ویب ڈیسک —
افغانستان کی صورت حال پر بات چیت کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان، سفیر تھامس ویسٹ نے پیر کے روز سے اپنے دورہ یورپ اور ایشیا کا آغاز کر دیا ہے جہاں افغانستان میں دو کروڑ 30 لاکھ لوگوں کو، جن میں بچے بھی شامل ہیں، فاقہ کشی کا سامنا ہے۔
سب سے پہلے وہ بیلجئم کے دارالحکومت، برسلز کا دورہ کر رہے ہیں، جہاں سفیر تھامس ویسٹ اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ افغانستان سے متعلق بات چیت کریں گے۔
دورے کے آغاز پر ایک ٹوئیٹ میں، ویسٹ نے کہا کہ ”میں امریکہ کے اہم مفادات اور افغان عوام کی حمایت کو آگے بڑھانے کا خواہشمند ہوں”۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ ”مؤثر نتائج کے حصول کے لیے لازم ہے کہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر اقدامات اٹھائے جائیں”۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ عطیہ دہندگان کی جانب سے مزید رقوم میسر نہیں آ جاتیں تو اس موسم سرما کے دوران افغانستان کی اندازاً چار کروڑ آبادی فاقہ کشی سے دوچار ہو جائے گی۔ پیر ہی کے روز ایک بیان میں عالمی ادارہ خوراک نے کہا ہے کہ افغان بحران کی صورت حال درپیش ہے، ایسے میں ایندھن کے نرخ میں اضافہ ہو چکا ہے، خوراک کی قیمیں بڑھ چکی ہیں، جب کہ کھاد کی قیمتیں مہنگی ہوتی جا رہی ہیں۔

اگست میں امریکی زیرقیادت غیر ملکی افواج کے افغانستان سے انخلا اور اسلام پسند طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد ملک معاشی بحران کی لپیٹ میں ہے، جب کہ افغان عوام کی انسانی بنیادوں پر امداد کی ضروریات بڑھتی جا رہی ہیں، جس کی وجہ کئی برسوں تک جاری لڑائی اور طویل اور وسیع تر علاقے پر قحط سالی کی صورت حال ہے۔
طالبان حکومت کو جائز تسلیم نہ کیے جانے کے نتیجے میں افغانستان کو ملنے والی کئی ارب ڈالر کی سالانہ غیر ملکی اعانت منسوخ کردی گئی ہے جب کہ طالبان کی تقریباً 10 ارب ڈالر کے افغانستان کے اثاثوں تک رسائی بھی روک دی گئی ہے۔ زیادہ تر اثاثے امریکی وفاقی ریزرو بینک میں پڑے ہیں۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں طالبان کے لیے تنخواہیں دینا اور ضروری اشیا درآمد کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے لیے افغانستان میں مشکل ہی سے کوئی راستہ باقی رہ گیا ہے؛ یا تو وہ طالبان کے ساتھ کام کرنے کی کوشش کریں اور ایک اعتبار سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے معاملے پر اس کا ساتھ دیں یا پھر دور بیٹھے بحران کر بد سے بدتر ہوتا اور 20 سال کے ترقیاتی کام کومٹی میں ملتا دیکھیں۔
قومی سلامتی کے امریکی مشیر، جیک سلیوان نے اتوار کے دن ایک انٹرویو میں سی این این کو بتایا کہ امریکہ افغانستان کو بنیادی انسانی ہمدری کی بناد پر سب سے بڑی امداد دینے والا ملک ہے؛ صرف اسی سال امریکہ نے أفغانستان کو تقریباً نصف ارب ڈالر کی امداد فراہم کی ہے۔
مشیر نے امدادی تنظیموں پر انحصار کرنے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ ابھی تک افغانستان میں طالبان قیادت کے ذریعے براہ راست رقوم فراہم کر رہی ہے۔
سلیوان نے کہا کہ ”ہمارے خیال میں بہتر طریقہ یہ ہوگا کہ افغانستان کے عوام کی مدد کی جائے، اور ایسے اسباب سے بچا جائے جن میں یہ رقوم امریکہ کے قومی سلامتی کے مفاد کے لیے مسائل پیدا کرنے کا باعث بنیں”۔
انھوں نے مزید کہا کہ جب تک جامع حکومت تشکیل اور دیگر پہلووں پر جن پر ہم طالبان کے ساتھ بات جاری رکھے ہوئے ہیں، ان میں قابل ذکر بہتری نہیں آتی، ہمارا دھیان اس بات پر ہی موکوز رہے گا کہ ہم اور بین الاقوامی برادری کروڑوں ڈالر کی امداد صرف اس سال دیں اور یہ امدادی رقوم بین الاقوامی تنظیموں اور غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے فراہم کی جائیں۔”
اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی غرض سے اتوار کے روز طالبان نے 43 صوبائی گورنر اور پولیس سربراہ مقرر کیے ہیں۔
