English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

وزیراعظم عمران خان کا افغانستان اور عوام کو درپیش مسائل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے تعاون کا اعادہ

القمر

وزیراعظم عمران خان نے افغانستان کی ہر ممکن مدد کرنے کا عزم دہراتے ہوئے کہا کہ امید ہے افغانستان کی عبوری حکومت عالمی برادری کے ساتھ تعمیری رابطے جاری رکھے گی۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق افغانستان کے عبوری وزیرخارجہ امیر خان متقی نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی، ان کے ہمراہ عبوری وزیر خزانہ اور وزیر صنعت و تجارت اور دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی افغان وفد میں شامل تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم عمران خان نے افغانستان اور عوام کو درپیش مسائل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے تعاون کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے پرامن، مستحکم، خودمختار، خوش حال افغانستان کی اہمیت پر زور دیا جو پاکستان اور خطے سے جڑا ہوا ہو۔

انہوں نے سیکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے اقدامات، افغانستان کے عوام کے حقوق کا احترام اور حکومت اور سیاست میں جامعیت کو نمایاں کیا کہ اس سے افغانستان میں مزید استحکام میں معاونت ہوگی۔

بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم عمران خان نے امید کا اظہار کیا کہ افغانستان کی عبوری حکومت عالمی برادری کے ساتھ تعمیری رابطے جاری رکھے گی اور موجودہ چیلنجز حل کرنے کے لیے مثبت اقدامات کرتی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل مطالبہ کر رہا ہے کہ افغانستان میں امدادی کام فوری طور پر کیا جائے اور وزیراعظم نے افغانستان کے منجمد اثاثوں کی فوری بحالی اور معاشی بحران سے بچنے کے لیے بینکنگ ٹرانزیکشنز کی سہولت کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔

وزیراعظم نے افغانستان کے عوام کی سردیوں کے موسم میں انسانی بنیادوں پر تعاون سمیت ہر ممکن مدد جاری رکھنے کا بھی عزم کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کو بنیادی ضروریات جیسے خوراک، گندم اور چاول، ایمرجنسی ادویات اور عوام کو درکار پناہ گاہوں کے لیے اشیا فراہم کرے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کی جانب سے انسانی بنیاد پر پاکستان کے راستے گندم بھیجنے کی پیش کش پر افغان بھائیوں کی درخواست پر پاکستان موجودہ حالات کے تناظر میں غور کرےگا اور طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم عمران خان نے دونوں ممالک کے شہریوں کی آمد ورفت، تجارت، ٹرانزٹ اور خطے میں ترقی اور خوش حالی کے فروغکے لیے علاقائی رابطہ کاری کے لیے مل کر کام کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

اس سے قبل افغانستان کے عبوری وزیرخارجہ نے اسلام آباد میں آئی ایس ایس آئی میں سیمینار سے خطاب میں پاکستان اور ٹی ٹی پی کے مابین مذاکرات کے لیے سہولت کاری کی بھی تصدیق کی تھی۔

افغان عبوری وزیر خارجہ کا کہنا تھا ہمیں سمجھ نہیں آرہی کہ ہم کون سا ایسا عمل کریں جس سے امریکا سمیت دیگر ممالک ہمیں تسلیم کریں.

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کو بڑی فوج کی ضرورت نہیں ہے ہم مختصر اور باصلاحیت فوج تشکیل دیں گے، ہماری حکومت وسیع البنیاد ہے اور حکومت میں تمام قومیتیں شامل ہیں۔

افغان وزیرخارجہ نے گزشتہ روز پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی سے وزارت خارجہ میں وفد کی سطح پر مذاکرات کیے تھے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ پاکستان، افغانستان میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، پاکستان، قریبی ہمسایہ ہونے کے ناطے افغانستان میں گزشتہ 40 سال سے جاری جنگ و جدل اور بدامنی سے شدید متاثر ہوا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان، گزشتہ چار دہائیوں سے 30 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کرتا آ رہا ہے، افغانستان کو معاشی و انسانی بحران سے نکالنے کےلیے، پاکستان مسلسل عالمی برادری سے فوری امداد اور مثبت کردار کا تقاضا کر رہا ہے۔

وزیرخارجہ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان محدود وسائل کے باوجود افغان بھائیوں کی انسانی معاونت، ادویات اور خوراک کی فراہمی کے لیے حتی الامکان کاوشیں بروئے کار لانے کے لیے پر عزم ہے۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے