شہباز شریف کا وزیراعظم عمران خان کو ’استعفیٰ‘ دے کر عوام کو ’فوری ریلیف‘ دینے کا مشورہ
نومبر 7, 2021
القمر
مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے مہنگائی کنٹرول کرنے میں ’ناکامی‘ پر وزیر اعظم عمران خان کو ’استعفے‘ دے کر عوام کو ’فوری ریلیف‘ دینے کا مشورہ دے دیا۔
سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شہباز شریف نے کہا کہ آٹا، چینی، گھی، دوائی، بجلی، گیس، پٹرول، معیشت، مہنگائی پر بس نہیں چل رہا تو استعفیٰ دینا عمران خان کے بس میں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ استعفی لکھ کر عوام کو فوری ریلیف دیں، چینی کے بعد پٹرول اور اس پر بجلی کی قیمتوں میں ایک اور اضافہ عوام پر مہنگائی کی بمباری ہے، ظلم کی یہ حکومت نہیں چل سکتی۔
علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’باہی سرکار آئی ایم ایف کی شرائط پر لیوی کے ذریعے 250 سے 300 ارب حاصل کرنا چاہتی‘۔
انہوں نے ٹوئٹر پر انگریزی اخبار کی خبر کا ایک حصہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ خود کو ایماندار، دوسروں کو چور کہنے والے پیٹرول پر فی لیٹر 21 روپے اور ڈیزل پر فی لیٹر 28 روپے حاصل کر رہے۔
شیری رحمٰن نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم لیوی 10 روپے فی لیٹر لے رہی جو آنے والے دنوں میں 15 روپے تک لے جائے گئی۔
رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ تباہی سرکار آئی ایم ایف کی شرائط پر لیوی کے ذریعے 250 سے 300 ارب حاصل کرنا چاہتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ صرف پیٹرولیم لیوی کی محصولات کا ہدف 120 ارب کے ریلیف پیکج سے بھی زیادہ ہے۔
شیری رحمٰن نے کہا کہ آئی ایم ایف کا قرضہ حاصل کرنے کے لئے حکومت پیٹرول، بجلی اور گیس کے نرخوں میں مزید اضافہ کرے گی۔ ملک میں مزید بحران اور مہنگائی کی سونامی آئے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ عوام کو ریلیف تب ملے کا جب یہ نااہل حکومت گھر جائے گی۔
خیال رہےکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور تمام رہائشی صارفین کے لیے بجلی کے بنیادی نرخوں میں یکم نومبر سے 1.68 روپے فی یونٹ اضافے کے بعد اپوزیشن نے دونوں ایوانوں میں حکومت کے خلاف شور شررابہ کیا ہے۔
قانون سازوں نے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سےاقتدار میں آنے سے قبل کنٹینر پر کی جانے والی تقریروں کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے پیٹرول اور بجلی کی قیمت میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی پر سابق حکمرانوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
حکومت میں شامل سمجھدار لوگ وزیر اعظم کو نئے انتخابات کیلئے آمادہ کریں، سعد رفیق
مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے حکومت کی جانب سے انتخابی اصلاحات کے عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت الیکٹرانک ووٹنگ میشن (ای وی ایم) مسلط کرنا چاہتی ہے، گزشتہ انتخابات میں حکومت کے پاس آر ٹی ایس اور اب ای وی ایم کا بٹن ہاتھ میں ہوگا، حکومتی صفوں میں شامل سمجھدار لوگ وزیر اعظم عمران خان کو نئے انتخابات کے لیے آمادہ کریں۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس کے دوران سعد رفیق نے کہا کہ موجودہ حکومت کے بس کی بات نہیں ہے کہ مزید حکمرانی کرسکے اس لیے نئے مینڈیٹ کا حصول ناگزیر ہوچکا ہے۔
علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ای وی ایم جو دنیا کے صرف ’دو ڈھائی‘ ملکوں میں استعمال ہوئی وہاں کی آباد ایک کروڑ سے بھی زیادہ نہیں ہے جبکہ بڑے جمہوری ممالک میں ای وی ایم کا استعمال نہیں ہوتا اس لیے گزشتہ انتخابات میں حکومت کے پاس آر ٹی ایس اور اب ای وی ایم کا بٹن ہاتھ میں ہوگا۔
سعد رفیق نے کہا کہ آئین میں درج ہے کہ صدر مملکت آرڈیننس اس وقت جاری کرسکتے ہیں جب قانون سازی کے لیے حالات سازگار نہ ہوں تب نظام حکومت کا تسلسل برقرار رہے اس لیے آرڈیننس جاری کیا جاتا ہے لیکن ملک میں ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈسکہ کے ضمنی انتخابات کے بعد مزید وضاحت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس سے ثابت ہوگیا کہ یہ ووٹ چور حکمران ہیں۔
رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ پاکستان کے عوام اور سیاسی جماعتیں ’دن دھاڑے ووٹ چوری‘ نہیں ہونے دیں گے اور نیب ترمیمی آرڈیننس سے ثابت ہوگیا کہ یہ تو ساری دال ہی کالی نکلی ہے۔
سعد رفیق نے کہا کہ نیب ترمیمی آرڈیننس میں حکومت کا فلسفہ ہے کہ خود کسی کے ہاتھ نہ آؤ اور سیاسی مخالفین کو ہاتھ سے جانے نہیں دو۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کوئی بھی ریاستی ادارہ حکومت کے شر سے محفوظ نہیں ہے، مسلم لیگ (ن) نے حکومت کے خلاف ایک روڈ میپ بنا لیا ہے جبکہ حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اپنا فیصلہ کرچکی ہے۔
سعد رفیق نے مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں حکومت کی ناکامی سے متعلق کہا کہ ہم بھرپور انداز میں احتجاج کریں گے، قیمتوں کو کم کرنا اور اس میں توازن برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کو مخاطب کرکے کہا کہ ’انہیں تسلیم کر لینا چاہیے کہ جو مینڈیٹ انہیں ملا یا دلوایا گیا تھا، کام نہیں کرسکا تو نظام فیل ہوگیا ہے۔
سعد رفیق نے حکومتی صفوں میں شامل ’سمجھدار‘ لوگوں کو مخاطب کرکے کہا کہ ’وہ عمران خان کو نئے انتخابات پر آمادہ کریں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ نظام ریاست چلانا موجودہ حکومت کے بس کی بات نہیں ہے اس لیے نئے مینڈیٹ کا حصول ناگزیر ہوچکا ہے۔
سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے مختلف اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کہا کرتے تھے کہ مہنگائی ہوتی تو حکمران چور ہوتے ہیں، اب عمران خان کے دور اقتدار میں مہنگائی اپنے عروج پر اس لیے حکومت چور، ڈاکو کی سطح سے اوپر نکل گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابقہ دو حکومتوں نے اتنے قرضے نہیں لیے جتنے انہوں نے 3 برس میں لے لیے لیکن اس پر بھی احساس نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ریلیف پیکج دینے کےبعد رات کو پیٹرول اور صبح بجلی کی قیمت بڑھا دیتے ہیں، پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ایک ماہ میں تین مرتبہ بجلی اور تییل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہو۔
ایاز صادق نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے نیب ترمیمی آرڈیننس 2021 دراصل اپنے، اپنے خاندان اور وزرا کے لیے بنایا جنہیں کسی بھی صورت میں نیب احتساب کے دائرے میں نہیں لا سکتا۔
سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ نیب ترمیمی آرڈیننس 2021 کے تحت وزیراعظم، وزرا کو ہر قسم کا استثنیٰ حاصل ہوگا، ترمیمی آرڈیننس کا مقصد یہ ہے کہ خود ایڈونس میں احتساب سے خلاصی حاصل کرلی جائے اور دوسرا نہ بخشا جائے۔