English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

تجزیہ 10

القمر

گزشتہ ہفتے روم میں  میں منعقد ہونے والے جی۔20 سربراہی اجلاس کے دائرہ کار میں صدر رجب طیب ایردوان اور امریکی صدر جو بائڈن  کی ملاقات ترک۔ امریکی باہمی تعلقات کے مستقبل کے اعتبار سے  اہمیت کی حامل تھی۔  دو طرفہ ملاقات  دو ہفتے قبل پیش آنے والے سفیروں  کے بحران کے بعد  سر انجام اپنے نے اس کی اہمیت میں مزید اضافہ کیا تھا ۔سفرا بحران  حل ہو گیا ہے تو بھی ترک۔ امریکی تعلقات میں در پیش دیگر مسائل  پر غور کیا گیا تا ہم  ان کا کوئی حل تلاش نہ کیا جا سکا گیا۔  مذاکرات کے مثبت ماحول میں سر انجام پانے  کا خیر مقدم کیا گیا ہے  تو  مسائل کے حل کے بارے میں  مصمم ارادے  نے  دونوں ممالک کے  باہمی تعلقات میں   حائل بحران کے مزید طول  پکڑنے  کا سد باب کیا ہے۔

سیتا خارجہ پالیسی تحقیق دان پروفیسر ڈاکٹر  مراد یشل طاش  کا مندرجہ بالا موضوع پر جائزہ ۔۔۔

باہمی تعلقات میں ایک نئے باب کے آغاز کے لیے متوقع اہم ترین مثبت پیش رفت  ترکی کی امریکہ سے  ایف۔16 خریدنے اور پرانے طیاروں کی تجدید سے متعلق  درخواست کو امریکی کانگرس کی رکاوٹ کے بغیر قبول کیا جانا تھا۔ تا ہم  بائڈن انتظامیہ کے اس معاملے کی ضمانت   دینے  کا کہنا کچھ زیادہ ممکن نہیں۔ کیونکہ اس طرز  کی تجارت  امریکہ میں  کانگرس کی منظوری   کی مجاز  ہوتی ہے۔ بائڈن کی جانب سے کانگرس کو آمادہ کرنے کے لیے ہر ممکنہ  کوششیں صرف کرنے کا عندیہ دینے   کے باوجود  ماہرین  کا خیال ہے کہ  امریکی کانگرس  اس معاملے میں  گرمجوشی کا مظاہرہ کرنے سے بعید ہے۔اگر  ایف۔ 16  لڑاکا طیاروں کی خرید اور ان کی تجدید کے معاملے   پر مطابقت قائم نہ   ہوئی تو ترک۔ امریکی تعلقات میں دفاعی تعاون مزید  متنازع ماہیت اختیار کر سکتا ہے ۔

ایک دوسرا معاملہ شام میں وائے پی جی دہشت گرد تنظیم کو امریکی تعاون  کا سلسلہ  جاری ہونے سے  متعلق ہے۔گو کہ   ترک صدر کا بیان کہ ’اب ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے‘ ترکی کے مستقبل قریب میں شام میں عسکری کاروائی کرنے  کا اشارہ دیتا ہے  تو بھی  فی الحال   اس ضمن میں کسی پیش رفت کا مشاہدہ نہیں ہوا۔  جناب ایردوان نے مذکورہ ملاقات کے بعد بائڈن انتظامیہ کے   دوبارہ سے وائے پی جی  سے  تعاون  کرنے پر  تنقید کی اور  کہا کہ اس چیز کو جاری رکھا جانا ناممکن ہے۔  اس طرز کی نکتہ چینیاں آنے والے ایام میں ترکی اور امریکہ کے مابین شام کے معاملے میں کسی معاہدے اور مطابقت   کے احتمال کے  معدوم  ہونے کا مظہر ہیں۔

اس ملاقات کے  مثبت پہلووں کو  بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،  بائڈن  نے خاصکر افغانستان کے معاملے میں ترکی کی کاروائیوں  کی اہمیت  پر زور دیتے ہوئے  ترکی  کے افغانستان میں ایک اہم کردار ادا کر سکنے  کا بھی ذکر کیا ہے۔ علاوہ ازیں  مشرقی بحیرہ روم اور لیبیا کے معاملے میں  دونوں   ممالک کے مشترکہ  طور پر کام کرنے  پر زور دیا جانا  اہم تھا۔

امریکہ اور ترکی کے مابین   دو بنیادی مسائل پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے پہلا   مسئلہ اعتماد کا بحران ہے، دونوں  ممالک  میں  ایک دوسرے پر اعتماد کا فقدان نمایاں دکھائی دیتا ہے۔  دوسرا مسئلہ سیکیورٹی کا بحران ہے۔  امریکہ کی خاصکر شام کے معاملے میں  پالیسیاں  ترکی کے لیے سلامتی کے مسائل کو جنم دے رہی ہیں، ان دونوں مسائل کو حل کیے بغیر  دونوں ممالک   کے لیے ایک نئے باب کا سنگ ِِ بنیاد  ڈالنا ہر گز آسان نہیں ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے