۔ بلے پر گیند صحیح سے نہیں آرہی ہے۔ انڈیا اورآسٹریلیا جیسی ٹیمیں پہلے بیٹنگ کرکے انڈیا نے 110رنز بنائے۔ نیوزی لینڈ کیخلاف اورآسٹریلیا بھی بہت کم اسکور کیا۔ دوسرا بڑا موقع ڈیو کا ہے،اوس ختم کرنے کے لیے گرائونڈ سے کمیکل چھڑکا جارہاہے ،مگرمیچ کے دوران مسلسل او س گر رہی ہے۔ تب دوسری اننگز بعد میں بولنگ کرنے والوں کو اوس کی وجہ سے مشکل ہورہی ہے، بال پر ان کی گرفت صحیح نہیں ہورہی ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ساری ٹیمیں ٹا س جیت کر مخالف ٹیم کو بیٹنگ کرارہی ہیں۔ بھارت اور افغانستان کے میچ میں ٹاس کے وقت ایک ویڈیو گسٹ کررہی ہے کہ سکہ اچھالنے سے قبل افغان کپتان سے کوہلی کہہ رہا ہے کہ تم کہنا کہ ہم پہلے بولنگ کریں گے۔ٹاس جیت کر افغانستان نے یہ ہی فیصلہ کیا۔ ماہرین سوال کررہے ہیں کیا اب نیوزی لینڈ سے کہاجائے گا کہ افغانستان سے ہار جائو۔۔۔ اب تک ٹورنامنٹ میںکھیل ہورہا تھا لیکن بھارت کو سیمی اور فائنل تک پہنچانے کے لیے کھیل میں سیاست شروع کردی گئی ہے۔

