نیو دہلی —
دنیا بھر میں زمینی، فضائی اور آبی آلودگی کی وجوہات میں سے ایک فیکٹریاں بھی ہیں اور عالمی سطح پر اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بے شمار اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
بھارت کے دارالحکومت دہلی سے تعلق رکھنے والی کریتی تولہ ماحول کے تحفظ کے لیے ناقابلِ استعمال کپڑوں کے ٹکڑوں سے ملبوسات تیار کرتی ہیں۔
فیکٹری سے بچ جانے والے کپڑوں کے ٹکڑے بظاہر کسی کام کے نہیں لگتے لیکن خاتون ڈیزائنر ان ٹکڑوں کو جمع کرنے کے بعد اس سے خواتین اور مردوں کے لیے کپڑے بناتی ہیں۔
بھارتی ڈیزائنر کا برانڈ فیکٹری کے تلف شدہ کپڑوں کے ٹکڑوں کو جمع کر کے اس سے خواتین کے لیے ساڑھیاں، گاؤن اور مردوں کے لیے بھی کپڑے بنا کر فروخت کرتا ہے۔
ان کپڑوں کی قیمت 100 ڈالر سے شروع ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ کریتی اب بچوں کے کھلونے، بیگز اور خواتین کے پرس بھی تیار کرتی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق کریتی تولہ کا کہنا ہے کہ ان کا برانڈ کی مردوں کی رینج میں ڈینم کی پیچ ورک والی شرٹس بھی شامل ہیں۔
ڈیزائنر کے مطابق انہیں فیشن انڈسٹری کے گلوبل وارمنگ پر اثرات کی وجہ سے یہ خیال آیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ بڑی ٹیکسٹائل کے ساتھ کام کرتے وقت انہوں نے دیکھا ہے کہ ضائع شدہ کپڑوں کے ٹکڑے اور اسے تیار کرتے دوران خارج ہونے والے مضر مادے ماحول کے لیے بے حد نقصان دہ ہیں۔

ان کے بقول ہر وہ چیز جو وہ پہنتے ہیں، اس کا اثر ان تمام چیزوں پر بھی ہوتا ہے جو ہم کھاتے ہیں یا جس ماحول میں ہم سانس لیتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام نے 2019 میں کہا تھا کہ 2.4 ٹریلین ڈالر کی عالمی فیشن انڈسٹری دنیا کے کاربن اخراج کا 8 سے 10 فی صد ہے۔ جو تمام پروازوں اور سمندری جہاز کے مجموعی کاربن اخراج سے بھی زیادہ ہے۔
فیشن انڈسٹری دنیا کے مجموعی آلودہ پانی کا 20 فی صد حصہ بھی پیدا کرتی ہے۔
اس رپورٹ میں مواد خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ سے لیا گیا ہے۔
