بدھ کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب، اپوزیشن حکومت کا ساتھ دینے پر آمادہ
نومبر 15, 2021
القمر
اسلام آباد: حکومت نے انتخابی اصلاحات سے متعلق اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور کردیئے ہیں جس کے بعد پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بدھ کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان سے ایم کیو ایم ، مسلم لیگ (ق) اور دیگر اتحادی جماعتوں کے قائدین نے ملاقات کی جس میں انتخابی اصلاحات، انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال اور دیگر معاملات پر بریفنگ دی گئی اور اتحادی جماعتوں کے تحفظات کو دور کیا گیا۔
حکومت نے وفاقی کابینہ اجلاس ملتوی کر دیا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ بدھ کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں اپوزیشن حکومت کا ساتھ دینے پر آمادہ ہے۔
واضح رہے کہ صدر مملکت نے 11 نومبر کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا اعلان کیا تھا تاہم حکومت کی اتحادی جماعتوں کی جانب سے تحفظات پر اجلاس ملتوی کردیا گیا تھا۔
ایم کیو ایم کے تحفظات دور نہ ہوسکے، مزید بریفنگ دی جائے گی۔
ایم کیو ایم کا وفد بریفنگ سے مطمئن نہیں ہوا اور حکومت نے متحدہ سے مزید مشاورت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایم کیو ایم حتمی فیصلہ مکمل بریفنگ کے بعد مشاورت سے کرے گی۔
اجلاس کے بعد تمام رہنما روانہ ہوئے تو صحافی نے ایم کیو ایم رہنما خالد مقبول صدیقی سے سوال کیا کہ کیا ای وی ایم دھاندلی روکے گی یا ڈیجیٹل دھاندلی ہوگی؟ جس پر خالد مقبول صدیقی نے جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ ابھی آدھی بریفنگ ہوئی ہے، ای وی ایم پر بریفنگ تسلسل سے جاری رہے گی۔
دریں اثنا وزیر داخلہ شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس دوپہر دو بجے بلانے کا فیصلہ ہوا ہے، اتحادیوں کے اجلاس میں وزیراعظم نے خود اتحادیوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ق لیگ کا پارلیمنٹ میں حکومت کی حمایت کرنے کا اعلان
اجلاس کے بعد مسلم لیگ قائداعظم نے حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کردیا، اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالہی نے حکومت کی حمایت کے فیصلے کی منظوری دے دی۔
اجلاس میں ق لیگ کی جانب سے وفاقی وزیر مونس الہی اور طارق بشیر چیمہ نے شرکت کی تھی۔ وفاقی وزیر مونس الہی نے اجلاس کے بعد کہا ہے کہ مسلم لیگ ق کی پارلیمانی پارٹی نے تحفظات کے اظہار کے بعد فیصلوں کا اختیار چوہدری پرویزالہی کو دیا تھا، فیصلہ ہوا ہے کہ مسلم لیگ ق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قانون سازی کو سپورٹ کرے گی۔
مشترکہ اجلاس سے قبل پی ٹی آئی پارلیمانی اجلاس طلب
تحریک انصاف نے اپنی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے دو گھنٹے قبل طلب کرلیا جس کی صدارت وزیراعظم عمران خان کریں گے۔
وزیراعظم کل کا دن پارلیمنٹ میں گزاریں گے، وزیراعظم اپنے چیمبر میں تحریک انصاف اور اتحادی ارکان سے ملاقاتیں کریں گے۔
پاکستان مسلم لیگ (ق) حکومت کی حمایت جاری کیلئے ہچکچاہٹ کا شکار
پاکستان مسلم لیگ (ق) کی پارلیمانی پارٹی نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پیٹرول کی قیمت میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ پنجاب اور وفاق میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومتوں کی حمایت جاری رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔
مسلم لیگ (ق)پنجاب کے صدر پرویز الہیٰ کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جہاں ڈالر اور پیٹرول کی قیمت میں تاریخی اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس میں صوبے کی امن و امان کی بگڑتی صورت حال کے ساتھ ساتھ بجلی کی قیمت میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
مسلم لیگ (ق) کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت عام آدمی کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت غیرضروری مسائل میں الجھی رہی تو موجودہ حالات مزید خراب ہوجائیں گے۔
پارلیمانی پارٹی نے پرویز الہٰی کو جماعت کی جانب سے فیصلے لینے کی متفقہ طور پر اجازت دے دی۔
مسلم لیگ (ق) کے پارلیمانی اجلاس میں وفاقی وزرا طارق بشیر چیمہ، مونس الہٰی، سینیٹر کامل علی آغا، اراکین قومی اسمبلی سالک حسین، حسین الہٰی، مسز فرخ خان اور اراکین صوبائی اسمبلی حافظ عمار یاسر اور باؤ رضوان بھی شریک تھے۔
اس سے قبل 13 نومبر کو مسلم لیگ (ق) نے پی ٹی آئی کی پنجاب حکومت پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شکوہ کیا تھا کہ فیصلہ سازی میں پارٹی کی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا ہے۔
چوہدری پرویز الہٰی کی زیر صدارت پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے اجلاس موجودہ سیاسی حالات پر کھل کر گفتگو کے ساتھ ساتھ حکومت پنجاب کے رویے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔
کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر کامل آغا نے کہا تھا کہ ’اتحادی ہونے کے باوجود بجٹ کے دوران حکومت نے صرف اسمبلی کے اسپیکر سے بات کی اور تب انہیں ان کی حمایت کی ضرورت تھی‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کے رویے پر متعدد شکایات موصول ہوچکی ہیں۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ وہ ابھی صرف پنجاب حکومت کے خلاف تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور انہوں نے اب تک وفاقی حکومت کے خلاف ناراضی کا اظہار نہیں کیا ہے۔
حکومت کی اتحادی جماعت کے رہنما نے کہا تھا کہ پارٹی ابھی صرف حکومت پنجاب کے خلاف تحفظات کا اظہار کر رہی ہے اور اگر ان کے تحفظات پر غور نہیں کیا گیا تو وہ دیگر سیاسی اختیارات کے استعمال کے لیے آزاد ہوں گے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کی دیگر اتحادی جماعتوں نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے ایک ٹی وی شو میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی جماعت کا حکومت پر اعتماد بکھر چکا ہے کیونکہ ایم کیو ایم، حکومت کو درست سمت میں جاتے ہوئے نہیں دیکھ رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم حکمران پی ٹی آئی کی بری حکمرانی (گورننس) کی ذمہ داری نہیں بانٹ سکتی کیونکہ اہم قومی معاملات پر انہیں کبھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
مسلم لیگ (ق) کے سیکریٹری اطلاعات کامل علی آغا نے بھی اپنی جماعت کی جانب سے اسی طرح کے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعظم نے اہم فیصلہ سازی میں مسلم لیگ (ق) سے مشاورت نہیں کی۔
انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر حکومت نے اپنے طریقے نہ سدھارے تو ہمیں حتمی فیصلہ کرنا پڑے گا۔